صبح آزادی2020

صبح آزادی2020
صبح آزادی2020

  

میری زمیں پر کئی دنوں سے 

عجیب موسم اتررہے ہیں

رتیں نا مہرباں ہونے لگی ہیں

بہاریں آبھی جائیں تو 

نہ پھولوں میں کوئی رنگ ہے

نہ خوشبو ہے 

ہوائیں چل پڑیں ابھی تو 

فضاءان سے معطر ہو نہیں پاتی 

برستی بارشیں جوایک مدت سے 

مری جان اور دل کے 

بند دروازوں کو واکرتی

مری آنکھوں کے خوابوں کو جلا دیتی 

مری سوچوں کے پنچھی آسماں کی وسعتوں میں 

بھیگنے کو چھوڑ دیتی تھیں 

جو اب آئیں 

تو شدت سے آتی ہیں 

زمینیں ،بستیاں ،فصلیں سبھی 

تاراج کر کے چھوڑ جاتی ہیں 

خزاں کے رنگ جو دل میں ہمیشہ 

نئی دنیاوں کی خواہش جگاتے تھے 

بہت محروم سے 

بے مہر سے ہونے لگے ہیں 

مگریہ کیسے ممکن ہے 

ان بہاروں اور خزاﺅں 

بارشوں اور سردیوں کے ساتھ مری عمر گذری ہے 

یہ سب تو میرے موسم تھے 

مرے اندر اترنا جانتے تھے 

یہ مجھ سے پیارکرتے تھے 

مجھے اک صبح نو کی لو بھی دیتے تھے 

مگر اب کے برس جانے کہاں سے 

کسی نے کوئی ایسا اسم پھونکا ہے 

کہ سب موسم ،سبھی منظر بدلتے جا رہے ہیں

ہوا کا تند خو ہونا تو اچھی بات ہے لیکن 

زمین نا مہر باں ہو جائے تو 

درختوں سے پرندے گھونسلے بھی چھوڑ جاتے ہیں 

زمینوں اور ان کے باسیوں سے 

کئی صدیوں کے رشتے توڑ جاتے ہیں 

تم بھی جانتے ہو گے 

پرندے کوچ کر جائیں جہاں سے 

وہاں پر نا گہانی آفتیں یلغار کرتی ہیں 

شہر ،گاﺅں ،جزیرے ،بستیاں 

ویران ہو جاتی ہیں اور پھر 

عمر بھر فریاد کرتی ہیں 

یہ سب لیکن انہی شہروں میں ہوتا ہے 

جہاں انصاف خود مصلوب ہو جائے 

جہاں مظلوم ہی معتوب ہو جائے 

جہاں نفرت ،حقارت ،بے یقینی ،بے ثباتی 

اور بے مہری ہی بس اسلوب ہو جائے 

مرے خدایا!

کوئی تو ہو جو مری زمین کو 

یقین دے دے ،ثبات دے دے 

ملامتوں اور عداوتوں کی 

تمام سوچوں کو مات دے دے 

ہماری اندر کی نفرتوں کے تمام زخمو ںپر رکھ کے مرہم

 مرے شہر کو عذاب رت سے نجات دے دے 

مری زمیں کو اک اور تازہ حیات دے دے 

مزید :

ادب وثقافت -