داسو واقعے میں افغانستان اور بھارت کا ہاتھ!

داسو واقعے میں افغانستان اور بھارت کا ہاتھ!

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ داسو حملے میں افغان انٹیلی جنس ایجنسی ”این ڈی ایس“ اور بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ ملوث ہے، تانے بانے بُننے والوں تک بھی پہنچ چکے ہیں، جائے وقوعہ سے ممکنہ طور پر خود کش بمبار کا انگوٹھا، انگلی اور جسم کے بعض دوسرے اعضا ملے ہیں،دشمنوں کو پاکستان اور چین کی دوستی اور بڑھتا ہوا تعاون ہضم نہیں ہو رہا،جبکہ دشمن داسو حملے سے پاکستان اور چین کے تعلقات خراب کرنا چاہتے تھے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ سابق چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ نے داسو واقعہ کی وجہ سے استعفا نہیں دیا۔ یہ باتیں صرف افواہیں ہیں۔ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا جاوید اقبال نے کہا کہ داسو حملے میں ملوث خود کش حملہ آور کا نام خالد عرف شیخ تھا، جو پاکستانی نہیں افغان شہری تھا،پاکستان میں معاونت کرنے والے تین ملزم گرفتار کئے جا چکے ہیں، جنہیں افغانستان سے ”این ڈی ایس“ اور ”را“ کی طرف سے مکمل معاونت حاصل تھی۔ خود کش حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی سوات سے خریدی گئی تھی، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ داسو حملے کی تحقیقات سے چینی حکام کو پوری طرح باخبر رکھا جا رہا ہے۔چین کے وفد کو جائے حادثہ پر بھی لے جایا گیا،واقعہ کی مکمل تحقیقات کی گئیں جن کے نتائج سب سے سامنے رکھ رہے ہیں،واقعہ میں ملوث ہینڈلرز کی تہہ تک بھی پہنچ چکے ہیں،تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ حملہ آوروں کا پہلا ہدف دیامر بھاشا ڈیم کی سائٹ تھی،جس میں ناکامی کے بعد انہوں نے داسو سائٹ پر حملے کئے۔

داسو واقعے کے فوری بعد تو یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ شاید یہ حادثہ ہو،لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ بہت گہری اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے بعد کیا گیا، خود کش حملہ ہے جس میں چینی انجینئروں کو نشانہ بنایا گیا اِس سے پہلے بھی مختلف پراجیکٹس پر کام کرنے والے چینی انجینئر اور فنی ماہرین قتل کئے جاتے رہے ہیں،اس لئے چینی حکومت نے اپنا وفد بھیج کر حقیقت ِ حال جاننے میں دلچسپی لی، ابتدائی چند واقعات کے بعد فوج نے چینیوں کی حفاظت کے لئے خصوصی طور پر سیکیورٹی فورس بنائی تھی،جس کے بعد یہ اطمینان تھا کہ اب شاید سازش کرنے والوں کے لئے کوئی واردات کرنا ممکن نہ ہو، کچھ عرصے تک ایسا ہوا بھی،لیکن داسو کے واقعے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ پاک چین دوستی میں رخنے ڈالنے والے اب بھی سازشوں میں مصروف ہیں۔وزیر خارجہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ دشمنوں کو پاک چین دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی،اِس لئے اب اگر وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ اس واردات کے لئے نہ صرف افغان سرزمین استعمال ہوئی، بلکہ بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیوں کا گٹھ جوڑ بھی کھل کر سامنے آ گیا تو اس کا سد ِباب کیا ہے؟کیونکہ یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے،جب دونوں ایجنسیوں کے باہمی روابط کے ثبوت ملے ہوں، پہلے بھی یہ ثابت ہو چکا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں کے لئے دونوں ایجنسیاں متحد ہیں اور مل کر وارداتیں کرتی ہیں۔یہ بات بھی سامنے آ چکی کہ خود کش حملہ آور اگر افغان باشندہ تھا، تو اس کے سہولت کار مقامی لوگ ہی تھے، گرفتار شدگان سے اس نیٹ ورک کے تانے بانے معلوم کر کے ان کا قلع قمع کرنے کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی کے بڑے بڑے واقعات پر اگر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو مقامی لوگوں کی معاونت حاصل ہوتی ہے اور جب بھی کوئی ایسا بڑا واقعہ ہوتا ہے اس کے ڈانڈے افغانستان ہی سے ملتے ہیں، تو ضرورت اِس بات کی ہے کہ کوئی ایسی حکمت ِ عملی اپنائی جائے جسے کام میں لا کر ان کو روکنا ممکن ہو۔ہر تھوڑے عرصے کے بعد کسی نہ کسی جگہ بڑی واردات ہو جانا اور اس کے بعد سراغ لگا کر اس نتیجے پر پہنچنا کہ واردات میں ”را“ یا ”این ڈی ایس“ ملوث ہے تو کوئی بڑی کامیابی نہیں، لاہور کے دھماکے میں بھی ”را“ ملوث پائی گئی، جلد ہی یہ معلوم ہو گیاکہ ملزم بھارتی ہیں ان کا مقامی سہولت کار گرفتار بھی ہو گیا، لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟ اصل مجرم تو آرام سے بھارت میں بیٹھے ہیں اور ”را“ نے اس کے بعد داسو کی واردات کر ڈالی اور ہم کوئی پیش بندی نہ کر سکے۔

بھارت کا ایک جاسوس پہلے ہی گرفتار ہے، جس نے اعترافِ جرم بھی کر رکھا ہے اور اسے موت کی سزا بھی ہو چکی ہے، لیکن اس پر عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی، جاسوسی کا جو نیٹ ورک اس نے پاکستان میں قائم کر رکھا تھا اگر اس کا مکمل قلع قمع ہو جاتا تو شائد لاہور دھماکے اور داسو جیسے واقعات نہ ہوتے، لیکن ایسے لگتا ہے کہ ہمارے دشمن ایک واردات کے بعد دوسری واردات کی منصوبہ بندی کرنے لگتے ہیں اور پھر کہیں نہ کہیں ایسا کر ڈالتے ہیں۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے اور دنیا کو تاثر یہ دے رہا ہے کہ پاکستان بھارت میں دہشت گردی کراتا ہے اسی بنیاد پر اس نے فیٹف کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور برملا اس کا اعتراف بھی کیا، اِن حالات میں بھارتی چہرے سے نقاب اتارنے کی ضرورت ہے،جو افغان ایجنسی کے ساتھ مل کر وارداتیں تو پاکستان میں کرا رہا ہے، لیکن دنیا میں بدنام پاکستان کو کر رہا ہے یہ دوہرا چیلنج ہے، جس کا بھرپور مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -