یوم آزادی، تحریک و تاریخ یاد کرنے کا دن!

 یوم آزادی، تحریک و تاریخ یاد کرنے کا دن!
 یوم آزادی، تحریک و تاریخ یاد کرنے کا دن!

  

تاریخ اور دن تو یاد نہیں، البتہ اتنا علم ہے کہ اس روز حبس تھا اور میری دادی جان کہتی تھیں، یہ بھادوں کے دن ہیں اور اس موسم میں ایسا ہی ہوتا ہے ہم ان دنوں چھت پر سوتے تھے۔ مکان ڈھائی منزلہ کہلاتا اوپر والی چھت کے نیچے ایک کمرہ اور اس کے باہر کھلا دالان تھا، پرانے طرز تعمیر کی وجہ سے گلی کی طرف ایک بڑا تھڑا تھا جسے دیسی زبان میں ”رونس“ کہتے تھے۔ میری دادی جان نے اس پر اینٹوں کے ٹکڑے جمع کر رکھے تھے، ایک طرف انگیٹھی جلا کر پانی رکھا ہوا تھا جو ابلنے کو آیا تھا، ہم بچوں کو منع کر دیا گیا تھا کہ گلی میں نہیں جانا، والد صاحب گھر نہیں تھے وہ اپنے قومی فرائض کی ادائیگی کے لئے باہر ہی رہتے اور کبھی کبھار گھر آتے تھے، میرے والد (مرحوم) چودھری احمد الدین مسلم لیگی اور مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار تھے اور تحریک پاکستان کے لئے سرگرم تھے۔ گھر کی سربراہ دادی جان تھیں اور یہ جو کچھ بھی تھا حفاظتی انتظام تھا کہ قیام پاکستان کے اعلان کے بعد فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ سکھوں کے رہنما ماسٹر تارا سنگھ نے اسمبلی ہال کی سیڑھیوں پر کرپان لہرا کر ست سری اکال کا نعرہ لگایا اور اعلان کیا، کسی مُسلے کو نہیں چھوڑنا، ہمارا گھر اکبری منڈی محلہ باغیچی صمدو میں تھا۔

اس پورے محلے میں سب گھرانے مسلمانوں کے تھے، تاہم ملحقہ محلہ کٹڑہ پور بیاں کہلاتا، وہاں سب ہندو رہتے تھے، اس کے علاوہ اکبری منڈی میں اکا دکا کے سوا باقی سب دکانیں ہندوؤں کی تھیں، تقسیم برصغیر سے قبل جب ہم لڑکے صبح صبح بازار جاتے کہ گھر کے لئے دہی لے آئیں تو ہندوؤں کی ان دکانوں کا نظارہ عجیب لگتا تھا، دھوتی کسے ہوئے کندھے پر سرخ رومال ڈالے آکر دکان کھولتے، ہر ایک کے ہاتھ میں پیتل کی گڑوی ہوتی، اس میں پانی ساتھ لے کر آتے تھے۔ پہلے دکان میں اس پانی کا چھڑکاؤ کرتے اور پھر صفائی کرکے مورتی کو پرنام کرکے اڈے پر بیٹھ جاتے تھے۔ اسی اثنا میں ایک ملنگ سا آدمی ہاتھ میں ایک لوہے کی سلاخ کے ساتھ نصب چند پیالیاں لئے آتا۔ ایک میں کوئلے دہک رہے ہوتے تھے۔وہ ہر لالہ جی کی دکان پر آتا اور کچھ پڑھتا ہوا ایک اور پیالے سے کوئی دانے سے نکال کر آگ پر گراتا اور وہاں سے دھواں اٹھتا جو وہ دکان کے اڈے اور ہاتھ لمبا کرکے دکان کے اندر تک گھماتا، لالہ جی اس کی ایک پیالی میں آنہ دو آنے ڈال دیتے اور وہ اگلی دکان کی طرف بڑھ جاتا یہ معمول تھا اور کاروبار زندگی چل رہا تھا۔ یہ ہندو جو دکان والے تھے، ان کی رہائش شہر سے کسی اور جگہ تھی۔ چند لوگ ہی کٹڑہ پوربیاں میں رہتے وہ جب ہماری گلی سے گزر کر دکان کھولنے جاتے تو ہمارے بڑوں کو پرنام کرتے گزرتے تھے۔

اس خاص شام کی تفصیل سے پہلے میں یہ عرض کر دوں کہ ہمارا محلہ اور موچی دروازہ ملحق ہیں، سرکلر باغ تو ایک ہی تھا کہ ہم کٹڑہ پوربیاں کی طرف سے باہر نکل کر اس باغ میں آکر کھیلتے تھے جو موچی دروازہ تک چلا گیا اور اس سے آگے داتا دربار (بھاٹی گیٹ) تک جانا تھا،یہ سرکلر باغ شہر کی فصیل کے چاروں طرف تھا، ہم انہی باغوں میں کھیلتے تھے، جب موچی دروازہ میں جلسے شروع ہوئے تو کھیل کے ساتھ ہماری دلچسپی جلسہ میں بھی ہو گئی تھی اور پھر یہی جلسے جلوس کی صورت اختیار کر گئے تو ایک نئی دلچسپی مل گی۔ ہم دوست بھی جلوس کے ساتھ نعرے مارتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ یہ جلوس موچی دروازہ سے گھاٹی اتر کر چیمبرلین روڈ سے ہوتا ہوا گوالمنڈی اور وہاں سے ہال روڈ کے راستے ریگل پہنچتا تھا، جلوس والے ریگل چوک سے اسمبلی کی طرف بڑھتے تو ان کا راستہ روک لیا جاتا، پولیس ان کو آگے بڑھنے میں رکاوٹ بنتی وہ رکنے سے انکار کرتے پھر تصادم ہوتا۔ ڈنڈے برستے اور بالآخر آنسو گیس بھی پھینکی جاتی، جواب میں شرکاء جلوس پتھر، اینٹوں کے ٹکڑے مارتے تھے۔ہم دوستوں کے لئے یہ ایک کھیل تھا اور ہم بھی برابر کے شریک ہوتے تھے۔ جب آنسو گیس پھینکی جاتی تو مال روڈ کے واٹر ہائیڈرنٹ کھول دیئے جاتے تھے اور ان سے نکلنے والے پانی سے کپڑے بھگو کر آنکھوں کے آنسوؤں کو صاف کیا جاتا، اکثر لوگ بڑے رومال لے کر آتے تھے اور جن کے پاس یہ رومال نہ ہوتے وہ اپنی قمیضیں، کرتے اتار کر بھگو لیتے تھے،

یہ سب اس وقت تک چلتا جب تک پھولوں کے ہار پہنے چند حضرات آگے بڑھتے اور گرفتار نہ ہو جاتے۔ ہم لڑکے ہال روڈ پر ہی بھاگے پھرتے یا کبھی کبھار بیڈن روڈکی طرف سے واپس ہوتے تھے۔ پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی وجہ سے بھگڈر تو ہوتی ہی تھی، ہم بھی بھاگ کر پتھر یا اینٹوں کے روڑے پھینکتے ہوئے واپس آتے تھے اسی دوران ایک دلچسپ بات ہوئی۔ جواب مذاق لگتی ہے، ہم ہال روڈ پر بھاگے آ رہے تھے کہ راستے میں ایک صاحب نے پوچھا کیا ہوا، ہمارا ایک ساتھی بے ساختہ بولا ”ساڈا پُلس مقابلہ ہو گیا اے“ آج جب یہ یاد آتا ہے تو ہنسی اور دکھ بیک  وقت حملہ آور ہوتا ہے، یہ جلوس سول نافرمانی تھے۔ ”لے کے رہیں گے پاکستان“ سب سے بڑا نعرہ تھا، اس کے علاوہ نعرہ تکبیر اللہ ہو اکبر بھی لگتے تھے۔ ہم ان جلوسوں میں شرکت کرتے رہے۔ ایک اور واقعہ بتا کر واپس اصلی موضوع پر آتے ہیں، ایسے ہی ایک روز جلسہ ہوا اور بعد میں جلوس بھی نکلا، یہ جلوس چیمبرلین روڈ کی طرف جانے کی بجائے سرکلر روڈ سے اکبری دروازہ اور وہاں سے دہلی دروازہ کی طرف چل پڑا۔ اس میں جو نعرہ زور سے لگا وہ یہ تھا ”تازہ خبر آئی اے، خضر ساڈا بھائی اے“ اس سے پہلے شرکاء خضر کتا ہائے ہائے کے زور دار نعرے لگا رہے تھے۔ یہ اس روز کا ذکر ہے، جب سردار خضرحیات نے وزارت اعلیٰ سے مسلم لیگ کے حق میں استعفا دیا۔

میں جس روز کا ذکر کررہا تھا، یہ انگریز حکمرانوں کی بددیانتی کے بعد کا ہے، جب گورداسپور کو ہندوؤں کے حوالے کرکے واہگہ کو سرحدبنانے کا اعلان ہوا اور ماسٹر تارا سنگھ کی للکار نے فسادات شروع کرا دیئے تھے، واہگہ پار سے مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے آنا شروع ہو گئے تھے اور ہندو ادھر سے نقل مکانی کر رہے تھے۔ مسلمان بھی خبریں سن سن کر اور آنے والے مہاجروں کی حالت زار سے متاثرہو کر مشتعل ہو گئے تھے اور لاہور میں بھی فساد پھوٹ پڑے تھے۔ اکبری منڈی کے دکاندار تو دکانوں پر آنا چھوڑ گئے تھے۔ کٹڑہ پوربیاں میں ہندوؤں پر حملہ ہوا اور چند مکان بھی جلا دیئے گئے۔ میری دادی نے بڑے تھڑے پر یہ سب یوں رکھا تھا کہ اگر ہمارے محلے پر حملہ ہوا تو اوپر سے ابلتا پانی پھینکا جائے اور فسادیوں کو اینٹیں ماری جائیں، ہمارے محلے پر تو کوئی حملہ نہ ہوا تاہم مغرب کی نماز کے بعد نعرہ تکبیر بلند ہوا زوردار نعرے تھے اور پھر مغربی طرف سے شعلے اور دھواں نظر آیا، تھوڑی دیر میں یہ اطلاع آ گئی کہ شاہ عالم مارکیٹ میں دکانوں اور مکانوں کو آگ لگا دی گئی ہے۔ یہ جوابی غضب تھا کہ واہگہ پار سے مسلسل مہاجر آ رہے اور ان کی درد بھری داستانیں،آنسو بہانے پر مجبور کر دیتی تھیں، میرے والد صاحب اور ان کے رضاکاروں کا رات دن کا چین ختم تھا، وہ آنے والوں کو سنبھالنے اور کیمپوں میں ٹھہرانے میں مصروف تھے، اسی دوران میرے والد صاحب اور ان کے دو تین رضا کار ایک دو پھیرے امرتسر کے لگا کر بھی آئے کہ وہاں مسلمانوں کو مدد کی ضرورت تھی اور ان کو کچھ اسلحہ پہنچایا گیا اور کچھ گھرانے ٹرکوں میں لائے بھی گئے۔

یہ عرض کرنے کا مقصد تو یہ ہے کہ پاکستان کا حصول سخت ترین جدوجہد اور خون کے دریا عبور کر کے ممکن ہوا تھا،  خضر حیات کا ذکر بھی یوں کیا کہ ایک طرف یہ قربانیاں تھیں تو دوسری طرف جاگیرداروں کی موقع پرستیاں کہ جب قائداعظم اور مسلمانوں کی کامیابی حقیقت بنتی نظر آئی تو وہ چھلانگ لگا کر ادھر آ گئے۔ آج ہم پاکستانی جس ابتلا سے  دوچار ہیں، اس کا تجزیہ کرنے کے لئے قیام پاکستان کی تحریک اور تاریخ کا حقیقی جائزہ لینا ہو گا کہ مقصد کیا تھا اور ہم کس غار کے اندھیرے میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں، آج یوم آزادی (14اگست) کے روز ہمیں ان شہداء کی قربانیوں کو خراج بھی پیش کرنا ہے جو جان وار گئے اور ان ماؤں کی عظمت کو سلام کہ جنہوں نے عصمتوں کی حفاظت میں جان دی اور ان کے لئے دکھ جو اغوا ہوئیں، ہمیں عبرت بھی حاصل کرنا ہوگی۔

مزید :

رائے -کالم -