”منزلِ مُراد۔پاکستان“

”منزلِ مُراد۔پاکستان“
”منزلِ مُراد۔پاکستان“

  

ڈاکٹر سیّد اختر جعفری مرحوم پنجابی زبان کے مُستند محقق، معروف مصنف اور استاد تھے۔ چند سال قبل اُن سے ایک نجی نشست ترتیب پائی۔جس میں بہت سی علمی، تحقیقی اور مزاح پر مبنی گفتگو کے علاوہ تخلیق ِ پاکستان سے جُڑی ان کی لہو آلود”آپ بُھگتی“ نُمایاں رہی۔ ہجرت کے وقت اُن کی عمر تیرہ برس تھی۔ہر طرف افراتفری کا سَماں تھا۔ پکڑ لو، مار دو جانے نہ پائے،کی آوازیں گُونج رہی تھیں۔ نہتے ہونے کی وجہ سے وہ اور اُن کے کُنبہ کے دیگر افراد بلوائیوں سے چُھپے بیٹھے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ محفوظ راستوں کی آگہی حاصل کر کے رات کے کسی پہر بجانب پاکستان رخت ِ سفرباندھیں گے۔اُن کا بھائی جواُن سے عمر میں دو سال بڑا تھا کُنبہ سے کسی وجہ سے جُدا ہو گیا۔حالات کی سنگینی اور خوف کی پَرچھائیوں کے زیرِ اثر رات کی تاریکی میں اُسے تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جوبے سُود رہی۔اس کے نو خیز عمری میں بچھڑ جانے کا غم کُنبہ کے ہر فرد کے سینہ کو چھلنی کیے جاتا تھا۔ ناکامی،بے بسی،خوف،بے یقینی اور محرومی کے مِلے جُلے احساسات کے ساتھ،رات کے پچھلے پہر جب بیشتر آبادی خوابِ راحت میں غوطہ زَن تھی،اُن کا قافلہ لڑکھڑاتے قدموں،لرزتی سانسوں،سِسکیاں لیتے، ایک دوسرے کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے، وصیّت سے لبریز الفاظ کاتبادلہ کرتے روانہ ہوا۔

سورج کی پہلی شُعاع کے طُلوع سے قبل اُن کا گزر ایک تباہ حال ٹرک کے پاس سے ہوا۔دیکھا تو اُس کے نیچے اُن کے بچھڑے ہوئے بھائی کی خنجروں سے مضروب لاش پڑی تھی۔شدّت غم و دَردسے زبان سے اُٹھتی ہوئی بے لگام چیخوں کا گلا پوری اِستقامت سے گھونٹتے ہوئے اُنہوں نے وہیں پر ایک گڑھا کھودکر ”معصوم جوانی“ کو زمین کے سپرد کر دیا۔آنکھوں سے ٹپکتے آنسوؤں کے ساتھ قبر کو مُڑ مُڑ کے دیکھتے جاتے۔ بھائی اور دیگر عزیزوں کے بچھڑنے کا غم، اپنے مال و متاع اور جنم بھومی کے ہجرِ مستقل کا بار اُٹھائے، اَنگ اَنگ میں بھری تھکن سمیٹے ”منزلِ مُراد پاکستان“ پہنچنے میں سرخرو ہوئے۔

کہنے کو تو ڈاکٹر سیّد اَختر جعفری مرحوم کے ساتھ رُونما ہونے والا یہ محض ایک واقعہ ہے اور پڑھنے والا اسے محض ایک واقعہ کے طور پرہی پڑھ کردیگر ہزارہا معمولاتِ حیات میں محوِکار ہو جاتا ہے۔لیکن جس پر گزری،جیسے گزری، اُس کے لمحہ لمحہ سے اذیتوں میں ملبوس لہو ٹپک رہا ہے۔ہم کچھ اہل ِ وطن، نصابی ضرورت کے تحت مطالعہ پاکستان پڑھتے اور پڑھاتے ہیں۔کچھ اپنی تقاریر کے لئے جذباتی اور موثر کن مواد کی دستابی کے لئے تحریک پاکستان کا مطالعہ کرتے ہیں۔ بلاشبہ کچھ احباب ان دونوں صورتوں سے قطع نظر اپنے شوقِ مطالعہ کی سیرابی کے لئے بھی ورق گردانی کرتے ہیں۔ ہمیں خود سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم میں سے کتنے احباب ایسے ہیں،جو مندرجہ بالا ضرورتوں کے تحت مطالعہ کے دوران الفاظ میں بیان کردہ تقسیم کے وقت برپا ہونے والی جملہ کیفیتوں کو اسی طرح محسوس کرتے ہیں جیسے وہ برپا ہوئیں۔کتنا آسان ہے یہ کہنا یا پڑھنا کہ تخلیق ِ پاکستان کی بنیادوں میں ہماری بہنوں کی عصمتوں کی چادریں،بلکتے ہوئے بچوں کی چیخیں،جوان اولاد کے جسموں سے ٹپکتے لہوکی بوندیں،بوڑھے والدین کی سِسکیاں، ماؤں کے نوحے اور بھائیوں کی بے بسی دفن ہے۔ایسے الفاظ کو ہم معمول کے الفاظ سمجھتے ہوئے پڑھتے ہیں اور وَرق اُلٹ دیتے ہیں۔اگرلحظہ بھر کے لئے ایسے ایک ایک لفظ پر رُک جائیں،آنکھیں بند کر لیں اور اپنی سوچ کے قدم اُس مقام پر لے جائیں،جہاں یہ سب کچھ ہو رہا تھا،تو عین ممکن ہے کہ ہماری آنکھیں بھی نَم ہو جائیں،ہمارے سینے سے بھی ہُوک اُٹھے،ہمارا ذہن بھی بے بسی،خوف، قربانی اور جذبہ ِ حُبّ الوَطنی سے روشناس ہو۔

ذرا تصویر تقسیم ہند پر نظر تو ڈالیے۔ اُمید، بے یقینی اورحسرت کا مِلا جُلا منظر آنکھوں کے سامنے اُبھرتا ہے۔جہاں کسی کے سَرپر لوہے کا صندوق، کسی کے سَر پر چارپائی،بھینس کی پُشت پر ننگے بدن معصوم بچے، سَرپرٹوکری میں رکھی بوڑھی والدہ،کندھوں پر اَٹھکھیلیاں کرتی ہوئی بیٹی اور اسی طرح دیگر بارِ گراں کندھوں پر رکھے قافلے ایسے بھاگے بھاگے پاکستان کی طرف رواں دواں تھے جیسے وہاں پہنچتے ہی ہم مذہب اُن کے سَروں کے بوجھ اتار لیں گے،اُنہیں سینوں سے لگا لیں گے اور یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ اُن کا ہجرت کا فیصلہ درست سمت میں ہوا ہے۔

آج قیامِ پاکستان کو چوہتر سال بیت چُکے ہیں۔مگر کسی اورسے نہیں خُود سے پُوچھنا ہے کہ کیا ہم آزادی کے مفہوم کو سمجھ پائے ہیں۔ اگر صاف دل سے بات کی جائے تو ہمارے سامنے ایک اُجلا سا منظر اُبھرتا ہے جس میں دو طرح کی تصویریں ہیں ایک وہ جنہوں نے قیامِ پاکستان کو اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے حصولِ دولت اور مسند ِ اقتدار کے حصول کا موقع جانا اور دمڑی کے مالک ہوتے ہوئے کارخانوں، ملوں اور فیکٹریوں کے مالک بننے کے ساتھ ساتھ اقتدار کی سیڑھی پر چھلانگیں لگاتے چڑھ گئے۔یہاں تک کہ کئی ایک تو شیرِ پنجاب کہلائے۔مگر وہ جنہوں نے اپنا سب کچھ ”منزلِ مُراد پاکستان“ کے لئے قربان کر دیا۔ اُن میں سے کوئی توآج سَرچھپانے کے لئے چھت کو ترستا ہے، کوئی دو وقت کی روٹی کے لئے دریُوزہ گری پر مجبور ہے۔کسی کے پاس کرنال کے نواب اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم کی اولاد ہونے کے باوجود دوا خریدنے کے لئے دمڑی بھی نہیں ہے۔کاش ہم آزادی کا مفہوم سمجھ سکیں،جس کا خلاصہ فقط قربانی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -