ہماری آزادی اور ہمارا مزاجِ غلامی

ہماری آزادی اور ہمارا مزاجِ غلامی

  

14اگست1947ء کو ہم نے جو آزاد ریاست پاکستان حاصل کی، وہ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ کیا میری آزادی محض رنگ برنگے، من پسند، جھنڈوں جھنڈیوں کو بنانے، بیچنے، خریدنے، لہرانے اور پھر اِدھر اُدھر یوں ہی ڈال دینے ہی تک محدود ہے؟ چند سرکاری، نیم سرکاری، غیر سرکاری اجلاس و تقاریب کا انعقاد ہی میری آزادی ہے؟15اگست سے لے کر 13اگست تک سال کے بقیہ364 دِنوں میں مجھے بھلائے رکھنے کا نام آزادی ہے؟ جھوٹ،رشوت، ستم بالائے ستم، غریب کشی، ظالم کی بالادستی، مظلوم کی بے کسی، حق دار کی محرومی، ناحقدار کی چیرہ دستی……کیا یہ آزادی ہے؟مذہب و سیاست کے نام پر لوگوں کو خانوں میں بانٹ کر گروہی و طبقاتی غلامی میں جکڑے رکھنا، کیا آزادی ہے؟ اگر یہی آزادی ہے تو پھر غلامی کس کو کہتے ہیں۔ مَیں پاکستان ہوں اور پوچھتا ہوں کہ میری آزادی کو ان غلامانہ لعنتوں سے دوچار کرنے کا حق تمہیں کس نے دیا ہے؟کیا تم لوگوں کو میرا اور میری آزادی کا ذرا بھی لحاظ نہیں رہا۔!؟

جس بدیسی کو نکالنے اور جن غلام قوانین کو منسوخ کر کے غرقابِ آبِ فنا کرنے کے لئے ہمارے اکابرین، اسلاف، آباء و اجداد نے تن، من، دھن اور جانوں تک کی بازی لگا دی،اُسی بدیسی کی غلامی اور انہیں ظالمانہ قوانین کے نفاذ کو آج ہم نے اپنا شعار و معیار کیوں بنا رکھا ہے؟ اسلام کو نافذ کرنے اور حقیقی اسلامی آزادی کا عملی نمونہ پیش کرنے کا اقدام تو کجا ہم میں سے بیشتر تو وہ ہیں جنہیں اسلام سے،باوصف ِ مسلمانی ئ خاندانیہ و وراثتیہ، کماحقہ‘ آگہی تک میسر نہیں ہے۔پیدائشی مسلمان ہیں، مگر اغیار سے بدتر ہو کر رہ گئے ہیں۔

”یہ مسلماں ہیں؟ جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود!“

مَیں پاکستان،اپنے ربِ کریم اللہ سے دُعا گو ہوں کہ مجھے اغیار کے طرزِ فوقیت و قوانین کی بجائے اسلامی ریاست و قوانین کی نعمت سے نواز دے۔ میرے اہل ِ وطن کو، عالم اسلام کے اہل ِ وطن کا حقیقی وجود عطاء فرما دے۔مجھے اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، لہٰذا اسلام ہی کے لئے مجھے میدانِ عمل ِ اسلامیہ بنا دے، آمین ثم آمین! میرے چپے چپے، بچے بچے پر اسلام کا نفاذ فرما دے۔آمین ثم آمین!!!

مزید :

رائے -کالم -