یوم آزادی: دو قومی نظریے پر ایک نظر(1)

یوم آزادی: دو قومی نظریے پر ایک نظر(1)
یوم آزادی: دو قومی نظریے پر ایک نظر(1)

  

قیام پاکستان کے فوراً بعد قائداعظم محمد علی جناحؒ نے امریکی سفیر پال النگ  سے کہا تھا کہ وہ  پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ایسی ہی قرابت داری چاہتے ہیں جیسی امریکہ اور کینیڈا کے درمیان ہے۔قائداعظم کی یہ بات جہاں ان کے ذہن میں ہندوستان سے تعلقات کی نوعیت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے، وہاں دو قومی نظریے کو سمجھنے میں بھی رہنمائی کرتی ہے۔ عجب اتفاق ہے کہ امریکہ اور کینیڈا بھی تقریبا اسی طریقے سے وجود میں آئے جیسے ہندوستان اور پاکستان۔امریکہ نے برطانیہ کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرکے آزادی حاصل کی، جبکہ کینیڈا کی سرحدوں کا تعین برطانیہ نے کیا۔ دونوں ملکوں  میں مختلف النوع لوگ  آباد ہیں اس لحاظ سے ان  کی ہیئت ترکیبی تقریبا ایک سی ہے، لیکن پھربھی وہ دو قوموں اور ملکوں کے طور پراچھے ہمسائیوں کے طور پر رہ رہے ہیں۔

انگریزوں نے تجارت کے نام پر پہلی نوآبادی شمالی امریکہ میں 1607ء میں قائم کی تو 1608ء میں ان کے تجارتی جہاز ہندوستان میں سورت کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہو گئے۔ براعظم شمالی امریکہ میں انہوں نے دیگر نوآبادیاتی آباد کاروں سپین اور فرانس سے جنگ میں کامیابیاں حاصل کر کے 1763ء میں کینیڈا پر قبضہ کیا تو ہندوستان میں ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی اختیار کر کے 1758ء میں بنگال پر قبضے کے لئے پلاسی کی جنگ جیت کر آگے بڑھنے کے لئے راہ ہموار کرلی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا میں ہرطرف بادشاہتیں قائم تھیں اور قوم اور ریاست کا نظریہ اندر ہی اندر پنپ رہاتھا۔بہرحال اس کے بعد کے عرصے میں جب تک انگریز یہاں سے گئے فرانس کے انقلاب اور امریکہ کی آزادی سمیت بہت سی اہم تبدیلیاں آئیں، جنہوں نے پوری دنیا پر اپنے اثرات مرتب کئے، جن کے نتیجے میں برطانیہ میں جمہوریت کی راہ ہموار ہوئی اور اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں جمہوری نظام متعارف ہونا شروع ہو گیا۔یہ سلسلہ جاری رہا اور جب انگریز یہاں سے گئے تو برطانیہ میں مکمل طور پر جمہوریت آ چکی تھی اور برصغیر میں بھی بڑی حد تک  وہی جمہوری پارلیمانی نظام رائج ہوگیا تھا۔

 اپنے اقتدار کو مضبوطی سے قائم رکھنے کے لئے ہندوستان کوایک سیاسی اکائی کی حیثیت بھی  انگریزوں نے ہی دی تھی۔ یہ کامیابی وہ نقل و حمل کے جدید ذرائع  ریل تار فون جہاز  وغیرہ جیسی ایجادات کی مدد سے حاصل کرسکے  ورنہ اس سے قبل انڈیا  صرف جغرافیائی اکائی کے طور برصغیر کی حیثیت سے جانا جاتا تھا جس میں بادشاہت سمیت متعدد ریاستیں تھیں۔

انگریزوں کا اقتدار کمزور ہونے پر ان کے واپس جانے کی صورت میں جمہوری نظام حکومت کے تحت نئی سیاسی اکائی میں اقتدار کی منتقلی کا معاملہ درپیش ہوا تو اس میں ایک بڑی پیچیدگی سامنے آ گئی۔یہ الجھن آبادی کے اس بڑے طبقے کے سبب پیدا ہو ئی، جس کا تعلق مسلمان حکمرانوں سے تھا، جن سے انگریزوں نے اقتدار حاصل کیا تھا۔یہ طبقہ  تعداد کے لحاظ سے نہ صرف کمزور پوزیشن میں تھا   بلکہ اسے ہندو اکثریت کے جبر کاخوف بھی تھا۔ اس  کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انگریزوں نے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی کے تحت ہندووں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے  انہیں نہ صرف ہر لحاظ سے طاقتور بنانے کی کوشش کی تھی،بلکہ انہیں مسلمانوں کو دبا کر رکھنے کے لئے بھی استعمال کیا گیا تھا۔ہندو اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف صف آرا کرنے کے لئے دہائیوں پر پھیلی یہ اس حد تک سوچی سمجھی اور منظم  کارروائی تھی کہ اس مقصد کے لئے انگلستان سے تاریخ دان درآمد کئے گئے،

جنہیں یہ ذمہ داری سونپی  گئی کہ وہ مسلمانوں کو ظالم اور جابر حکمران کے طور پر پیش کریں، جنہوں نے ہندوؤں کے عقائد اور ثقافت کو نقصان پہنچایا  اور انگریزوں کو ہندوؤں کے محسن کے طور پر اُجاگر کریں، جنہوں نے انہیں مسلمان حکمرانوں سے نجات دلائی۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر منان احمد آصف نے کچھ عرصہ قبل  اپنی کتا ب ”اے بک آف کونکسٹ“ میں یہ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ انگریز تاریخ دانوں نے جھوٹے شواہد پیش کرکے یہ فریضہ بخوبی انجام دیا اور پھر یہی تاریخ ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئی،جس کے اثرات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔اس تناظر میں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے  جو آبادی کا تقریباً ایک تہائی تھے عدم تحفظ کا احساس ایک قدرتی امر تھا۔ دوسرے یہ کہ ہندوؤں کی، جس اکثریتی آبادی کو اقتدار منتقل ہونے کا امکان تھا اس کے مذہبی عقائد میں ذات پات کی اونچ نیچ جیسی درجہ بندیاں اس حد تک شامل تھیں کہ ہندوستان کے معروف قانون دان اور سیاسی رہنما  امبیدکر نے جو دلت ہندوؤں کے انتہائی مقبول رہنما تھے ببانگ ِ دہل اور تحریری طور پر یہ بات کہی  تھی کہ  ایسی مقدس کتابوں کو جلا کر نیست ونابود کردینا چاہیے، جو انسانوں میں پیدائشی تفریق کی قائل ہوں۔ امبیدکر خود بھی بالآخر 1955ء میں ہندو مذہب چھوڑ کر اپنے پانچ لاکھ ساتھیوں کے ہمراہ بدھ مت کے پیروکار بن گئے تھے۔

ہندوستان میں ایک صدی سے زائد عرصے پر پھیلا ہوا یہ وہ وپس منظر تھا، جس میں مسلمانوں کے رہنما محمد علی جناح ؒنے جو شروع میں ہندو اکثریت کی جماعت کانگریس کے رکن بنے تھے کوشش کی تھی کہ مسلمانوں کے حقوق کو ہندوستان کے مجوزہ آئین میں ایک تہائی آبادی کے لحاظ سے تحفظ حاصل ہو جائے۔ انہیں اپنی کامیابی کی اس وقت تک بے حد امید تھی جب تک کانگریس کی سیاست میں موہن داس گاندھی نے جو مہا تما گاندھی کے نام سے جانے جاتے ہیں سیاست میں ہندو مذہب کو متعارف نہیں کروایا تھا۔گاندھی جی جنہوں نے پاکستان کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے اپنی جان بھی نچھاور کر دی اپنی دانست میں بڑے خلوص سے مذہب کو سیاست میں لائے تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہرانسان وہ ماورائے انسانی خوبیاں اختیار کرلے، جن کی تعلیم ان کے مذہبی صحیفے دیتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ  مذہبی بنیادوں پر ذات پات کی اس پیدائشی تفریق کے بھی قائل تھے، جس میں مسلمانوں کا درجہ سب سے نچلی ذات کے برابر ہے۔امبیدکر نے تو اس تفریق کے خلاف بغاوت کے طور پر ہندو مذہب ہی چھوڑ دیا، لیکن مسلمان کہاں جاتے؟چنانچہ مذہبی رنگ کے ہمراہ کانگریس میں تنگ نظری در آنے پرجہاں مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہونا شروع ہوگیا وہاں محمد علی جناحؒ پر بھی کانگریس کا دائرہ تنگ ہونے لگا۔

مسلمانوں کی مشکلات کے باعث مسلم لیگ نے زور پکڑنا شروع کیا۔ محمدعلی جناح کیونکہ ہندوؤں اور مسلمانو ں کے شانہ بشانہ چلنے میں ہی دونوں کا فائدہ سمجھتے تھے۔اس لئے وہ مسلم لیگ کو کانگریس کے قریب لانے کے لئے اس میں بھی شامل ہو گئے۔ ان کی ان ہی کوششوں کی بنا پر انہیں ہندو مسلم اتحاد کا سفیر کہا جانے لگا۔ وہ بیس سال تک کانگریس سے وابستہ رہے، لیکن بالاخر کانگریس قیادت کی تنگ نظری اور تنگ دلانہ رویے کے نتیجے میں انہیں کانگریس چھوڑنی پڑی۔ کانگریس کی اس خرابی کا ذکر پاکستان میں ہندوستان کے پہلے ہائی کمشنر سری پرکا سابھت نے جو مدراس میں کانگریس کے جنرل سیکرٹری بھی رہے تھے اپنی یاد داشتوں میں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان دراصل کانگریسی قیادت کی تنگ نظری اور تنگ دلانہ رویے کے باعث وجود میں آیا۔      (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -