یہ دیس!

یہ دیس!

  

اس دیس کی مٹی پہ تقدّس کی جِلا ہے

یہ پاک وطن ربِ محمدؐ کی عطا ہے

پرچم نہ ہو کیوں اس کا نگاہوں کی طراوت

رنگ اس کا رخِ گنبدِ خضرا پہ گیا ہے

ابھرا ہے ہلال اس کا سرِ مطلعِ ملّت

ادبار کا چھاپا تھا اندھیرا جو، دبا ہے

تارے نے سجائی ہے جو آغوشِ مہِ نَو

دونوں کی ضیاؤں کا یہ پیمانِ وفا ہے

دنیا کے خرابے میں جو ہے کذب سے معمور

یہ دینِ محمدؐ کی صداقت کی صبا ہے

پیکر ہے مرے دیس کا، اسلام میں ملبوس

جو پیرہن اس کا ہے وہ جنت کی قبا ہے

اس شورشِ باطل میں جو ہے ایک تعفّن

خوشبو سے لدی، کلمہئ طّیب کی صدا ہے

جو نور کہ پھوٹا تھا سرِ وادیئ فاراں 

ظلمت کدہ دہر میں یہ اس کی ضیا ہے

جھیلا تھا ستم ہم نے غلامی کا جو صد سال

اللہ کی جانب سے اسی کی یہ جزا ہے

لی اس نے جو انگڑائی تو جغرافیہ بدلا

تاریخِ مسلماں کی یہ کیا خوب ادا ہے

ہیں اس کے عدو، ظلم کے سارے ہی ہوا خواہ

اکھڑی بسبب اس کے، جو ان سب کی ہوا ہے

تکبیر ہی کا غلغلہ ہے اس کے لئے سانس

اس سانس سے اس ملک کی وابستہ بقا ہے

ہر نعرہ یہاں اٹھا ہے جو اس کی بقا کا

اک تیر ہے جو سینہئ اعدا میں گڑا ہے

صد حیف! کہ اپنوں ہی کی غفلت سے یہ گلزار

شعلوں میں گھرا آج ہے، سانپوں سے بھرا ہے

شعلوں کو بنا راکھ، ہر ایک سانپ کو رسّی

مولا! مری دھرتی کی زباں پر یہ دعا ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -