سودے بازی کی بجائے طویل مدتی، باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری چاہتے ہیں، پاکستان 

  سودے بازی کی بجائے طویل مدتی، باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری چاہتے ہیں، ...

  

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں افغان سر زمین کا استعمال ہونا افسوسناک ہے۔جمعہ کو وزارت خارجہ میں مشاورتی کونسل برائے امور خارجہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین، مشیر تجارت رزاق داؤد، وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سپیشل سیکرٹری رضا بشر تارڑ، ماہرین امور خارجہ، سابق خارجہ سیکرٹریز وسفراء   اور دیگر اراکین کونسل نے شرکت کی۔اجلاس میں افغانستان کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال سمیت اہم سفارتی امور پر مشاورت کی گئی۔وزیر خارجہ نے داسو واقعے کی تحقیقات میں اب تک سامنے آنے والی پیش رفت سے اراکین کونسل کو آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں افغان سر زمین کا استعمال ہونا، افسوسناک ہے۔پاکستان، خطے میں تعمیر و ترقی اور روابط کے فروغ کیلئے کیلئے، قیام امن کو ناگزیر سمجھتا ہے۔افغانستان میں اگر صورتحال مزید خراب ہوتی ہے تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا،مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہ کاوشیں جاری رکھنے کیلئے پر عزم ہے۔اجلاس میں، مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال اور دیگر اہم سفارتی امور کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تمام ایسے فیصلے کریگا اور ان پالیسیوں پر کاربند رہے گا جس میں اس کا قومی مفاد ہے اور جن سے علاقے میں اور اس کے باہر امن و خوشحالی میں مدد مل سکتی ہے۔اسلام آباد میں اپنی ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکہ کو اپنا دوست سمجھتے ہیں اور علاقے میں اور اس کے باہر امن و خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لئے اس کے ساتھ وسیع البنیاد تعلقات کے خواہاں ہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان قریبی تعاون پر مبنی تعلقات کی ایک تاریخ ہے، جس سے دونوں ملکوں کے باہمی مفادات کو فائدہ پہنچا۔ افغان امن عمل سمیت کئی بنیادی مسائل پر دونوں ملکوں کا نکتہ نظر اور مفادات ایک جیسے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں اور دونوں ملک افغانستان میں امن چاہتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ افغانستان تنازعے کے ایسے وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل کی حمایت کرتے ہیں جو افغان قوم کے ذریعے اور اْن کی سربراہی میں ہو۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان سودے بازی کے تعلقات کے بجائے طویل مدتی، وسیع البنیاد، جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری چاہتا ہے۔ پاکستان نے اس بات کا کئی مرتبہ اعادہ کیا ہے کہ ہمیں دوسرے ملک کے نکتہ نظر کے مطابق جانچا جائے نہ ہمارے تعلقات کا تنگ نظری سے جائزہ لیا جائے۔

شاہ محمود قریشی

مزید :

صفحہ آخر -