آزادی کی قدر کرنی چاہیے،پاکستان فورم میں شوبز شخصیات کا اظہار خیال 

آزادی کی قدر کرنی چاہیے،پاکستان فورم میں شوبز شخصیات کا اظہار خیال 

  

لاہور(حسن عباس زیدی) بزرگوں کی بے پناہ قربانیوں کے صلے میں ہمیں پیارا وطن پاکستان نصیب ہوا ہے۔ہمیں اپنی آزادی کی قدر کرنی چاہیے آزادی کیا ہے یہ کشمیریوں اور فلسطین میں بسنے والے لوگوں سے پوچھیں۔موقع پر ہمیں مل کر عہد کرنا چاہیے کہ ہم پاکستان کو جنت نظیر بنانے کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کریں گے اور ایسے لوگوں کا انتخاب کریں گے جو ملک کی ترقی کیلئے کام کریں اور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی ذمہ داری بھی پوری کریں۔ نہایت افسوس کا مقام ہے  جس نوجوان نے کل ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہے وہ مناسب راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے تباہی کے کنارے پہنچ گیا،آج کے نوجوانوں کی اکثریت بے مقصد زندگی گزار رہی ہے۔پاکستان کے قیام کو 74برس گذر چکے ہیں لیکن ابھی تک ہم اپنے ملک کو شاعر مشرق علامہ اقبال اور بانی پاکستان قائد اعظم کا پاکستان نہیں بناسکے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان فورم میں گفتگو کرتے ہوئے فلمی صنعت سے وابستہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے کیا۔اس فورم میں شرکت کرنے والوں میں فلم فیڈریشن آف پاکستان کے چیئر مین اچھی خان،سینئر ڈائریکٹرز مسعود بٹ،عظمت نواز،فلمساز غلام محی الدین المعروف گوگا لاہوریا، تدوین کا ر زیڈ اے زلفی،جونی ملک، اداکار سیف علی خان،محمد اکرم،موسیقار اشفاق علی، اداکار ڈیشی خان،عمران ساحل شمشاد،الیاس رانا اور عبد اللہ چلی نے شرکت کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اچھی خان نے کہا کہ آزادی جیسی نعمت کی قدران لوگوں سے پوچھی جانی چاہیے جو آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں،کشمیر اور فلسطین جیسے ملک آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں  مسعود بٹ نے کہا کہ آج ملک میں کرپشن،بدامنی اوربد دیانتی اور نفسا نفسی کا راج ہے۔سیاستدان نوجوانوں کو ووٹ کے لئے تو استعمال کرتے ہیں لیکن ان میں قومی شعور اجاگر کرنے کی کوشش بالکل نہیں کرتے جس کا نتیجہ ہے کہ ہمارا نوجوان شتر بے مہار بن کے رہ گیا ہے۔غلام محی الدین المعروف گوگا لاہوریا نے کہا کہ ہر سال کی طرح تمام لوگ یوم آزادی ملک کے نغمے تو گائیں گے لیکن اس کی ترقی میں عملی کردار کے لئے کچھ نہیں کریں گے۔ ہمیں آزادی کی قدر کرنی چاہیے،مگر صد افسوس کے ہم آج بھی لڑائی جھگڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔اداکار سیف علی خان نے کہا کہ آزادی کی اہمیت ان لوگوں سے پوچھیں جنہیں یہ نعمت نصیب نہیں ہے ڈیشی راج اور عمران ساحل نے کہا کہ ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بڑوں نے پاکستان کو بنتے دیکھا۔ہم نے اپنی بزرگوں سے سنا ہے کہ پاکستان کو کس طرح حاصل کیا؟ اس کیلئے کتنی قربانیاں دیں؟ ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا چاہیے کہ پاکستان بنانے کیلئے ہمارے بڑوں نے کتنی طویل جدوجہد کی یہ انہی کی جدوجہد کا ثمر ہے کہ  جونی ملک نے کہا کہ ہم لوگ آزادی کا جو مطلب14اگست والے دن لیتے ہیں اس کا مطلب ہرگزوہ نہیں ہے،اس قومی دن پر ہمیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ہم پاکستانی ہیں کیونکہ دنیا بھر کی نظریں ہم پر ہوتی ہیں اس لئے ہمارا ہر عمل ذمہ داری والا ہونا چاہیئے۔زیڈ اے زلفی نے کہا کہ گر ہم لوگ مخلص ہوکر اپنے ملک کے لئے کام کریں تو یہ ملک دنیا میں سب سے آگے ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا  عبد اللہ چلی نے کہا کہ جشن آزادی منا لینا ہی کافی نہیں بلکہ ہمیں اس دن کی روح کو سمجھنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ آخر الگ ملک حاصل کرنے کی ضرور کیوں پیش آئی؟ الیاس رانا نے کہا کہ جشن آزادی پر ملک میں سبز ہلالی پرچم ہر طرف دکھائی دیتا ہے۔   جس طرح ہم اس ایک دن پر اکٹھے ہوتے ہیں کیا سارا سال اسی طرح متحد نہیں رہ سکتے؟لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے سیاستدان اپنے اپنے مفادات کی بنا پر قوم کو اکٹھا ہونے ہی نہیں دیتے۔اداکارہ،ماڈل وپرفارمر قتالہ سٹیج گلوکارہ میگھانے کہا کہ آزادی ایک نعمت ہے ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے عظمت نواز،موسیقار اشفاق علی،محمد اکرم شمشاد اور دیگر نے بھی ملے جلے خیالات کا اظہار کیا۔

پاکستان فورم 

مزید :

صفحہ آخر -