طالبان 19صوبوں پر قابض، غنی حکومت کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست، ناروے، کینڈا ڈنمارک کے کابل میں سفارتخانے بند

    طالبان 19صوبوں پر قابض، غنی حکومت کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی ...

  

کابل(مانیٹر نگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)طالبان نے افغانستان کے 19صوبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے،افغانستان کے تمام صوبوں کی کل تعداد34ہے اورتازہ صورتحال کے مطابق افغان طالبان کو اب ملک کے تمام صوبوں میں سے آدھے سے زیادہ پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے،ایک اورپیشرفت میں ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان جنہوں نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھاتے تھے نے جمعہ کو اپنے آپ کو طالبان کے حوالے کر دیا،طالبان نے اسماعیل خان کی وڈیواورتصاویر میڈیا کو جاری کردیں،طالبان کے کنٹرول میں جانے والے شہروں میں نیمروز،جوزجان،،سرپل، تخار،قندووز،سمنگان،،فراہ، بغلان، بدخشان، غزنی،ہرات12 بادغیس،قندھار،ہلمند،غور ،اروزگان زابل،لوگر، پکتیا شامل ہیں۔ادھرافغان سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کے روز تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے طالبان نے جنوبی افغانستان کے صوبے ھلمند کے صدر مقام لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا۔ طالبان نے وسطی افغانستان کے صوبے غور پر بھی کسی مزاحمت یا لڑائی کے بغیر قبضہ کر لیا ہے۔ شہر کا کنڑول سنبھالنے کے بعد طالبان نے وہاں متعین افغان فوجیوں، سیاسی عمائدین اور کابل حکومت کو جوابدہ انتظامیہ کے عہدیداروں کو حفاظت کے ساتھ علاقے سے نکلنے کی اجازت دے دی۔ایک اعلی سکیورٹی عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طالبان نے لشکر گاہ کو خالی کروانے کا فیصلہ کیاجس کے بعد پھر وہاں 48 گھنٹے کے لیے فائر بندی کا اعلان کر دیا گیا تاکہ اشرف غنی کی حامی فوج اور سول انتظامیہ کے عہدیدار کو شہر سے باہر جانے کا محفوظ راستہ دیا جا سکے۔۔ادھر طالبان نے افغانستان کے دوسرے اہم ترین شہر قندھار کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا۔غزنی اور ہرات مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں جا چکے ہیں جس کے بعد طالبان کے زیر قبضہ صوبوں کی تعداد 19 ہو گئی ہے.۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق صوبے اروزگان کا دارالحکومت ’ترین کوٹ‘، صوبے لوگر کا دارالحکومت ’پل علم‘ اور صوبے زابل کا دارالحکومت ’قلات‘ بھی طالبان کے کنٹرول میں چلے گئے۔۔عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے افغان صدر اشرف غنی کے آبائی صوبے لوگر کے دارالحکومت ’پل علم‘  کو کنٹرول میں لینے کے بعد گورنر اورشہری خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو گرفتار کرلیا۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ لوگرمیں افغان فورسز نے 12 گھنٹے تک مقابلہ کیا لیکن اس کے بعد طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔صوبہ لوگر افغان دارالحکومت کابل سے 80 کلومیٹر دور ہے اور یوں طالبان افغان دارالحکومت کے قریب پہنچ چکے ہیں۔اروزگان کے گورنرافغان فورسز کے ہتھیار ڈالنے کے بعد کابل جانے کیلئے ائیرپورٹ روانہ ہوگئے۔ہرات میں طالبان سے بر سرپیکار ملیشیا کمانڈر اسماعیل خان، گورنر ہرات اور صوبائی پولیس چیف کو طالبان نے گرفتار کر لیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق طالبان کا شدید ترین مخالف کمانڈر اسماعیل خان کو گرفتار کر لیا گیا۔اسماعیل خان کے ہمراہ لڑنے والے 207 کمانڈوز نے بھی ہتھیار ڈال دیے۔ طالبان نے قیدیوں کو نقصان نہ پہنچانے اور ان سے عزت کے ساتھ پیش آنے کی یقین دہانی کرادی۔طالبان نے ہرات ائیرپورٹ سے بھارتی لڑاکا طیارہ بھی قبضے میں لے لیا۔ اس سے پہلے قندوز ائیر پورٹ سے بھارتی ہیلی کاپٹر طالبان کے ہاتھ آیا تھا۔ دوسری طرف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے طالبان سے سفارتخانے پر حملہ نہ کرنے کی گارنٹی مانگ لی ہیافغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کے ملک سے فرار ہونے کی اطلاعات موصول  ہوئی ہیں۔ افغان میڈیا نے  بتایا کہ افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح کابل سے فرار ہو گئے ہیں، امراللہ صالح گزشتہ رات تاجکستان چلے گئے ہیں اور وہاں سے ویڈیو پیغام میں آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے تاہم افغان حکومت کی طرف سے امراللہ صالح سے  امریکا نے افغانستان سے فوجوں کے انخلائکے بعد اپنے سفارتی عملے اور شہریوں کو نکالنے کے لیے ایک بڑا آپریشن شروع  کردیاہے جس کے لیے کابل ایئرپورٹ پر 3 ہزار فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے. امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے متعلق امریکی محکمہ دفاع نے بھی تصدیق کردی ہے امریکی فوجی 24 سے 48 گھنٹے میں ذمے داریاں سنبھال لیں گے۔ترجمان پینٹا گون جان کربی کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں افغانستان میں 3 انفینٹری بٹالینز کو بھیجا جائے گا دو دن میں امریکی فوجی دارالحکومت کابل پہنچ جائیں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ بھی اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے 600 فوجی افغانستان میں تعینات کرے گا۔ دریں اثناء  کینیڈا نے بھی  کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کے لیے اسپیشل فورسز بھیج دی ہیں جبکہ ڈنمارک نے بھی کابل میں اپنا سفارخانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ خبرایجنسی کی رپوٹ کے مطابق اسپیشل فورسز کینیڈین عملے کو بحفاظت افغانستان سے واپس کینیڈا لے کر جائے گی۔دریں اثنا امریکا کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ دوحہ مذاکرات میں افغان شہروں پر حملے فوری بند کرنے اور سیاسی تصفیے پر اتفاق کیا گیا ہے، تمام ممالک کے نمائندے اس بات پر متفق ہیں پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے۔ ا، امن عمل کو تیز کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے زور دیا کہ فریقین فوری جنگ بندی کے لیے اقدامات کریں۔پاکستان نے بھی افعانستان میں خراب سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر قونصل جنرل کے اسٹاف میں کمی کردی ہ۔افغانستان میں پاکستان کے سفیر منصور احمد خان نے کہا کہ قونصل خانہ بند نہیں کیا، اس بارے میں خبریں درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ کے پیش نظر ویزا آپریشن اِن پرسن بند کردیا گیا اور صرف آن لائن درخواست پر ویزہ جاری کیا جا رہا ہے امریکی وزارت خارجہ اور یورپی یونین نے افغانستان میں طاقت  کے زور پر قبضہ کرنے والے کو تسلیم نہ کرنے پیغام دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ طالبان کو امریکا کا پیغام وہی ہے جو قطر مذاکرات میں شریک تمام ملکوں کا پیغام ہے کہ ہم کسی ایسی قوت کو تسلیم نہیں کریں گے جو افغانستان پر طاقت کے زور سے قبضہ کرنا چاہتی ہو۔ ترجمان نیڈ پرائس نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ امریکی شہری واپس بلانے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم افغان عوام کو تنہا چھوڑ دیں گے، امریکا نے افغانستان میں ہر شعبے میں سرمایہ کاری کی ہے۔ نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ صدر بائیڈن نے افغان فوج کے لیے تین ارب تیس کروڑ ڈالر کی رقم رکھی ہے، افغانستان میں امریکی سفارتخانہ کام کرتا رہے گا۔ دوسری جانب یورپی یونین نے بھی ایک پیغام میں کہا ہے کہ طالبان نے بزور طاقت قبضہ کیا تو عالمی سطح پر قبول نہیں کیا جائے گا۔افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں ٹرائیکا پلس اجلاس سے بھارت کو روس نے اپنی خواہش پر باہر رکھا، ماسکو کسی ایسے ملک کو اجلاس میں بلانا نہیں چاہتا تھا جس کا افغانستان میں کردار نہ ہو، بھارت کی امریکا سے قربت اور پاکستان سے دشمنی بھی روس کے فیصلے کا سبب بنا، چینی میڈیا نے کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔۔گلوبل ٹائمز کے مطابق ماسکو کسی ایسے ملک کو دعوت دینا نہیں چاہتا تھا جس کا افغانستان میں کوئی کردار نہ ہو۔ کابل میں روسی سفیر نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ بھارت افغانستان میں کسی بھی فریق پر اثر و رسوخ نہیں رکھتا۔رپورٹ میں بھارت کی پاکستان دشمنی کو بھی روسی فیصلے کا سبب قرار دیا گیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا اور روس دونوں پاکستان کو افغان امن عمل کے لیے انتہائی اہم تصور کرتے ہیں۔ دوسری طرف ااشرف غنی حکومت نے افغان مسئلے پر غور کیلئے  اقوام متحدہ لی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے  کی ڈرخواست کی ہے۔

افغانستان

راولپنڈی(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان افغان امن عمل میں مخلص ہے اور وہ  افغانستان میں قیام امن کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا، پاکستان امریکہ کے ساتھ طویل کثیر الجہتی تعلقات کاخواہاں ہے،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق جمعہ کو  آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات ہوئی جس میں پاک امریکہ تعلقات اور خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا،آئی ایس پی آر  کے مطابق ملاقات میں افغان صورت حال اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا،آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ طویل کثیر الجہتی تعلقات کاخواہاں ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔آئی ایس  پی آر کے مطابق  ملاقات کے دوران امریکی ناظم الامور نے خطے میں قیام  امن کیلئے  پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور علاقے میں امن واستحکام کیلئے مل کر کام کرنے کے عز م کااظہارکیا۔ امریکی ناظم الامونے پاک امریکا دوطرفہ تعلقات  کومزید فروغ دینے کابھی عز م ظاہر کیا۔

آرمی چیف

مزید :

صفحہ اول -