پشاور سمیت دوسرے اضلاع میں 14 اگست جوش وجذبے سے منائی جائیگی 

پشاور سمیت دوسرے اضلاع میں 14 اگست جوش وجذبے سے منائی جائیگی 

  

پشاور،اضلاع (سٹی رپورٹر،نمائندگان پاکستان)اسلامیہ کالج پشاور 14 اگست کی تیاریاں مکمل. اج بروز ہفتہ 14 اگست شایانِ شان طریقے سیمنایا جائے گا. مہمان خصوصی اسلامیہ کالج پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل مجید خان ہوں گے. تقریب میں اسلامیہ کالج پشاور اور اسلامیہ کالجیٹ سکول پشاور کے طلباء وطالبات، ہر درجے کے ملازمین اور کیمپس میں موجود تمام خواتین و حضرات اور بچیں شرکت کریں گے. تقریب میں گارڈ آف آنر، قومی جھنڈے کو سلامی،قائداعظم کی آڈیوریکارڈنگ، وطن کے نام نظرانہ عقیدت، ملی نغمے اور ڈھیر ساری دلچسپیاں ہوں گی. تقریب کے مہمان خصوصی اسلامیہ کالج پشاور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل مجید خان ہوں گے. جبکہ تقریب میں سینئر ایلومینائی ایسوسی ایشن کے ممبران، اساتذہ کرام، انتظامیہ افسران، ملازمین اور طلباء و طالبات کثیر تعداد میں شرکت کریں گے٭ملک بھر کی طرح بنوں میں بھی آج جشن آزادی بھرپور جوش وجذبے کے ساتھ منائی جائیگی اس سلسلے میں کمشنر ہاؤس بنوں میں صبح7بجکر50منٹ پر تقریبات شروع ہوں گی پہلے ایک منٹ کیلئے خاموشی اختیار کی جائیگی 8بجے پرچم کشائی کی جائیگی اسکے بعد پولیس کے سلامی دستے کی جانب سے سلامی دی جائیگی پھر خٹک ڈانس،قومی ترانہ،جمناسٹک شو،اور ٹیبلو پیش کئے جائیں گے۔چیف آف خوجڑی ملک شیروز خان کی جانب سے جشن آزادی کی خوشی میں بڑی ریلی خوجڑی ہاؤس سے نکالی جائیگی۔ دفتر ختم نبوت مال منڈی میں بھی پرچم کشائی کی جائیگی ضلعی سپورٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے کمشنر بنوں،ڈپٹی کمشنرر بنوں اور ریجنل سپورٹس آفیسر کے تعاون سے چک بال،ٹارگٹ بال،باسکٹ بال اور ہاکی سمیت جمناسٹک کے مقابلے منعقد کئے جائیں گے۔جبکہ تحریک انصاف میئر شپ کے امیدوار اور تحصیل صدر سکندر حیات خنا کی جانب سے حیات ہاؤس سوکڑی میں 14اگست کی رات آتش بازی کی جائیگی٭ اہل پاکستان کے لئے 14 اگست کا دن تاریخی،نظریاتی اور جغرافیائی اعتبار سے بے پناہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اسی دن برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں نے ایک لاکھ سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے آزاد خطہ ارضی پاکستان حاصل کیا۔پاکستان کی تخلیق کسی عام انسان کے دماغ کی اختراع نہیں تھی بلکہ قانون،جمہور،رائے عامہ اور ایمانی جذبے نے اک تصور کو زندہ ریاست کا روپ عطا کیا, لہذا اب یہ لازم ہے کہ تحریک پاکستان کی لازوال روح کو پوری دلسوزی کے ساتھ نظام مملکت میں سمونے کا اہتمام کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار حلقہ خواتین جماعت اسلامی ضلع صوابی کی ناظمہ فرزانہ اشفاق نے پاکستان کے75  ویں جشن آزادی کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کا بنیادی مقصد ایک آذاد اسلامی مملکت کا حصول اور اسلامی اقدار و روایات کا تحفظ تھا۔اس آزادی کے چراغ کو روشن کرنے میں لاکھوں مرد و زن کو اپنا تن من دھن قربان کرنا پڑا لیکن قافلہ آزادی رواں دواں رہا وہ قیام پاکستان کی جدوجہد تھی اور آج تکمیل پاکستان کی جدوجہد ہے جس کے لئے پھر ہمیں تحریک آزادی پاکستان جیسے جذبے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کے بعد آج تک کے سفر کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ ہم ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب  گامزن ہیں۔اسلام کے نام پر حاصل کییگئے وطن کو بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ دشمنان وطن نے اس خطہ ارضی پاکستان کو کبھی دل سیقبول نہیں کیا۔وطن عزیز میں برسراقتدار آنے والی جماعتوں نے بیرونی اشاروں کی تکمیل اور جاگیردارانہ غلبہ کی بنیاد پر سیاسی نظام کو کبھی مستحکم نہیں ہونے دیا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے باشعور عوام کو اب یہ سوچنا ہو گا کہ ملک کے سیاسی اور حکومتی قائدین آج تک وہ مقاصد کیوں حاصل نہ کر پائے جس کی خاطر برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ خطہ اراضی حاصل کرنے کے لئے اپنے عزیز و اقارب, مال متاع سب کچھ قربان کر دیا۔انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی بقا و سلامتی اور اسلامی پاکستان، خوشحال پاکستان کا حصول  اسی وقت ممکن ہے  کہ جب ہماری  زندگی کے تمام شعبہ جات کی تشکیل قرآن و سنت کے مطابق ہو اور یہ تبھی ممکن ہے جب صالح اور ایماندار قیادت ملک کے نظام کو مکمل طور پر قرآن و سنت کیاحکام کے تابع کر دے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -