سندھ کا صوبے کی املاک وفاقی حکومت کو دینے سے صاف انکار

سندھ کا صوبے کی املاک وفاقی حکومت کو دینے سے صاف انکار

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ حکومت نے صوبے کی املاک وفاقی حکومت کو دینے سے صاف انکار کردیاہے۔ اس ضمن میں صوبائی وزیر بورڈ اور جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے کی متروکہ املاک کسی صورت میں نیلام ہونے نہیں دے گی۔پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم سندھ کے خلاف سازشیں کرنا بند کریں۔سازش کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑے گی۔انہوں نے  کہا کہ وفاقی حکومت کی فروغ نسیم کی سربراہی میں بنائی گئی کمیٹی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے اسے مسترد کرتے ہیں۔سندھ میں 1965 اور 1971 میں چھوڑی گئی متروکہ املاک پر صرف سندھ کے عوام کا حق ہے۔اسماعیل راہو نے کہا کہ وفاق میں بیٹھے سازشی ٹولے کی سندھ کے خلاف سازش ناکام بنا ئیں گے۔سندھ کے عوام نے بھارت سے آئے مہاجروں کو ویلکم کیا،دل میں جگہ دی مگر اب سندھ کو عالمی یتیم خانہ نہیں بننے دیں گے۔بنگالی،بہاری،افغانی اور کسی غیر ملکی کو سندھ میں زمین تو کیا ایک اینٹ بھی نہیں دیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت اپنی حدود میں رہے۔سندھ کی زمینوں پر کسی کو قبضہ کرنے نہیں دیا جائے گا۔صوبائی وزیر نے مطالبہ کیا کہ افغان مہاجرین اور دیگر غیر ملکیوں کو سندھ سے نکالاجائے۔شیخ رشید نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو 14 اگست تک کا وقت دیا تھا۔اسماعیل راہو نے سوال کیا کہ کیا متروکہ املاک پنجاب،کے پی میں نہیں ہیں کیا ان کے لیے کوئی کمیٹی بنائی گئی۔عمران خان کی حکومت نے تین سالوں میں سندھ کے عوام کو ایک اینٹ بھی نہیں دی۔جھوٹی وفاقی حکومت کی کمیٹیاں بھی جھوٹی ہیں۔سندھ کی املاک کسی کے باپ کی نہیں بلکہ سندھ کی ہیں.

مزید :

صفحہ اول -