قیدی کی داستان اور آزادی کی خواہش

قیدی کی داستان اور آزادی کی خواہش
 قیدی کی داستان اور آزادی کی خواہش

  

شام کی ٹھنڈی ہوا نے ایسا مجبور کیا کہ میں نے یونیورسٹی کا کام سائیڈ پہ رکھا اور چائے کا کپ لے کر چھت پہ چلی آئی۔ کچھ دیر ادھر ادھر ٹہلتی رہی۔ پھر اچانک میری نظر سامنے گھر  کی چھت پہ گویا منجمند ہو گئی۔ایک عام سا پنجرہ مگر اُس میں بےحد خوبصورت کبوتر، سفید ، سیاہی مائل اور ایک تو سیاہ رنگ کی جوڑی تھی۔ وہ تقریباً آٹھ کبوتر تھے۔ اُس پنجرے کی دو دیواریں اینٹوں کی بنی تھی اور ایک دیوار پہ بڑا سا دروازہ جبکہ ایک دیوار مکمل جالی نما تھی۔ اور وہ سبھی کبوتر جالی والی دیوار کے ساتھ ٹکے ہوئے باہر کے نظاروں میں مگن تھے۔ مجھے بچپن میں پڑھی اردو کی کتاب کی کہانی "آزادی مبارک" یاد آ گئی  جس میں ایک بچہ اپنے طوطے کو آزادی کا انمول تحفہ دیتا ہے۔ وہ جیسے ہی پنجرے کا دروازہ کھولتا ہے طوطا پھرُ سے اُڑ کر دیوار پہ جا بیٹھتا ہے  اور مجھے یقین تھا کہ اگر کبوتروں کا مالک بھی دروازہ کھول دے تو یہ بھی اڑ جائیں گے۔ آخر کون نہ چاہے گا کہ آزاد فضائیں اُس کا مقدر بنیں  کیونکہ آزادی ایک ایسی نعمت ہے  جس کی قدر ایک قیدی ہی جانتا ہے۔ پھر مجھے وہ منظر بھی یاد آیا۔ آخری مغل جانشین بادشاہ بہادر شاہ ظفر جس نے ایک عرصہ سر زمینِ ہند پہ حکومت کی۔ مگر 1857 میں انگریزوں سے جنگ میں شکت خوردہ ہونے کی اُسے یہ سزا ملی  کہ اُسے قید کر کے رنگون(موجودہ برما) لے گئے  اور زندگی کی آخری سانس تک نظر بند رکھا، سرزمینِ ہند میں دفن ہونے کی خواہش بھی اُس کی آزادی کی خواہش کی طرح ادھوری رہ گئی۔

کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

بہادر شاہ ظفر

قصہ مختصر یہ کہ قیدی کی داستان یا تو قفس کی دیواریں جانتی ہیں  یا اُس کا دل۔۔۔۔

اسی دوران کہیں پاس ہی عجیب سے باجے کا شور مچا  جو مجھے ماضی کے دھندلکوں سے نکال کر حال میں لے آیا۔ ارے یاد آیا یہ تو وہی مخصوص باجا ہے جو پچھلے کئی سالوں سے جشنِ آزادی کے دنوں میں منچلے ذوق و شوق سے بجاتے ہیں، گویا  آزاد ی کے جشن کے دن کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم پاکستانی اس سال اپنے آزاد ملک کا چوتہر سالہ جشن منارہے ہیں۔   پاکستانی نوجوان 13اور 14  اگست کی رات کو گروپوں کی صورت میں نکلتے ہیں، چہرے اور ہاتھوں پہ سبز و سفید رنگوں کے جھنڈے بنائے، مخصوص رنگ کے لباس پہنے، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پہ بھی جھنڈا سجائے سڑکوں پہ اودھم اور دھما چوکڑی مچاتے آزادی کے متوالے جوش میں آتے ہیں۔ آزادی مبارک کے نعرے لگاتے، ہاتھ میں باجا پکڑے، گاڑیوں پہ بڑے بڑے ڈیک لگا کے قومی نغمے سنتے اور سناتے ہوئے یا پھر سلنسر نکال کے پھٹ پھٹی کو تیز رفتاری سے بھگاتے ہوئے ہم پاکستانی کیا سچ میں قید و بند کی صعوبتوں سے واقف ہیں؟

اس سے کہیں بہتر ہے کہ ایک دن کے لیے مخصوص رنگ کے کپڑے خریدنے کی بجائے کسی غریب کی بیٹی یا بیٹے کا تن ڈھانپنے میں مدد کردی جائے، ڈیک لگا کر شور شرابے کی بجائے محلے میں موجود کسی مریض کی تیمار داری کی جائے ، ہاتھ میں باجے پکڑ کر کسی کے لیے ذہنی اذیت کا سبب بننے کی بجائے اس کی مشکلات کے حل میں مدد کی جائے، خریدے گئے جھنڈے لہرائیں لیکن  ان جھنڈیوں کا انجام کیا ہوگا؟ کیا ایسے جشن سے یہ بہتر نہیں کہ اپنے ملک کے جھنڈے کوانجانے میں ہونیوالی بے حرمتی سے بچائیں اور بچوں کی طرف سے گلیوں میں پھینکے گئے جھنڈے کو  اٹھا کر جشن دوبالا کریں؟

 کیا زندہ قومیں جو گزرے وقت میں ظالم کے ظلم کے خلاف لڑ کر اور جانوں و عزتوں کی قربانی دے کر آزاد ہوئی ہوں۔ وہ جشنِ آزادی یوں مناتی ہیں۔ اس طرح کا جشن تو شائد قید سے آزادی کے بعد کبوتر بھی نہ منائیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -