محرم الحرام  کا عملی درس ۔۔

محرم الحرام  کا عملی درس ۔۔
محرم الحرام  کا عملی درس ۔۔

  

محرم الحرام   وہ مقدس مہینہ ہے جس میں دین اسلام کی بقا اور دوام کے لئے آلِ رسولﷺ نے اپنا پورا کنبہ لٹا دیا اور  اسلام کو اپنے خون کی آبیاری سے منور کر دیا ۔واقعہ کربلا محض ایک  واقعہ یا اسلامی تاریخ کا ایک باب نہیں  بلکہ یہ رہتی دنیا تک کے لئے ایک تمثیل ہے۔سانحہ کربلا نے دنیا میں  بنی نوعِ انسان کو دو گروہوں میں تقسیم کر دیا اور حق و باطل کے مابین ایک واضح لکیر کھینچ دی ۔ ایک  گروہ حق اور سچ کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دینے والے امام حسینؓ اور ان کے پیرو کاراور دوسرے یزیدی ۔ گویا ایسے لوگ ہر دور میں ہوتے ہیں، ایک حق اور سچ کیلئے بولنے والے، دوسرا ظالم کے طرفدار۔

واقعہ کربلا کی  حقانیت  آج بھی ہر باضمیر  انسان  کےچہرے سےچھلکتی ہے،اگرچہ اسکا تعلق کسی بھی مذہب یا فرقے سے ہو ۔اگر کسی بھی شخص کا   ضمیر زندہ ہے اور اسکے دل میں انسانیت کے لئے درد پنہاں ہے تو وہ حسینیؓ ہے ۔ 

کربلا کے معرکے کے بارے میں سوچیں تو روح کانپ جاتی اور  جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے ۔یہ ایک ایسا خونچکاں  واقعہ ہے  جس میں ایک جانب اطاعت خداوندی ،ایثار ، قربانی  اور عبادات کے پہلو ملتے ہیں تو دوسری جانب ظالم حکمران کا  اپنی عددی طاقت کی بنا پر غرور اور زعم  بھی نظر آتا ہے ۔ کربلا کی سرزمین تو وہ ہےجس کو امام حسینؓ  کے مقدس خون کی وجہ سے بے مثال مقام مل گیا ۔ آج اسی سرزمین ننیوا کو  کربلائے معلیٰ کہا جاتا ہے۔  یہ ایک ایسے  مظلوم کا مقتل ہے  جو خانوادہ رسول ﷺ کا ایک اہم فرزند تھا، جو دینِ محمدﷺکا نہ صرف محافظ تھا بلکہ محافظ  ہے ۔

تاریخ میں ہے کہ کربلا کی سرزمین پرجب نواسہؓ رسولﷺ  اترے  اور آپؓ کو بتایا گیا کہ یہ کربلا ہے تو آپؓ سن کر بہت روئے اور فرمایا کہ یہاں سے ایک  مشت خاک اٹھا کر مجھے دے دو ۔ آپؓ کے حکم کی تعمیل کی گئی ۔ امام عالی مقامؓ نے وہ مٹی سونگھی   اور پھر اپنے کرتے کی جیب میں سے ایک مٹھی مٹی نکالی  اور فرمایا کہ یہ وہی مٹی ہے  کہ جو جبرائیل علیہ السلام کے توسط سے اللہ تعالی نے میرے نانا محمدﷺکو بھیجی تھی  اور کہا تھا کہ یہی حسینؓ کی تربت کی مٹی ہے ۔

 امام حسینؓ تو وہ  ذی وقار ہستی ہیں جن کے لئے حدیث نبویﷺ ہے  کہ ’حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں ، جس نے اس سے محبت کی اس نے گویا مجھ سے محبت کی اور جس نےا سے اذیت دی اس نے گویا مجھے اذیت دی ‘ لیکن حیف ہے ایسی جاہل اُمت پرکہ جنہوں نے کلمہ پڑھ کر امام عالی مقامؓ کی گردن پر کند خنجر چلا دیا ۔ اس گردن کو تہ تیغ کر دیا جس پر ہمارے پیارے نبیﷺ بوسے دیا کرتے تھے ۔ 

دیکھا جائے تو کربلا کے شہیدوں نے ہمیں حقیقی معنوں میں  اطاعتِ خداوندی اور حریت کا درس دیا ۔انھوں نے بتایا  کہ  صرف نمازیں پڑھنا یا اذانیں دینا ہی کافی نہیں،قرآن کے ساتھ ساتھ ناطقِ قرآن کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ 

دل میں  اللہ تعالی کے نبیﷺ ،  اہل بیتؓ اور مقرب ہستیوں کی محبت اور اطاعت بھی ضروری ہے ۔ آج ہم سب فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جبکہ امام حسینؓ کا پیغام تو آفاقی ہے۔کربلا کا سفر تو آج بھی جاری و ساری ہے ۔ آج بھی ایک جانب مظلوم اور محکوم اقوام ہیں تو دوسری جانب  ظالم اور جابر  ۔۔ ہمیں صرف اپنے اذہان ہی میں کربلا  کو زندہ رکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ دل سے بھی یہ اقرار کرنا ہو گا کہ ہم ہمیشہ مظلوم کے حق میں بولیں اور ظالم کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوں کہ  یہی کربلا کا درس ہے ۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -