حکومت اشتہارلگارہی ہےکہ صدر جو بائیڈن فون نہیں اٹھاتا ، کیایہ ایٹمی پاکستان ہے ؟ احسن اقبال وزیراعظم پر برس پڑے

 حکومت اشتہارلگارہی ہےکہ صدر جو بائیڈن فون نہیں اٹھاتا ، کیایہ ایٹمی ...
 حکومت اشتہارلگارہی ہےکہ صدر جو بائیڈن فون نہیں اٹھاتا ، کیایہ ایٹمی پاکستان ہے ؟ احسن اقبال وزیراعظم پر برس پڑے

  

نارووال(ڈیلی پاکستان آن لائن)مسلم لیگ ن کےجنرل سیکرٹری اورسابق وزیرداخلہ احسن اقبال نےکہا ہے کہ بدترین مہنگائی کی چکی میں پسنے کےباوجودعوام آزادی کی خوشی میں بھرپور حصہ لےرہی ہےاوریہی ہماری اصل پہچان ہے،ہماری حکومت اشتہارلگارہی ہےکہ صدر جو بائیڈن فون نہیں اٹھاتا،کیایہ ایٹمی پاکستان ہے ؟  عمران خان قومی اسمبلی میں کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ مودی فون نہیں اٹھاتا، تم وزیراعظم نہیں سیلکٹڈ ہو  اور سیلکٹڈ کا کوئی فون نہیں اٹھاتا ۔

نارووال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ووٹ کی طاقت مضبوط ہو گی تو پاکستان مستحکم ہو گا ،اگر اس ملک کو مضبوط اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو غریب کے ووٹ کو عزت دینا ہو گی،جو چیز جس بنیاد کے لئے حاصل کی جاتی ہے اسی بنیاد پر کامیاب ہوتی ہے ،دنیا میں بہت سے ملکوں کو توپ گولوں سے حاصل کیا گیا لیکن پاکستان توپ گولا سے نہیں ووٹ کی طاقت سے لیا گیا ،ووٹ کی طاقت مضبوط ہو گی تو پاکستان مستحکم ہو گا ،اگر اس ملک کو مضبوط اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو غریب کے ووٹ کو عزت دینا ہو گی، آج قائد ن لیگ میاں محمد نواز شریف نے عوام کو اپنے پیغام میں ووٹ کو عزت دینے کی بات کی ہے۔

احسن اقبال نےکہاکہ ووٹ طاقت ور کا نہیں غریب کا ہتھیار ہے، پچھلے 3 سالوں سے جو اس ملک ساتھ ہوا  سب کے سامنے ہے،عمران خان نے نوجوانوں کو ورغلایا ہے،مسلم لیگ ن کا بیانیہ ہے کہ پاکستان کو اس راستے پر چلاؤ  جو قائداعظم کا راستہ تھا ،جو پاکستان کو آئین اور قانون کے راستے پر چلائے گا ہماری اس کے ساتھ مفاہمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ  آج پاکستان کے گرد خطرات منڈلا رہے ہیں، ارباب اختیار کو پیغام دینا چاہتا ہوں یہ وقت پاکستان کو تقسیم کرنے کا نہیں پوری قوم کو اکٹھا کرنے کا وقت ہے، ہمارے ملک کے اندر آگ لگی ہوئی ہے ،کبھی اتنی ذلت رسوائی نہیں دیکھی تھی،آج ہم بدترین سفارتی تنہائی کا شکار ہیں لیکن یہ شجر کاری کر رہا ہے ان کو چاہئے تھا کہ بیرونی دورے کرتے، دوست ملکوں کے ساتھ ملاتے، اس سے خیراتی کام لیا جا سکتا ہے ملک چلانے کا کام اس کے بس کی بات نہیں ہے۔

مزید :

قومی -