ترقی کا سفر اب بھی جاری ہے۔۔۔

ترقی کا سفر اب بھی جاری ہے۔۔۔
ترقی کا سفر اب بھی جاری ہے۔۔۔

  

پاکستان ، جس کا سبز ہلالی پرچم ہماری رگوں میں دوڑتا ہے ۔ جو دنیا بھر میں ہماری پہچان ہے ۔ جس کی کامیابی ہی ہمارا فخر ہے ۔ پاکستان کا قیام پوری اُمت مسلمہ کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے ۔ پاکستان کا قیام اللہ تعالی کی طرف سے ایک معجزہ تھا ورنہ کسی حساب کے ذریعے بھی پاکستان کا وجود میں آنا ممکن نہیں تھا  لیکن قائداعظم محمد علی جناحؒ نے جو پاکستان بننے کا خواب دیکھا تھا  وہ پورا کر دیکھایا ۔

وطن عزیز کی 74 ویں سالگرہ ہمیں وہ پہلی یاد دلاتا ہے جو ریڈیو پاکستان سے اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ اسلام وعلیکم ، پاکستان براڈ کاسٹنگ سروس ، ہم لاہور سے بول رہے ہیں ، تیرہ اور چودہ اگست سن سنتالیس عیسوی کی درمیانی رات ، بارہ بجے ہیں ،طلوع صبح آزادی ۔ یہی وہ آواز تھی جس سے پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیا ۔ 

14 اگست ایک ایسا دن تھا جس نے غلامی سے آزادی دی ۔ یہ دن ایک عظیم قربانیوں کی تاریخ ہے ۔ تاریخ انسانی کا معجزہ پاکستان 27 رمضان المبارک کو معرض وجود میں آیا جو دو قومی نظریہ کا عکاس ہے ۔قائد اعظمؒ سفر میں تھے ، سفر کے دوران انہیں یاد آیا کہ غلطی سے ان کاریل ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور  ٹکٹ کے بغیر سفر کر رہے ہیں، جب  سٹیشن سے اترے تو ٹکٹ ایگزامینر سے ملے اور کہا کہ میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے، اس لیے دوسرا ٹکٹ دے دیں ، ٹکٹ ایگزامینر نے کہا کہ آپ دو روپے مجھے دیں اور پلیٹ فارم سےباہر چلے جائیں ۔  قائد اعظمؒ طیش میں آگئے اور بولے تم نے مجھ سے رشوت مانگ کرقانون کی خلاف ورزی اور میری توہین کی ہے ۔ قائد اعظمؒ اسے پکڑ کر سٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے اور بلاآخر رشوت طلب کرنا والا قانون کے شکنجے میں آگیا۔ 

کرپشن اور رشوت نےپاکستان کی جڑیں کھوکھلی  کردیں ہیں، یہ ایک ایسا ناسور ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے میں رکاوٹ بنتا ہے اور ایسی ہی چیزیں  ملک کو   آگے جانے سے روکتی ہیں ۔ جس طرح پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر عمل میں آیا تھا، اسی طرح اب پاکستان کا استحکام و ترقی نظریہ پاکستان سے منسلک ہے۔ پاکستان ایک عظیم الشان پراجیکٹس کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔سی پیک ایک ایسا منصوبہ ہے جس سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں  روشن ہوگا ۔یہ ترقی کی راہ پرچلنےوالےقدموں میں ایک قدم ہےکیونکہ ہر پاکستانی یاد رکھے کہ پاکستان کی تکمیل کے لیے ہندوستان کے مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ، گوشت گارے کی جگہ اور خون پانی کی جگہ استعمال ہوا تھا ۔ 

پاکستان میں بدلتے موسم اور آلودگی نے عام شہری کی زندگی کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان کی 22 کروڑ عوام سے اکثریت ماحول کی بہتری کے ایک ایک پودا لگائے۔ نہ صرف پورا لگائے بلکہ اس کی حفاظت بھی خود ہی کرے ۔ پودا بڑا ہوجائے تو اس کے نیچے خود بھی زندگی گزارے اور ساتھ میں پاکستانیوں کا بھی خیال رکھے ۔ پاکستان کے پرچم کا بہت سارا حصہ سبز رنگ کا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ پورا پاکستان سبز رنگ کی طرح  پودوں سے ہرا بھرا نظر آئے، ہر طرف سبزرنگ ہی نظر آئے ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -