لا الہ الا اللہ کا نعرہ  نہ لگتا تو آج ہم آزاد ملک میں بیٹھے نہ ہوتے ، سینیٹر ساجد میر  نے آزادی کاحقیقی مفہوم سمجھا دیا 

 لا الہ الا اللہ کا نعرہ  نہ لگتا تو آج ہم آزاد ملک میں بیٹھے نہ ہوتے ، سینیٹر ...
 لا الہ الا اللہ کا نعرہ  نہ لگتا تو آج ہم آزاد ملک میں بیٹھے نہ ہوتے ، سینیٹر ساجد میر  نے آزادی کاحقیقی مفہوم سمجھا دیا 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ ’پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ‘ کا نعرہ  نہ لگتا تو آج ہم آزاد ملک پاکستان میں بیٹھے نہ ہوتے،آج ہمارے سیاسی ولسانی اختلافات کا تدارک اور علاج بھی یہی نعرہ ہے ۔

14 اگست کے موقع پر اپنے ویڈیو پیغام  سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں ملک عزیز پاکستان کی نعمت عظمیٰ سے سرفراز فرمایا اور مسلمانان ہند پر انعام فرماتے ہوئے انہیں ایک علیحدہ وطن عطا کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ وطن حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟اس بارےنئی نسل کو بتانا چاہیے کہ انڈیا میں بسنے والے دوسرے مذاہب کے لوگ خاص طور پر ہندو  مسلمانوں سے کس طرح تعصب برتتے تھے؟ہمیں  اپنے آباواجداد اور اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد رکھنے کے لیے اس کا تذکرہ کرنا چاہیے،اگر دینی ہدف اور مقصد کو واضح کرنے والا یہ نعرہ نہ لگتا  کے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ تو میرا یقین ہے کے آج ہم اس آزاد ملک پاکستان میں بیٹھے ہوئے نہ ہوتے کیونکہ متحدہ ہندکے مسلمانوں نے بالعموم تحریک پاکستان کا دل و جان سے ساتھ دیا ،اس میں اس نعرے اور مقصد کی تحریک سب سے بڑا فیکٹر تھا ۔

سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ ہمیں آج اس مقصد عظیم کو یاد رکھنا چاہیے اور اپنے ملک میں اسلام کو عملی طور پر نافذ کر کے اس کے استحکام کو یقینی بنانا چاہئے کیونکہ جس طرح پاکستان کی بنیاد یہ نعرہ اور اور نفاذ اسلام ملک میں لانے کا جذبہ تھا اسی طرح استحکام پاکستان اور بقائے پاکستان کے لیے یہی جذبہ کام دے سکتا ہے، یہی جذبہ ملک کے اندر ایک یونٹی پیدا کر سکتا ہے کیونکہ اس وقت صوبائیت نے اور صوبائی نعروں نے سر اٹھایا ہوا ہے ،میں سمجھتا ہوں ان کا تدارک اور ان کا علاج بھی یہی نعرہ ہے اور یہی جذبہ ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -