بٹ کے رہے گا ہندوستان ۔۔۔۔بن کے رہے گا پاکستان  

بٹ کے رہے گا ہندوستان ۔۔۔۔بن کے رہے گا پاکستان  
بٹ کے رہے گا ہندوستان ۔۔۔۔بن کے رہے گا پاکستان  

  

 تحریر : پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی

قسط: 14 

قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت

صدرآل انڈیا مسلم لیگ حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیرِ قیادت برصغیر کے مسلمانوں نے23مارچ1940ءکی قرار داد لاہور (پاکستان ) کے ذریعے اپنی جدوجہد آزادی کی سمت کا تعین کیا اورہند کے تمام مسلمانوں سے متحد رہنے کی اپیل کی گئی۔قائداعظمؒ نے ہندوستان سے آئے ہوئے مسلمانوں کو لاہور میں ہندو ذہنیت سے آگاہ کیا۔ متحدہ قومیت کو خطرناک قراد دیا کہ یہ سازش مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرنے کا ذریعہ ہے۔ آپ نے مایوس قوم کو ساحل مراد تک پہنچایا۔ قائداعظمؒ کے سیاسی افکاراورعلمی وسعت اتنی تھی کہ سمندر پار اور اندرون ملک کے سیاست دانوں کی حکمت عملی سے بخوبی آشنائی رکھتے تھے۔ہندو بنیا جو صدیوں سے مسلمانان ہندکو دبائے چلا آرہا تھا اور ہندو مہاجن کے فسادات سے مسلمانوں کی جانیں تلف ہو چکی تھیں۔ آپ نے مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ اب کسی صورت ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوﺅں کے ساتھ مفاہمت کرنی مشکل ہے۔ اب دوستی اور تعاون کا راستہ ختم ہو گیا۔ لہٰذا مسلمانوں کے تحفظات کو ہندوستان کے آئین میں شامل کیا جائے۔انڈین نیشنل کانگریس متعصب ہندو قیادت کی جماعت ہے۔ہند کے مسلمان اب اپنا الگ وطن سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ 1937ءکے انتخابات جو ہندوستان کے سات صوبوں میں ہوئے ۔6 صوبوں میں کانگریس وزارت قائم ہوئی کانگریس نے ان صوبوں میںرام راج جاری کرنے کی مسلمانوں پر کوشش کی، زبان بندی کی گئی اور ہندوقوم کو اَپ لفٹ کیا گیا۔ مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے اور نظام تعلیم میں تبدیلیاں لائی گئیں۔ مسلمانوں کا قومی تشخص،مذہبی روایات، ثقافت کو ختم کرنے کی طرف قدم اُٹھائے گئے۔ گاندھی کا فلسفہ، اُردو کی مخالفت ، واردھا ہند سکیم شروع کی ۔ اس طرح ہندو اور مسلمانوں میں خلیج بڑھنے لگی۔ 

 یاد رہے ان تمام واقعات کی چھان بین کرنے کےلئے آل انڈیا مسلم لیگ نے پیرپور نام کی ایک کمیٹی تشکیل دی جس پر رپورٹ بڑی محنت سے تیار ہوئی۔ مسلمانوں پر کانگریس وزارت نے جو مظالم کئے ان کا سدِباب کیا جائے۔ کانگریس پارٹی نے اس وقت مولانا ابوالکلام آزاد کو صدر کانگریس بنا یا ہوا تھا۔ انہوں نے پیرپور کمیٹی کی رپورٹ کو غلط قراد دیا۔ یہ وہ حالات تھے جن کودور کرنے کےلئے سارے ہندوستان کے مسلمان مسلم لیگ رہنما ،ورکرز 22تا24مارچ1940ءتاریخ ساز جلسے میں شرکت کے لئے حاضر ہوئے تھے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ہندوستان کے سیاسی مسئلہ کاواحد حل فقط اس کی تقسیم میں مضمر ہے۔ گاندھی جی تقسیم ہند کو گاﺅماتا کی تقسیم سے تعبیر کرنے لگے اور قرار داد لاہور کو ہندو پریس نے قرار داد پاکستان کے نام سے اُبھارا۔ 

 قائداعظم محمد علی جناحؒ کو خداوندتعالیٰ نے کردار کی عظمت سے نوازا ہواتھا۔ وہ عالی نظیرانسان تھے ،امین تھے۔ عزم ان کا شاندار اور پُرخلوص تھا۔ وہ اپنی علیٰحدہ وطن کی دھن اور نیت میں سچے تھے۔ انہوں نے اپنی وابستگی اُصولوں سے ترتیب دے رکھی تھی۔ ذاتی مفاد سے کوسوں دور تھے۔ ان کی سیاست امانت کی مثال تھی۔ اصول ان کا قانون اور انصاف تھا۔ وہ مسلمانوں کو انگریز اور ہندو کی غلامی سے نجات دلانا چاہتے تھے۔ چونکہ وہ خود سچے تھے ان کو سچے ورکرز، دوست،احباب میسر آئے۔ 

 تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کا پیغام دور دراز علاقوں میں پہنچانے کےلئے اور مسلمانوں کا شعور بیدار کرنے کےلئے پریس کی بڑی ضرورت تھی۔پورے ہندوستان میں مسلمانوں کےلئے مشکل تھی کہ اخباری دنیا میں ان کی اڑان اونچی نہ تھی۔ ہندو پریس نے گھر گھر خبروں کا جال بنا رکھا تھا۔ہندو اخبارات پرتاب،مہا بھارت ،ویر اور دیگر روزنامے، ہفت روزہ اورانگریزی اخبارات جگہ جگہ موجود تھے۔ پہلے توہند کے مسلمان پڑھے لکھے کم تھے۔ستم گری یہ تھی کہ مسلمانوں کے علاقہ جات مشرقی پاکستان میں ڈھاکہ یونیورسٹی 1923میں قائم ہوئی۔بنگال اور موجودہ پاکستان میں1883 میں پنجا ب یونیورسٹی میں اخبارات نہ تھے۔ لہٰذا اب وقت آچکا تھا کہ مسلمان اس طرف رُخ کریں تاکہ اپنے رہبروں کے خیالات سے آگاہی حاصل ہو۔ لیڈر منزل مرادپاکستان کی باتیں کرتے ہیں اور عوام کو علم ہی نہیں۔یہ مسلمانوں کی بڑی محرومی تھی۔ ہندوﺅں کے ہر بڑے شہر میں اخبارات تھے۔ دنیا میں ہر دور میں ذرائع ابلاغ کی بڑی اہمیت رہی ہے بلکہ یہ ایک ریاست کا چوتھا ستون ہوتاہے۔ کہا جاتا ہے کہ

 جو قومیں یا سیاسی تحریک بغیر اخبارات کے ایسے ہی ہے جیسا کہ کوئی جنگ لڑی جائے جس میں جنگی سامان نہ ہو۔ ایک طرف کلونیل ( Colonial)برٹش راج کی پوری مشینری تھی دوسری طرف امیر ہندو کانگریس نیشنلسٹ تھے اور تیسری طرف تنہا مسلم لیگ تھی۔جس کے پاس مالی قوت تو کم تھی ،ساتھ ابلاغ کی سہولت ناپید تھی۔جاگیردار، نواب ہند کی بڑی قومی پارٹی کانگریس کو سپورٹ کرتے تھے۔پرنٹ میڈیا کانگریس کی پوری طاقت سے مدد کررہا تھا۔ اخبارات کے علاوہ اشتہارات ، لیف لٹ، ہینڈبلز،بروشرز، کتابچے اور کتابیں بھی ہندو پریس کے قبضے میں تھے۔جب مسلمانوں کو ہوش آیا اور پرنٹ میڈیا کی طرف توجہ ہوئی تو آوازیں آنے لگیں ۔”بٹ کے رہے گا ہندوستان .... بن کے رہے گا پاکستان۔“( جاری ہے ) 

کتاب ”مسلم لیگ اورتحریکِ پاکستان“ سے اقتباس (نوٹ : یہ کتاب بک ہوم نے شائع کی ہے، ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔ )

مزید :

بلاگ -