منفرد مفسر قرآن کے ہاں حاضری...!!!

منفرد مفسر قرآن کے ہاں حاضری...!!!
منفرد مفسر قرآن کے ہاں حاضری...!!!

  

 منفرد مفسر قرآن کے ہاں یہ  دوسری حاضری تھی.....پہلی بار   ایک دانش گاہ میں ان سے "شرف ملاقات" ملا.......تب مفتی امداد اللہ محمود اور اب علامہ اسید الرحمان سعید شریک مجلس تھے......عزت مآب ڈاکٹر طاہر مصطفے نے اردو زبان میں "کتاب اللہ" کا پہلا غیر منقوط تفسیری ترجمہ کرکے "تاریخ"رقم کردی ہے......یہ "سند امتیاز"کرم...انعام اور نصیب کی انوکھی داستان ہے......صاحب تفسیر کا یہ اعزاز بھی قرآن کا اعجاز ہے......!!! اسمائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر صاحب نے اس شب اپنی اقامت گاہ پر "درس کلام اللہ" کی مختصر عرصے میں "قبولیت اور مقبولیت" کی ایسی روداد سنائی کہ دل قرآن کریم کے عشق میں دیوانہ سا ہو گیا.....

ایک سال پہلے لکھا تھا کہ ڈاکٹر طاہر مصطفے صاحب کسی علم دوست معاشرے میں ہوتے تو لوگ ان کو سونے میں تولتے،عقیدت سے ہاتھ چومتے، گھٹنے چھوتے...ہوسکتا ہے قرآن کریم کو" انوکھے تفسیری ترجمے" میں ڈھالنے والا ان کا "نادر قلم" ہی کروڑوں میں نیلام ہو جاتا......!!! لیکن کیا کریں ہمارے ہاں زندگی میں عزت دینے کا کلچر نہیں....یہاں "بزرگ"ہونے کے لیے مرنا پڑتا ہے.....!!!

یہ بھی لکھا تھا کہ چاہئیے تو یہ تھا کہ وزارت مذہبی امور ، وزارت اوقاف اور قرآن بورڈ  والے "حضرات گرامی" وطن عزیز کے اس اسلامی سکالر کی تاریخ ساز کاوش پر انہیں "شاباش" دیتے .....سرکاری سطح پر" درس کلام اللہ" کی اشاعت و ترویج کا اہتمام کرتے.... سعودی عرب،ترکی سمیت مختلف اسلامی ممالک کے سفیروں کو نسخے فخریہ بھجواتے کہ دیکھیں ہمارے اسلامی سکالر نے کتنا بڑا منفرد کام کیا ہے...؟؟؟کاش جامعہ پنجاب سمیت ملک بھر کی سرکاری اور نجی یونیورسٹیاں ڈاکٹر صاحب کے لیے پلکیں بچھاتیں.......دینی مدارس مسند پر بٹھاتے...... پریس کلبز اور چیمبرز آف کامرس خوش آمدید کہتے......مگر شومئی قسمت کہ کسی کو خبر ہی نہیں کہ قران کریم پر اتنا منفرد کام کرنے والا کون اور کہاں ہے؟؟کوئی ناقدری سی ناقدری ہے....!!!

ہاں عزتوں کے مالک اللہ کریم کے عزتیں دینے کے اپنے پیمانے ہیں......جسے چاہے آسمان کی بلندیوں پر بٹھادے جسے زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں گرادے.....صرف ایک سال میں قرآن مجید کے اس منفرد تفسیری ترجمے کی سات سمندر پار گونج ہے تو اس کی اشاعت کا بھی ہمیشہ کے لیے بندوبست ہو گیا ہے..........ڈاکٹر طاہر مصطفے دھیمے لہجے میں بڑی خبر دے رہے تھے کہ پاکستان میں امریکی سفارتخانے نے مجھے فیس بک اور میسنجر سے سرچ کیا.....پھر ان کے فیلڈ ڈائریکٹرکا فون آیا کہ ہمیں امریکہ کی کانگریس لائبریری کے لیے قرآن مجید کے غیر منقوط تفسیری ترجمے کا نسخہ درکار ہے........انہوں نے درس کلام اللہ کا نسخہ واشنگٹن میں موجود دنیا کی سب سے قدیم اور بڑی تحقیقی لائبریری کی  زینت بنآ کر اسے کیٹا لاگ یعنی لائبریری کی فہرست میں بھی شامل کر لیا ہے......

ڈاکٹر صاحب نے ایک اور خوشخبری سنائی کہ الرحمان ڈویلپرز کے مالک میاں مشتاق نے مجھے ملے اور دیکھے بغیر صرف ایک فون کال پر درس کلام اللہ کی ترویج و اشاعت کی ذمہ داری لے لی ہے.....انہوں نے انتدائی طور پر ایک کروڑ کی لاگت سے دوسرے ایڈیشن کے پانچ ہزار نسخے چھپوادیے ہیں.....گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کی زیر صدارت تقریب رونمائی کے دوران میاں مشتاق نے اس ترجمہ کو ہمیشہ کے لیے شائع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم بغیر کسی قیمت اسے گھر گھر پہنچائیں گے.....انہوں نے بھری محفل میں اپنے بھائی اور بیٹوں کو وصیت کی کہ ان کے بعد وہ لوگ یہ کام جاری رکھیں اور ایک ایڈیشن ختم ہونے سے پہلے اگلا ایڈیشن چھاپ دیا جائے....

ڈاکٹر صاحب نے اس نشست میں یہ ایمان افروز واقعہ بھی سنایا کہ ابھی چند پاروں کا ترجمہ ہوا تھا کہ مجھے عمرہ کی سعادت مل گئی.....میں ابتدائی مسودہ ساتھ لے گیا.....میں نے کعبہ کی چوکھٹ پر نسخہ رکھ کرجھولی پھیلادی کہ مولائے کریم اگر آپ کی بارگاہ میں یہ قبول ہے تو مجھے ہمت دے کہ میں اسے مکمل کرلوں.....

 ڈاکٹر طاہر مصطفے کہنے لگے لوگ سوال کرتے ہیں غیر منقوط ترجمے کی کیا ضرورت تھی...؟؟؟عرض کرتا ہوں میں نے خود یہ کام نہیں کیا ،مجھ سے یہ خدمت لی گئی ہے.....سمندر سا گہرا اور صدیوں سا طویل کام اس ڈاکٹر طاہر سے لیا جس کو تیس لفظوں پر مشتمل مختصر تحریر لکھنی نہیں آتی....  عطا دیکھئے کہ اس عاجز سے  30پاروں پر مشتمل مکمل قرآن کریم کا غیر منقوط تفسیری ترجمہ کرادیا....ہاں یہ طمع تھی کہ اللہ میری ذات کو پوری دنیا میں ایک امتیازی اعزاز عطا کردے اور اس اعزاز کی نسبت قرآن اور صاحب قران صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو.....الحمد للہ! قرآن سے میری "امتیازی نسبت" اس غیر منقوط ترجمے سے حاصل ہو گئی اور صاحب قرآن صلی اللہ علیہ وسلم سے میری ذاتی نسبت" اسما  النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم   "کے موضوع پر پی ایچ ڈی مقالے سے پہلے سے قائم ہے......خوش نصیب ہوں جو مانگا مل گیا...........اسم محمد و احمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بوسوں سے میرے قلب و ذہن کو ایسی روشنی ملی کہ مجھ پر قرآن کا "غیر منقوط جہان" کھل گیا.....

 انہوں نے بتایا کہ 14مئی 2011کو شروع ہونے والا ترجمہ صرف 2سال16دن میں مکمل ہو گیا.......بعض اوقات ایک دن میں دو آیات کا ترجمہ ہو جاتا.....بعض اوقات 22دن تک ایک منقوط لفظ کا غیر منقوط متبادل نہیں ملتا تھا......پھر اللہ وہ لفظ میرے ذہن میں ڈال دیتا تھا ....اس طرح 30مئی 2013کو کلام اللہ کا اردو زبان میں پہلا غیر منقوط تفسیری ترجمہ تکمیل کو پہنچا.......7سال نظر ثانی ہوتی رہی تب کہیں جاکر طباعت کا مرحلہ آیا.......

کہنے لگے:1421صفحات پر مشتمل تفسیری ترجمے میں 98فیصد الفاظ اردو،صرف 2فیصد دوسری زبانوں کے ہیں، جن کا اردو میں کوئی نعم البدل نہیں تھا....میری یہ مجبوری شاید دوسری زبانوں کی سعادت بن گئی جو اس تفسیری ترجمے میں استعمال ہو گئیں...

ارباب اختیار سے نالاں ڈاکٹر صاحب خوش تھے کہ گورنر بلیغ الرحمان بڑی عقیدت سے دوسرے ایڈیشن کی "تقریب پذیرائی" میں تشریف لائے.......کہنے لگے دل کو قدرے تسلی ہوئی کہ چلیں کہیں تو کوئی قدردان ہے.......درس کلام اللہ کے پہلے ایڈیشن کی تقریب رونمائی بھی ہمیشہ یاد رہے گی کہ ہم پورا ایک دن پنجاب کے اس وقت کے وزیر اوقاف کے پیچھے بھاگتے رہے.....ان دنوں ڈاکٹر صاحب نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک ہزار نسخے چھپوائے.....مینار پاکستان کے سبزہ زار میں بنے" پوئٹ کیفے" میں تقریب ہوئی.....ہمیں ایک مہمان خصوصی چاہئیے تھا.....سوچا صوبائی وزیر اوقاف پیر سعید الحسن شاہ کو بلاتے ہیں........میں نے ظفروال سے تعلق رکھنے والے صحافی دوست جناب مجیب اللہ کو فون کیا کہ ڈاکٹر طاہر مصطفے نے تاریخ ساز کام کیا ہے......آپ پیر صاحب کے ووٹر سپورٹر ہیں.....کیا ا ن سے وقت مل سکتا ہے .....؟میں نے انہیں واضح کیا کہ پیر صاحب کو بلانے کا واحد مقصد یہ ہے کہ وہ وزارت اوقاف کی طرف اس کاوش کی ترویج و اشاعت کا اعلان کریں.....انہوں نے کہا یہ کون سا مسئلہ ہے پیر صاحب تو گھر کے آدمی ہیں.....گرمیوں کی اس چلچلاتی دوپہر کو میں اور برادرم افتخار سعید صاحب مجیب اللہ کی قیادت میں سیکرٹریٹ پہنچے ......پتہ چلا پیر صاحب والٹن ہیں......وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ شاہ جی سیکرٹریٹ چلے گئے ہیں......سیکرٹریٹ پہنچے تو پتہ چلا "سرکار جی" داتا صاحب تشریف لے گئے ہیں......داتا دربار گئے تو حضرت گلے میں پھولوں کا ہار ڈالے ایوان اوقاف میں داخل ہو رہے تھے.....انہوں نے مجیب اللہ صاحب کو دیکھا نہ ان کے سٹاف نے انہیں اندر جانے دیا.....کافی دیر بعد باہر نکلے تو مجیب اللہ نے کھڑے کھڑے انہیں مدعا بتایا تو وہ "تحقیق" میں پڑگئے کہ یہ پہلا غیر منقوط ترجمہ کیسے ہوا؟ پروگرام میں شرکت کے لیے باقاعدہ ہاں کرنے کے بجائے گول مول بات کرکے چلتے بنے......تقریب سے ایک دن پہلے تصدیق فرمانے لگے کہ اس ترجمہ قرآن کے لیے تصدیقی سرٹیفیکٹ جاری ہوا ہے؟موصوف کو تصدیق نامے کا سیریل نمبر بھیجا تو بھی "ڈبل مائنڈڈ" تھے.......پھر نا چاہتے ہوئے تشریف لائے اور فرمانے لگے لوگوں کوکیا پتہ کہ ہمارے کتنے مسائل ہوتے ہیں؟تقریب میں کلیدی خطاب بھی موصوف کا تھا مگر کوئی خاص گفتگو کر سکے نہ کوئی خاص اعلان اور ہٹو بچو میں واپسی کی راہ لی.....حکومتیں سدا رہتی ہیں نہ وزارتیں...... اقتدار کے ایوانوں میں سجی عالی شان کرسیاں اور بڑے بڑے پروٹوکول بھی عارضی   ہیں.....ہاں مگر قرآن مجید کے لازوال نغموں سے زمانے گونجتے رہیں گے....!!!

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -