یوم آزادی اور ہماری اجتماعی قومی ذمہ داریاں

یوم آزادی اور ہماری اجتماعی قومی ذمہ داریاں
 یوم آزادی اور ہماری اجتماعی قومی ذمہ داریاں
سورس: Twitter

  

ہم یہ بات برسوں سے لکھتے اور سوچتے آرہے ہیں لفظ اور کہانی پرانی ہی نہیں ہوتی ہے۔تقسیم ہند کے موقع پر برِصغیر کے مسلمانوں نےاپنا حال قُربان کیا تھا اور پاکستان کے مسلمان کے مستقبل کی داغ بیل ڈالی تھی۔ وہ وجودِ پاکستان کو اُمتِ مسلمہ کیلئے ایک محفوظ خطّہ تصورکرتے تھے – ایمانداری، پیشہ واریت اور ترقی کی ایک شاندار مثال- اُن کا ایک خواب تھا کہ وہ اس کے لیے جئیں اور اسی کیلئے مریں۔ جب اُن کا پیچھا کر کے اُن کو نشانہ بنایا جا رہا تھا تو اسی وطن کی خاطر اُنھوں نے اپنی بیٹیوں کو قُربان کر دیا اور جب ٹرینوں کا گھیراوَ کر کے آنکھوں میں آزاد ملک کے خواب لے جانے والےمُسافروں کو ذبح کیا جا رہا تھا تو کس دلیری سے بارڈرپار پہنچےکیونکہ ایک امید ان کی قربانیوں کے آگے استقبال کے لئے موجود تھی۔ اس وطن کی بنیادوں میں تقریباً 40 لاکھ انسانوں کا خون شامل ہے۔ میں وقتِ حاضر کے حکمرانوں سے اس خواب کی تعبیر کے لیے بروقت اصلاحات کی استدعا کرتا ہوں کہ وہ مل کر قوم کی رہنمائی کا فرض اور قوم کی طرف اپنا قرض ادا کریں۔

میرا پُختہ یقین ہے کہ پانی خواہ کتنا ہی شفاف کیوں نہ ہو اگر تسلسل کے ساتھ نہ بہے اور ایک ہی جگہ کھڑا رہے تو بد بودار ہو جاتا ہے کُچھ ایسی ہی صورتِ حال سیاسی جماعتوں کے عہدوں کے ساتھ بھی ہے۔شہباز شریف کا وزیر اعظم بننا چیلنج سے کم نہیں، ایک ایسے وقت میں مشکل فیصلے لینا جب  حزب اختلاف بھی صف آراءہے واقعی دلیری کا کام ہے۔ مُجھے اُمید ہے کہ شہباز شریف کی  کاوشیں  کارآمد ثابت ہوں  گی اور وہ گُڈ گورننس، احتساب،قانون کی حکمرانی اور انصاف جیسی 73ء کے آئین کی واضح خصوصیات کی روشنی میں ایک ایسا پارلیمانی جمہوری نظام پیش کریں گے  کہ آنے والے سالوں میں قوم وطنِ عزیز کے سیاسی رنگ ڈھنگ اور سٹائل میں تبدیلی دیکھے گی اور میرے ہم وطن ہمیشہ کے لیے بد نظمی سے نجات حاصل کریں گے۔

میں محسوس کرتا ہوں کہ مفادِ عامہ کی قانون سازی نے برسوں سے غلامی میں دبی  لاکھوں آوازوں کو اُمید، رسائی اور زبان دی ہے۔ اس ابتداء کو آنے والے دنوں میں تقدّس، استحکام اور ادارتی ضمانت  ملنی چاہیئےاور یہ سب ووٹ کی حرمت سے ہی ممکن ہے۔ وزیرِ اعظم کو پارٹی دفتروں اور پارلیمانی ارکان کو متحرک کر کے مفادِ عامہ کی خاطر مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ کھلی کچہریاں لگانے کے امر کو یقینی بنانا چاہیئے۔تھکی ہوئی بیوروکریسی کے سامنے لگی فائلوں کے ڈھیروں کو کم کرنے کے لیے ہسپتال، سکولوں، سول و کریمینل کورٹس اور پولیس اسٹیشن جیسی بنیادی سہولتوں کے تمام اختیارات ناظموں کو منتقل کیے جائیں۔ اور ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے نوکریوں کے مزید مواقع پیدا کر کے جوان خون بھرتی کیا جانا چاہیئے۔

ہر شہری کے لیے میٹرک تک مفت تعلیم کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔  اس اَمر کو سمجھتے ہوئے کہ سادہ گریجویشن ایک ترقی پذیر مملکت کے کسی کام کا نہیں ہمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجنیئرنگ اور سائنس کی تعلیم کو فروغ دینا ہو گا اور ایک ملک ایک نظام کی طرح مختلف طبقات کے تعلیمی فرق کو دور کرکے  یکساں نظام متعارف کروانا ہو گا۔ مزیدِ برآں اوور ایج طلباء کے لیے شام کی کلاسز کا اجراء کرنا ہو گا تا کہ دن کو گھر چلانے والے شام کو علم سے مستفید ہو سکیں۔

سرکاری ہسپتال میں ضرورت مند مریض کے چیک اَپ سے لے کرادویات تک سب مفت ہونا چاہیئے۔  تمام ہسپتالوں  اور میڈیکل سینٹرز پر لاَئف سیونگ ڈرگز کی دستیبابی کویقینی بنانا ہو گا۔ ایمرجنسی کیسز کی صورت میں ڈاکٹرز پہلے مریض کی جان بچائیں نہ کہ آیف آئی آر کا انتظار کریں اور ڈاکٹروں کو ہڑتال سے ہاتھ اٹھانا ہوگا۔ احتجاج ہو بھی تو کار سرکار متاثر نہ ہو۔ یہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔

میں پاکستان میں آئین، انصاف اور قانون کی ایسی حکمرانی جس میں احتساب مگر سب کا اور گورننس سے بھرپور جمہوریت کے لیے عوام سے درخواست گزار ہوں کہ اپنے ووٹ کا بروقت اور صحیح استعمال کریں اور اس کی حفاظت کریں ، ملک کی آبیاری کریں یہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا عظیم تحفہ ہے ،آزادی انمول نعمت ہے اس کی قدر  ہر پاکستانی پر از حد ضروری ہے ۰ پاکستان زندہ باد قائد اعظم پائندہ باد ۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -