نادر شاہ جگہ جگہ قتل عام، آتش زنی اور لوٹ مار کرتا ہوا دہلی میں داخل ہوا

نادر شاہ جگہ جگہ قتل عام، آتش زنی اور لوٹ مار کرتا ہوا دہلی میں داخل ہوا
نادر شاہ جگہ جگہ قتل عام، آتش زنی اور لوٹ مار کرتا ہوا دہلی میں داخل ہوا

  

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد

قسط:13 

نادر شاہ اور ہندوستان:

نادر شاہ افشار کے ہندوستان پر حملے کے پس پشت جو محرک تھا اس کا تعلق قطعاً مذہب سے نہیں تھا۔ جس وقت اس نے ہندوستان پر چڑھائی کی تو خاندان مغلیہ کا بادشاہ محمد شاہ رنگیلا برسر اقتدار تھا۔ پنجاب کا گورنر نواب زکریا خان تھا جس کی بیوی نے اپنے زیورات فروخت کر کے مسجد شاہ چراغ تعمیر کرائی تھی جو لاہور ہائی کورٹ کی عمارت کی بغل میں واقع ہے۔ نادر شاہ ہندوستان سے ترکوں کے خلاف مہمات کے لیے دولت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ نیز ہندوستان کے صوبہ کابل کے گردونواح سے ان مہمات کے لیے فوج بھرتی کرنی چاہتا تھا۔ نادر شاہ کے ارادے کو ہندوستان کے مخصوص حالات نے تقویت دی۔ ہندوستان کا بادشاہ نااہل اور عیاش تھا اور اس کا دربار ترک، ایرانی، اور ہندوستانی امراءکی باہمی آویزشوں اور ایک دوسرے کےخلاف سازشوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ ان امراءکے ایک گروہ نے جو ایرانی نسل کا تھا مقامی رقابتوں کی بنا پر نادر شاہ کو شہنشاہ ہند کی کئی نسلوں سے جمع ہونے والی بے پناہ دولت لوٹنے کا لالچ دیا اور اسے مغل سلطنت کی کمزوریوں سے بھی آگاہ کیا۔ ان امراءکے ہندوستان فتح کرنے کے دعوت نامے نے نادر شاہ کے پہلے سے موجود ارادوں کو مہمیز دی اس نے یہ بہانہ کیا کہ ہندوستان کا شہنشاہ اس کے افغان دشمنوں کو پناہ دئیے ہوئے ہے۔ اس نے ہندوستان کے دروازے افغانوں پر بند کرنے اور اپنے مخالف افغانوں کو اس کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا اور پھر جواب ملنے سے پہلے ہی ہندوستان پر حملہ کر دیا۔ 

نادر شاہ نے سابق وسط ایشیائی حملہ آوروں کی طرح خونخواری کا مظاہرہ کیا اور جگہ جگہ قتل عام، آتش زنی اور لوٹ مار کرتا ہوا دہلی میں داخل ہوا۔ 

اس کے دہلی کے قیام کے دوران جب یہ افواہ پھیلی کہ نادر شاہ قتل ہو گیا ہے تو اس کے قزلباش سپاہیوں کی لوٹ مار سے تنگ آئے ہوئے شہریوں نے جابجا نادر کی افواج پر حملے کرنا شروع کر دئیے۔ کہا جاتا ہے کہ نادر شاہ اس سے طیش میں آگیا۔ اس نے مسجد میں داخل ہو کر تلوار سونت لی اور قتل عام کا حکم دیا۔ لوک ہارٹ کے الفاظ میں: 

”نادر شاہ نے حکم دیا کہ جہاں کہیں کوئی ایک قزلباش بھی مارا گیا ہو وہاں کی ساری آبادی کو تہہ تیغ کر دیا جائے۔ صبح 9بجے کے قریب ایرانی فوج نے اپنی ہولناک کارروائی کا آغاز کیا۔ جب بازاروں میں موجود لوگ قتل کر دئیے گئے تو ایرانی فوجیوں نے دکانوں اور مکانوں کے دروازے توڑ کر اندر موجود لوگوں کو تہہ تیغ کر دیا اور جو کچھ ملا اٹھا لائے۔ صرافہ بازار لوٹا گیا، جوہریوں اور تاجروں کی دکانیں برباد کر دی گئیں، بہت سی عمارتوں کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا اور ان کے مکینوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ اس بات کا کوئی لحاظ نہ کیا گیا کہ کوئی خطا کار ہے یا بیگناہ، مرد ہے یا عورت، بوڑھا ہے یا بچہ۔“ 

اس قتل عام کے بعد جس کی اجازت کوئی مذہب نہیں دیتا لیکن جو وسط ایشیائی روایات کے عین مطابق تھا نادر شاہ نے شہری آبادی کو مزید سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے حکم دیا کہ لاشوں کو دفن کرنے نہ دیا جائے تاکہ دہلی کے لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ مورخین نے اس قتل عام میں مارے جانے والوں کی تعداد 8 ہزار سے لے کر 4 لاکھ تک بیان کی ہے۔ محتاط اندازہ یہ ہے کہ ان لوگوں کو چھوڑ کر جنہوں نے خوف کے مارے خود کشی کی اور جن میں عورتیں پیش پیش تھیں کوئی 20 ہزار آدمی ایرانی قزلباشوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ لوک ہارٹ ہی کے الفاظ میں: ”قتل عام کے بعد چند دن تک شہر کی گلیاں لاشوں سے پٹی رہیں۔ صحت عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے نادر شاہ نے کوتوال شہر کو حکم دیا کہ انہیں جمع کر کے آگ لگا دی جائے۔ تباہ شدہ مکانوں کی عمارتی لکڑی سے جگہ جگہ چتائیں تیار کی گئیں۔ جن میں ان لاشوں کو خواہ وہ مسلمانوں کی تھیں یا ہندوﺅں کی مذہب اور عقیدے کی تمیز کیے بغیر جلا دیا گیا۔ کئی ہزار لاشیں دریائے جمنا میں بہا دی گئیں۔“

یہ تھا وہ سلوک جو نادر شاہ نے دہلی کے باشندوں کے ساتھ کیا۔ مقامی مسلمانوں کو نہ صرف قتل کیا بلکہ ان کی نماز جنازہ یا کفن دفن کی اجازت بھی نہ دی۔ جیسا کہ واضح ہے ان میں سے بیشتر قطعی طور پر بے قصور تھے۔ تاہم چنگیز ، ہلاکو، امیر تیمور اور بابر کی طرح نادر شاہ بھی مقامی آبادی کو خوفزدہ کر کے کنٹرول کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھا۔ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -