پیر پگاڑوکاآج کاجلسہ سندھ کے بدلے سیاسی منظر میں کوئی رنگ بھر سکے گیا

پیر پگاڑوکاآج کاجلسہ سندھ کے بدلے سیاسی منظر میں کوئی رنگ بھر سکے گیا
پیر پگاڑوکاآج کاجلسہ سندھ کے بدلے سیاسی منظر میں کوئی رنگ بھر سکے گیا

  

آج حیدر آباد میں حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑو (ہشتم) کا ”شو آف پاور“ سندھ کے سیاسی منظر کو کتنا متاثر کرپائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا کوئی حتمی جواب فی الوقت ممکن نہیں ہے۔ اس کاکچھ اندازہ اس ”شو آف پاور“ کے بعد سندھ کی سطح پر بننے والی نئی انتخابی صف بندی کا نقشہ واضح ہونے کے بعد ہوسکے گا کہ یہ کس طرح کا ہوگا؟ اور یہ بھی کہ حروں کے نئے روحانی پیشوا پیر صبغت اللہ شاہ راشدی میں اپنے والد مرحوم پیر پگاڑو (ہفتم) کی طرح کسی بدلتی سیاسی صورت حال کو اپنی گرفت میں لے کر حکمران اتحاد کی مخالف سیاسی قوتوں کو اپنے گرد جمع کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں ہے۔ پیر پگاڑو مرحوم کی حکمت عملی کے برعکس ان کے جانشین بیٹے اپنی طاقت کی بند مٹھی کو کھول کر سندھ بھر سے اپنی طاقت کو حیدر آباد میں جمع کرکے شو آف پاور کررہے ہیں تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ انتخابات کے اعلان سے قبل پیرپگاڑو کی یہ حکمت عملی ان کی سیاسی قوت میں اضافہ کا باعث ہوگی یا ان کے سیاسی مخالفوں کو متحرک کرنے کا باعث بنے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حیدر آباد میں آج پیرپگاڑو کے ”حر“ مرید اتنی بڑی تعداد میں شریک ہوں گے کہ حالیہ دور میں ہونے والے سیاسی جلسوں کی تاریخ کا بھی یہ ایک بہت بڑا جلسہ ہوگا، اور ”حروں“ کا بھی سب سے بڑا ”شو آف پاور“ ہوگا کیونکہ چار عشروں کے بعد پہلی بار حروں کے روحانی پیشوا نے اپنے مریدوں کو حکم دیا ہے کہ وہ سب سیاسی جلسے میں آئیں۔ اس سے قبل موجودہ پیرپگاڑو کے والد مرحوم پیرپگاڑو(ہفتم) پیر مروان علی شاہ نے ستر کے عشرے میں اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا تھا جب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں بننے والے سیاسی اتحاد پی این اے کی تحریک میں حروں کے روحانی پیشوا پیرپگاڑو خود پہلی بار سیاسی جلسوں سے خطاب کرنے باہر نکلے تھے۔ پیرپگاڑو ہر سال اپنے مریدوں کو پیرجوگوٹھ میں زیارت کراتے ہیں جس میں سندھ بھر سے حرمرید اپنی فیملی کے ساتھ جمع ہوتے ہیں مگر حروں کے موجودہ روحانی پیشوا ستر کے عشرے کے بعد پہلی بار سیاسی اجتماع سے خطاب کریں گے۔جلسہ گاہ میں حرمرید ہوں گے، البتہ سٹیج پرسندھ کی قوم پرست سیاسی شخصیات اور حزب اختلاف کو قومی سیاسی جماعتوں کے نمائندے موجود ہوں گے جس میں مسلم لیگ (ن) بھی جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، جی ایم سید کے پوتے سید جلال محمود شاہ، ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو ، ڈاکٹر صفدر سرکی، صغان قریشی، علی حسن چانڈیو سمیت سندھی دانشور، ادیب اور شاعر بھی موجود ہوں گے۔ اگرچہ یہ جلسہ مسلم لیگ فنکشنل کے زیراہتمام ہورہا ہے مگر جلسہ گاہ کے اندر پیرپگاڑو کے مرید ہوں گے اور کسی دوسری سیاسی جماعت کو اپنا پرچم لانے کی اجازت نہیں ہوگی، پرچم پاکستان کا ہوگا یا صرف مسلم لیگ کا....نئے بلدیاتی نظام کے خلاف حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی قومی سیاسی جماعتیں اور سندھ کی قوم پرست قوتیں، سندھ یونائٹڈ پارٹی کے رہنماسید جلال محمود شاہ کی قیادت میں ”سندھ بچاﺅ“ کے پرچم تلے تحریک چلارہے ہیں۔ سندھ کی قوم پرست قوتیں پہلی بار قومی سیاست کرنے والی ملک گیر سیاسی جماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحاد میں شریک ہونے جارہی ہیں۔ آج کا جلسہ سندھ کی سطح پر پیرپگاڑہ کی قیادت میں موثر انتخابی اتحاد تشکیل دے سکے گا؟ اس حوالہ سے مختلف سیاسی حلقے الگ الگ تبصرے اور تجزیے کررہے ہیں تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ واضح ہے کہ سندھ میں شوآف پاور مقابلے کی فضا ضرور پیدا کرے گی۔ 1988ءسے 2008ءتک اندرون سندھ پیپلزپارٹی اور شہری سندھ میں ایم کیو ایم کو جس طرح کا ماحول میسر رہا ہے، وہ اب ممکن نہیں ہوگا۔

آج کا جلسہ 90 ایکڑ کے وسیع وعریض کھلے میدان میں حیدر آباد بائی پاس پر اسریٰ یونیورسٹی کے پرائیویٹ رقبہ پر ہوگا، جہاں 200 فٹ لمبا اور 42 فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا گیاہے، میڈیا کوریج کیلئے بھی خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ جمعرات کی شام تک جلسہ گاہ کے اندر ہزاروں حرمرید اپنی فیملیوں کے ساتھ پہنچ چکے ہیں، سندھ بھر سے ہزاروں لوگ قافلوں کی شکل میں حیدر آباد آرہے ہیں۔ پیرپگاڑو حیدر آباد پہنچ چکے ہیں وہ جمعہ کے دن بارہ بجے سے قبل جلسہ گاہ میں پہنچ جائیں گے ۔ جلسہ گاہ میں ہی نماز جمعہ کا اہتمام کیا گیا ہے، تاکہ جلسہ نماز جمعہ کے فوری بعد شروع ہوسکے جلسہ سے پیرپگاڑو کے علاوہ سندھ کی قوم پرست سیاسی جماعتوں اور مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی اور اے این پی کے رہنما خطاب کریں گے۔ سندھی ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کی طرف سے ان کا کوئی ایک نمائندہ اس جلسہ سے خطاب کرے گا۔

پیر پگاڑو کا جلسہ

مزید :

تجزیہ -