پاکستانی امریکنیز اور پاکستان

پاکستانی امریکنیز اور پاکستان
 پاکستانی امریکنیز اور پاکستان

  

امریکی صدر بارک اوبامہ نے 6دسمبر کی رات امریکی قوم سے خطاب کرتے ہوئے جہاں ان کا داعش کے ڈر خوف دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ بالآخر اس پر غلبہ پالیا جائے گا وہاں انہوں نے مسلم امریکینزاور اسلام کے ساتھ ساتھ پاکستانی امریکینز کا مضبوط دفاع بھی کیا۔ امریکہ کے مغربی ساحل پر واقع ایک بڑی ریاست کیلیفورنیا کے جنوبی شہر لاس اینجلس کے ڈاؤن ٹاؤن سے 55میل مشرق میں واقع سان برنارڈیٹو میں جس جوڑے نے فائرنگ کرکے 14معصوم شہریوں کی جان لی تھی اس کا تعلق پاکستان سے تھا جس کا ظاہر ہے ملبہ پاکستان پر پڑنا تھا۔ پاکستان تو دور تھا، لیکن پاکستانی امریکینز تو وہیں موجود تھے۔ ساری نگاہیں ان پر مرکوز ہو رہی تھیں۔ ایک تو پاکستانی امریکینز کا یہاں ٹریک ریکارڈ صرف اچھا نہیں بہترین ہے۔ مذہبی انتہا پسندی سے متاثر تخریبی ذہن رکھنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے، دوسرے ڈونلڈ ٹرمپ جیسے غلط سوچ رکھنے والے لیڈروں کو چھوڑ کر یہاں متوازن اور سلجھی ہوئی سوچ کے مالک رائے عامہ کے لیڈروں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جس کے باعث پاکستانیوں کی بچت ہی رہی۔ صدر اوبامہ کی تقریر نے تو بالکل معاملہ ٹھنڈاکردیا۔ ورنہ پاکستان میں موجود لیڈروں، مذہبی رہنماؤں اور میڈیا نے جانے انجانے میں پاکستانی امریکنوں کو توپوں کے آگے کھڑا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پاکستانی امریکینز کو بچانے کے لئے جو کام پاکستانی وزیراعظم کو کرنا چاہئے تھا وہ صدر اوبامہ نے کردیا۔

وزیراعظم ہاؤس کے تعلقات عامہ کے مشیروں کو یہ تقریر سننی اور پڑھنی چاہئے کیونکہ انہیں ایسی ہی تقریر لکھ کر وزیراعظم کو دینی چاہئے تھی۔ وزیر اعظم پاکستانی امریکینز سے زبانی کلامی محبت کا اظہار تو بہت کرتے ہیں، لیکن کئی برسوں کے بعد جب دوسری مرتبہ پاکستانی کمیونٹی سے واشنگٹن کے سفارت خانے میں خطاب کیا وہ شرمندگی کے سوا کچھ نہیں تھا۔ وہ اوپر کی منزل پر واقع ہال میں پچھلے دروازے سے سٹیج پر آئے وہ پاکستانی حکومت اور ریاست کی عمارت تھی جہاں پوری قوم کے وزیراعظم نے خطاب کرنا تھا، لیکن ان کی خواہش کے مطابق اسے مسلم لیگ (ن ) کی ایک محدود کارنر میٹنگ بنا دیاگیا۔ سٹیج پر پاکستانی سفیر نے تو بہرحال بیٹھنا تھا کہ بھرم کیسے قائم رہتا۔ باقی سٹیج پر نیو یارک سے درآمد کردہ مسلم لیگ(ن) کے دو تین عہدیدار اور ایک وزیراعظم کے ذاتی دوست جوشاید ان کے مبینہ طورپر موجودہ یا سابق کاروباری پارٹنر تھے بیٹھے تھے۔ سامنے زیادہ تر نون لیگ کے کارکن اور چند ایک عہدیداروں کے منتخب کردہ کمیونٹی کے افراد تھے اوپر سے ملنے والی ہدایت کے مطابق سفارت خانے کے سٹاف نے یہ سب انتظام نون لیگ کے عہدیداروں کی مرضی کے مطابق کیا تھا۔ میں بھی وہاں موجود یہ سب تماشا دیکھ رہا تھا۔ لیکن میں نے اپنے پاکستان کی محبت میں اپنی رپورٹ میں غلط لکھا کہ وزیراعظم نے پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا۔ جب کہ ہمارے دوست ڈان کے انور اقبال نے درست رپورٹنگ کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے پاکستانی سفارت خانے میں نون لیگ کے کارکنوں سے خطاب کیا جہاں کمیونٹی کے چند ارکان بھی موجودتھے۔ خطاب کے بعد وہاں سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ وزیراعظم واپس پچھلے دروازے سے اس طرح نکل کر گئے کہ پھر کسی کو نظر نہیں آئے۔ انہوں نے وہاں کھانا کھانا بھی گوارا نہیں کیا۔

ان سے بہتر تو جنرل راحیل شریف ثابت ہوئے جو اگر وزیراعظم کی طرح حرکت کرتے تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہوتا کہ وہ کوئی عوامی لیڈر نہیں ہیں۔ جنرل راحیل شریف نے جب اسی سفارت خانے میں اسی جگہ خطاب اور ڈنر کیا تو وہاں پورا عوامی، قومی اور جمہوری ماحول تھا۔ جنرل صاحب سامنے کے راستے سے اوپر کی منزل تک آئے۔ خطاب سے پہلے ایک ایک مہمان سے فرداً فرداً ہاتھ ملایا۔ اس کے بعد مہمانوں کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔ ایک رپورٹر نے جوان کے ساتھ ساتھ ان کا قریبی جائزہ لے رہا تھا مجھے بتایا کہ کمیونٹی کے سب لوگوں سے ملتے ہوئے انہوں نے پورے تحمل سے باتیں سنیں اور کسی کا فقرہ کاٹ کر آگے نہیں بڑھے۔ ایک تو وہ پہلے ہی بہت مقبول تھے، کمیونٹی کے ساتھ اس تقریب میں وہ ایک بار پھر سب کا دل جیت کر لے گئے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ امریکیوں کے لئے بہت ہی چھوٹے پیمانے پر نائن الیون کی سی کیفیت پیدا ہوئی۔ اس واقعے سے قبل القاعدہ اس طرح بے نقاب نہیں ہوئی تھی کہ متوازن ذہن کے مسلمانوں میں اس سے نفرت پیدا ہوتی۔ اس کے بعد امریکہ کے اندر اور باہر جن افراد پر دہشت گردی کا الزام لگتا رہا وہ کم ازکم نام کے مسلمان ضرور تھے لیکن پاکستانیوں کا نام شاذونادر ہی آتا رہا۔ غالباً سب سے پہلا نام خالد شیخ محمد کا لیا جاسکتا ہے جو صحیح معنوں میں پاکستانی نہیں تھا اس کی پیدائش کویت میں ہوئی تھی ، لیکن اس کے والدین کا تعلق کراچی سے تھا۔ وہ آج بھی گوانتاتاموبے کی جیل میں ہے جس کی عدالت میں جذباتی تقریر میں نے خود سنی ہے جسے نائن الیون کا ماسٹر مائنڈ کہا جاتا ہے۔ اس نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کی عمارت پر حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ طاغوتی قوتوں کے خلاف ان کے جہاد کا ایک حصہ ہے۔ اس کے بعد دوسرا اہم نام عافیہ صدیقی کا آیا جس کے القاعدہ سے تعلق کا انکشاف اپنی اسی تقریر میں کیا تھا۔ القاعدہ اور دوسری دہشت گرد تنظیمیں قیدیوں کے تبادلے میں عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، جس سے اس تعلق کو تقویت ملتی رہی ہے، اس کے بعد نیو یارک کے ٹائم سکوائر میں جس پاکستانی نوجوان نے دہشت گردی کی ناکام کوشش کی تھی اس کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ اسے پاکستان سے اس مقصد کے لئے تیار کرکے بھیجا گیا تھا۔ لیکن کیلیفورنیا کا سانحہ تو ایسا ہے جو کیا ہی ایک پاکستانی جوڑے نے ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر جس غیر ذمہ دارانہ ردعمل کا مظاہرہ کیا اس کو ایک طرف کرکے کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں یا پاکستانیوں کے خلاف عمومی طورپر یہاں اس طرح غم و غصہ کا اظہار نہیں ہوا جو ایک جذباتی فضا میں ہوسکتا تھا۔

لیکن پاکستانیوں کے ساتھ کیا ہوا یا کیا نہیں ہوا میرا موضوع اسی تک ہی محدود ہے اس لئے میں صرف ان کا ہی ذکر کروں گا ۔ ایف بی آئی کے مطابق یورپ کی طرح امریکہ سے بھی تھوڑے بہت مسلم امریکینز شام اور عراق میں داعش کا ساتھ دینے گئے ہیں لیکن غالباً ان میں کسی پاکستانی کا نام نہیں آیا۔ ہوسکتا ہے پاکستانی امریکینز میں داعش یا دہشت گردوں کے ہمدرد ہوں، لیکن ایف بی آئی کی طرف سے پاکستانیوں کا کوئی نام سننے میں نہیں آیا۔ میں نے خود امریکی میڈیا میں ایسی رپورٹیں پڑھی اور دیکھی ہیں ، جن میں ایسے پاکستانیوں کے انٹرویو چھپے اور نشر ہوئے جو حجاب استعمال کرتے ہیں یا ان کے چہرے پر بڑی داڑھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کیلیفورنیا کے سانحے کے بعد لوگ الٹا ان سے ڈرتے نظر آتے تھے یا ان سے پرے ہورہے تھے۔ کہ کہیں وہ کوئی کارروائی نہ کردیں۔ لیکن کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ انہیں کسی نے ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ البتہ بغیر حجاب یا داڑھی والے ایسے پاکستانی جن کا معمول کا لباس تھا ان کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ وقتی طورپر تھوڑے بہت سہمے ضرور تھے۔

ایسے مشکل وقت میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے نے وہ کام کیا جو اس کا حق بنتا تھا۔ پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی اعلیٰ امریکی حکام اور اہم سیاسی لیڈروں سے مسلسل رابطے میں رہے۔ وہ انہیں بتاتے رہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کے علاوہ پاکستانی امریکینز اس شوٹنگ کی پرزور مذمت کرتے ہیں پریس اٹیچی ندیم ہتیانہ امریکی اور پاکستانی پریس کو معلومات کی فراہمی میں پیش پیش رہے اور کمیونٹی کے اہم افراد کو حوصلہ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ لیکن پاکستان میں ہمارے سیاسی اور رائے عامہ کے لیڈروں اور میڈیا نے اس سانحے کو کس طرح رپورٹ کیا اور اس پر کس طرح تبصرے کرتے رہے اس کے بارے میں اتنا کہنا کافی ہے کہ انہوں نے پاکستانی امریکینز کو بچانے کی بجائے ان کے لئے مشکلات ہی پیدا کیں۔ جہاں تک رپورٹنگ کا تعلق ہے اس میں سب سے پہلے تو بڑی مشکل سے یہ اعتراف کیا گیا کہ حملہ آور پاکستان سے تعلق رکھتے تھے لیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون تاشفین ملک کا معاملہ اتنا کھل کر سامنے آیا تو اسے پاکستانی تو تسلیم کر لیا گیا لیکن اس کا ذکر کرتے ہوئے بار بار کہاگیا کہ وہ کچھ عرصہ سعودی عرب میں بھی رہی ہے۔ کیا اس سے اس کی پاکستانی حیثیت کم ہوجائے گی۔ اگر کوئی خاندان پاکستان سے مائیگریٹ کرکے امریکہ آتا ہے جس کے وہاں بچے پیدا ہوں تو وہ پیدائش کے لحاظ سے یقیناًً امریکی ہوں گے۔ لیکن وہ عملاً پاکستانی ہی کہلائیں گے۔ سید رضوان فاروق کا یہی معاملہ ہے۔ اب اگر اسے پاکستانی اوریجن کا حامل مان لیا جائے تو اس سے پاکستان کا کوئی قصور تو نہیں نکلتا۔ کہنے کو طالبان کی شہریت بھی پاکستانی ہے۔

یہ معاملہ تو رپورٹنگ کا تھا یا لیڈروں کے بیانات میں ان کی شناخت کا تھا۔ اس واقعے پر پاکستان میں مبصروں نے جو تبصرے کئے ہیں وہ میرے لئے بہت دلچسپی کا باعث ہیں۔ صدر اوبامہ نے جس طرح واضح کیا کہ اگر اکا دکا کوئی شخص ایک غلطی کرتا ہے تو اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی تقریر کی عمومی طورپر تعریف ضرور کی گئی۔ لیکن تقریباً ہرتبصرے میں یہ وضاحت کی گئی کہ کیلیفورنیا کے واقعے کی وجہ سے پاکستان پر تنقید کا کوئی جواز نہیں ہے۔ میرا سوال صرف اتنا ہے مبصرین نے پہلے خود یہ فرض کرلیا کہ اس حوالے سے پاکستان پر تنقید ہوئی ہے اور پھر اس فرضی ٹارگٹ پر چڑھائی شروع کردی جس نے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے۔ میرا تو کام ہی یہی ہے۔ میں نے اس سانحے کے حوالے سے سب چھپنے یا نشر ہونے والے بیانات کا بار بار جائزہ لیاہے لیکن مجھے کوئی ایک شخص یا ادارہ نہیں ملا جس نے اس سلسلے میں پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا ہو۔ اگر دو پاکستانیوں کا ذکر ہوا ہے تو پاکستان پرالزام کہاں سے آگیا؟ امریکہ میں موجود پاکستانی سفیر جلیل عباسی جیلانی اور پریس اٹیچی ندیم ہتیانہ نے پاکستانی سفارت کاروں کے ضروری کردار کی مثال قائم کی۔ پاکستانی امریکینز اور مسلم امریکینز کی تنظیموں کے بیانات پر ایک نظر ڈالئے۔ امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کی ٹھوس نمائندگی والے ورجینیا کے ری پبلکن پارٹی کے اہم لیڈر حنیف اختر کے خیالات سنیئے تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ایسے مشکل وقت کیا کرنا چاہئے تھا۔ معاف کیجئے پاکستانیوں کے خلاف آگ بھڑکنے سے پہلے ہی بجھا دینے والے ایک غیرپاکستانی صدراوبامہ نکلے۔ ہمیں پاکستان سے ایسی ٹھنڈی ہوا آنے کی امید تھی لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

مزید :

کالم -