سرمایہ کاری کے بنیادی تقاضے

سرمایہ کاری کے بنیادی تقاضے
 سرمایہ کاری کے بنیادی تقاضے

  

کاروباری اور سرمایہ کاری کے ماحول کی پہچان اور اڑان سے واقف ہر شخص جانتا ہے کہ سرمایہ کاری ہمیشہ پُرامن اور خوشگوار ماحول کی تلاش میں رہتی ہے، اسے کسی خاص علاقے، ملک یا شہر سے لگاؤ یا محبت نہیں ہوتی، امن، میرٹ اور انصاف اس کے بنیادی تقاضے اور ٹھکانے ہیں، کوئی نہیں چاہے گا کہ اس کا سرمایہ غیر محفوظ ہاتھوں میں جائے،ایسی جگہ لگے جہاں محفوظ رہنے کی ضمانت نہ ہو، جہاں اس کے چھن جانے کا اندیشہ ہو، جہاں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو، پراپرٹی، دکان یا مکان پر ناجائز قبضہ ہو جانے کا خوف دامن گیر رہے۔ پاک فوج کے ضربِ عضب اور رینجرز کے کراچی آپریشن سے پہلے ملک میں کچھ اِسی قسم کی صورت حال تھی۔ دہشت گردی زوروں پر تھی، مسجدوں، امام بارگاہوں اور پبلک مقامات پر آئے روز خود کش حملے انسانوں کو لقمہۂاجل بنا رہے تھے۔ سرمایہ کار اور صنعت کار خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے تھے۔ کاروباری سرگرمیاں سکڑ چکی تھیں۔ اور تو اور دہشت گردوں نے پشاور آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کو بھی گولیوں کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا، پورے ملک میں سراسیمگی پھیل گئی، ہر ماں کلیجہ پکڑ کر بیٹھ گئی، ہر باپ آنکھوں میں آنسو لئے فریاد کناں ہو گیا کہ باری تعالیٰ اب کیا ہو گا۔

کراچی کا یہ عالم تھا کہ بازار میں دکان وہی کھول سکتا تھا جو مُنہ مانگا بھتہ دے سکتا تھا۔ فیکٹری وہی صنعتکار چلا سکتا تھا جو کثیر رقم کا نذرانہ دے سکتا تھا۔ بوری بند لاشوں، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ سے بچ نکلنا اور محفوظ رہنا بہت مشکل تھا۔ کراچی کی مارکیٹیں معمولی معمولی باتوں پربند کرا دی جاتیں، کسی غیر ملکی کاروباری شخص کا تو کراچی آنا دور کی بات تھی۔ اندرون ملک سے لوگوں کا کراچی آنا جانا موت کے مُنہ میں جانے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ قوم کی متفقہ آواز اور جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانے نیست و نابود کر دیئے اور اسلحہ فیکٹریاں تباہ کر دیں۔ لاتعداد دہشت گرد مارے گئے، جو بچے وہ بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ کراچی میں بھتہ خوروں اور ٹارگٹ کلرز کی اچھی خاصی تعداد پکڑی گئی، نامی گرامی ٹارگٹ کلر اپنے انجام کو پہنچے، قانون پسند افسر کو گولی کا نشانہ بنانے والا قاتل عدلیہ کے فیصلے کے باوجود جیل میں من پسند سہولتوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا، اسے پھانسی پر لٹکا کر نشانِ عبرت بنا دیا گیا۔

ان کارروائیوں میں پاک فوج اور رینجرز کے متعدد جوان شہادت کے مقام پر پہنچے، ان جانثارانہ کارروائیوں سے پاک سرزمین گند سے پاک ہونے لگی ہے۔ کراچی میں امن آنے لگا ہے۔ عروس البلاد کی خوبصورتی اور روشنی لوٹ رہی ہے۔ دکاندار بِلا خوف و خطر صبح دکانیں کھولنے لگے ہیں۔ عام لوگ خرید و فروخت کے لئے بلا دھڑک بازاروں کا رُخ کرنے لگے ہیں۔انجمن تاجران کراچی کے عہیداروں کے مطابق گزشتہ دونوں عیدوں پر لوگوں نے دِل کھول کر خریداری کی۔ وزیراعظم پاکستان کی کاوشوں سے خارجہ سرمایہ کاری نے پاکستان کا رُخ کیا ہے۔ دوست ملک چین نے46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کئے۔ تاجکستان اور ازبکستان کے سربراہ پاکستان تشریف لائے اور اقتصادی معاملات میں پیش رفت کی۔اسلام آباد اور لاہور میں سہ روزہ سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں دو سو سے زیادہ خارجہ سرمایہ کاروں نے شرکت کی اور پاکستانی صنعت کاروں کے ساتھ اشتراک عمل کے متعدد معاہدے کئے، جس سے لامحالہ کاروباری ماحول بنے گا،روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔

اس ماحول کو پیدا کرنے کے لئے پاک فوج اور رینجرز کے جوانوں نے شہادتیں قبول کیں، بعض سیاست دان اپنے محسنوں اور پاک وطن پر جانیں نثار کرنے والے اس ادارے کے اختیارات میں توسیع کے بارے میں لیت و لعل سے کام لینے کی کوشش کر رہے ہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ بعض افراد کی خواہشات کے مطابق اگر رینجرز کے اختیارات میں توسیع نہ کی گئی تو کراچی میں امن کا ماحول قائم رہ سکے گا؟ اندرون ملک اور بیرون ملک سے تاجر و صنعتکار اور سرمایہ کار کیا کراچی پہنچنے میں اپنی عافیت سمجھیں گے؟ان تمام سیاست دانوں کی موجودگی میں کراچی خون میں نہلایا جاتا رہا۔ نجی اور سرکاری املاک پر قبضے کئے گئے۔ اب اگر رینجرز کو اپنا مشن ادھورا چھوڑنے کے حالات پیدا کر دیئے گئے تو کیا بھتہ خور اور ٹارگٹ کلر اپنے مقاصد کے لئے قتل و غارت گری تو نہیں مچائیں گے۔ ہر محب وطن کاروباری اور عام آدمی ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں دے گا اس لئے کہ کراچی کیا پاکستان بھر کے لوگوں کا تقاضا ہے کہ کراچی میں رینجرز نہ صرف موجود رہیں، بلکہ مکمل اختیارات کے ساتھ رہیں تاکہ چوروں،ڈاکوؤں، بھتہ خوروں اور ملک دشمنوں کا صفایا کر سکیں۔ کراچی صحیح معنوں میں پاک وطن کی اقتصادی شہ رگ بنی رہے۔ تمام طبقات بلا امتیاز رنگ نسل، علاقائی اور زبان کے تعصبات سے بالا تر ہو کر قائداعظم کی روح کو آسودگی دینے کے لئے محبتوں کی مہک عام کریں۔

مزید :

کالم -