سعودی شہزادوں کے باہمی اختلافات

سعودی شہزادوں کے باہمی اختلافات
 سعودی شہزادوں کے باہمی اختلافات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

طویل عرصے سے سعودی عرب کا شاہی خاندان اندرونی اور بیرونی خدشات اورخطرات سے بطریق احسن نمٹ رہا ہے، جس کی وجہ شہزادوں کے درمیان ذہنی ہم آہنگی اور اتحاد کے ساتھ تیل کی بے تحاشہ آمدن تھی، لیکن اب حالات کروٹ لے رہے ہیں، سعودی سلطنت میں تبدیلیاں وقت کی آواز ہیں، مگر یہ کہنا مشکل ہے کہ کب تک ؟ ۔۔۔ اندرونی بے چینی، بیرونی خطرات اور چیلنج روزبروز بڑھتے نظرآرہے ہیں۔ قارئین کے لئے شاید یہ بات تعجب کا باعث ہو کہ اسرائیل کے لئے یہ تبدیلیاں پریشانی کا باعث ہیں، کیونکہ ہاؤس آف سعود اور اسرائیل کے درمیان ایک خاموش سمجھوتہ موجود رہا ہے جس کی وجہ ایران کا خوف ہے۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثرورسوخ بڑھتا ہے تو یہ دونوں کے لئے ایک ’’مشترکہ مسئلہ ‘‘ ہے، لیکن دونوں ممالک، خصوصاً سعودی عرب اس معاملے میں بڑی احتیاط اور رازداری سے کام لیتا ہے۔ سعودی عرب کے اندر کسی بھی قسم کی بے چینی ہو یا اسرائیل فلسطینی مذاکرات میں ڈیڈلاک ،عراق، شام ، لبنان یہ تمام وجوہات ہیں جو ان دونوں کے لئے پریشانی کا باعث ہیں۔

شاہ سلمان کے حکومت سنبھالنے کے بعد شاہی خاندان میں اندرونی کش مکش شروع ہوگئی ہے، جس کی بڑی وجہ ولی عہد اور شاہ سلمان کا بیٹا محمد سلمان ہے ،30سال کی عمر کا یہ نوجوان اپنے والد کا بہت ہی پیارا، لیکن ساتھ ساتھ بہت ہی ناتجربہ کار بھی ہے۔ ظاہر ہے۔ 30سال کی عمر اور اس سے پہلے کسی اہم ذمہ داری کا تجربہ نہیں، تربیت نہیں ، لیکن یہ نوجوان ولی عہد اس وقت اہم حکومتی اداروں کا سربراہ ہے ، دوسرے ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف اور دیگر شہزادگان اس سے ناخوش ہیں، اگرچہ اس وقت سعودی حکومت کی تمام تر توجہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر مرکوز ہے، لیکن سعودی عرب کے داخلی حالات، خصوصاً شاہی خاندان کے اندر پائی جانے والی بے چینی عدم استحکام پیدا کرسکتی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان اس وقت ایک وقت میں وزیر دفاع ، معاشی اور ترقیاتی کونسل کا چیئرمین ہے جو داخلی طورپر سب سے مضبوط اور مؤثر ادارہ ہے۔ شاہ سلمان نے شاہ عبداللہ کے مقرر کردہ تمام عہدیدار بشمول شہزادگان حکومتی امور سے دور کردیئے ہیں۔ داخلی اور خارجہ پالیسیوں پر بھی شہزادہ محمد بن سلمان اثر انداز ہیں، جس کی وجہ سے شاہی خاندان کے اندر مخالفت جنم لے چکی ہے۔

حال ہی میں دو خطوط منظر عام پر آئے ہیں جو شاہی خاندان میں تقسیم کئے گئے اور گارڈین اخبار میں بھی شائع ہو گئے ہیں۔ یہ خطوط ایک شہزادے کی طرف سے تحریر کئے گئے ہیں، جن کا نام منظر عام پر نہیں آیا (ابھی) ، ان میں تمام شاہی خاندان کو کہا گیا ہے کہ اکٹھے ہوکر ’’ایک نوخیز ، غیر سنجیدہ اور غیرتربیت یافتہ شہزادہ محمد بن سلمان سے نجات حاصل کریں‘‘۔ اس خط میں یہ بھی تحریر ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان (شاہ سلمان کا بیٹا) کے ہاتھوں ہم یرغمال نہیں رہ سکتے جو ’’ذہنی طورپر پوری طرح تندرست بھی نہیں ہے‘‘۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس تحریک کو سینئر شہزادوں اور عوام کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ان خطوط سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ شاہی خاندان میں ایک ناامیدی اور بے چینی پائی جاتی ہے جو احساس محرومی کی وجہ سے ہے۔ یہ خطوط سعودی عرب میں پہلی بار دیکھنے میں آئے ہیں اور اسے معمولی یا عام قرار نہیں دیا جاسکتا، نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، شاہی محل کی راہداریوں میں یہ سرگوشیاں ، بند دروازوں کے پیچھے راز ونیاز ؟

داخلی طورپر سعودی عرب میں’’اسلامی خلافت‘‘ کی طرف سے شیعہ آبادی اور امام بارگاہوں پر حملے بھی ’’اسلامی خلافت‘‘ کو نئی بھرتی اور ’’شاہی حکومت‘‘ کے خلاف جذبات ابھارنے میں مدد دے رہے ہیں۔ اسلامی خلافت کی یہ ’’کامیابیاں‘‘ وہابی نظریے سے مختلف سنی فقہہ سے متعلق تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے بھی کشش رکھتی ہیں، اگر سعودی حکومت شیعہ آبادی کی حفاظت کے لئے سخت اقدامات کرتی ہے تو بھی اس کے لئے مزید پریشانی پیدا ہوسکتی ہے۔ ان میں القاعدہ کے خلاف کامیاب کارروائیوں نے سعودی حکومت کو مقبول بنادیا تھا، لیکن اب صورت حال مختلف ہے۔ ’’اسلامی خلافت‘‘ کی حمایت کے بارے میں مختلف آرا ہیں۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ سعودی حکومت بھی اس میں شامل ہے، کیونکہ ایران کے خلاف جدوجہد میں ’’شیعہ مخالف‘‘ مہم کی امداد اس کی سنی مسلمانوں میں مقبولیت میں اضافہ کرے گی۔

*۔۔۔ان مسائل کے علاوہ عالمی منڈی میں گزشتہ سال سے تیل کی قیمت میں50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے ،اس کے لئے بھی سعودی حکومت کسی حدتک ذمہ دار ہے۔ تیل کی قیمت میں کمی کی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، ایران کی مداخلت اور ایرانی معیشت کو، جس کا دارومدار تیل کی آمدن پر ہے، مشکل میں ڈالنے کے لئے تیل کی قیمت میں کمی کی گئی ۔۔۔( جس طرح یوکرائن کے مسئلے پر روس پر عائد پابندیوں نے روس کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے) اس سے پہلے سعودی حکومت عوام کو مطمئن رکھنے کے لئے امداد اور مراعات دیتی تھی ، اب انہیں برقرار رکھنا مشکل ہوگا، فی الحال سعودی حکومت نے محفوظ سرمائے سے سرمایہ نکالنے میں حددرجہ احتیاط برتنی شروع کی ہے، ساتھ ہی حکومتی اخراجات میں کمی بھی کی گئی ہے، لیکن اس حدتک بھی نہیں کہ عوام بے چین ہوکر سڑکوں پر آجائیں، نتیجتاً آئی ایم ایف نے سعودی حکومت کو وارننگ دی ہے کہ یہی صورت حال برقرار رہی تو اس دہائی کے آخرتک محفوظ سرمایہ خطرناک حدتک کم ہوجائے گا ،جس کا ثبوت یہ ہے کہ غیرسعودی لوگوں کے لئے پینے کے پانی کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور تیل پر سبسڈی میں کمی پر غور ہورہا ہے۔

*۔۔۔بیرونی خطرات میں سب سے نمایاں اور فوجی خطرہ یہ ہے کہ یمن میں جنگ طویل ہوتی نظرآتی ہے، گو ’’علاقائی اتحاد‘‘ نے، جس کا سربراہ سعودی عرب ہے ،عدن پر دوبارہ قبضہ بحال کرنے میں کامیابی حاصل کرلی ہے، لیکن جنگ ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ

Objectivesکیسیحاصل ہوں گے، غیر واضح ہے۔ صرف جنگ سے یا مذاکرات کے ذریعے یمن کے شمال میں شیعہ حوثی قبائل ابھی تک قابض اور مضبوط ہیں اور وقتاً فوقتاً سعودی عرب کی سرحدوں کے اندر بھی کارروائی کرتے ہیں، ان کے پاس میزائل اور راکٹ بھی ہیں جو ایران نے مہیا کئے ہیں۔ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور یہاں علاقائی اتحاد کے لئے کارروائی کرنا بہت مشکل ہے، اس کے ساتھ ساتھ ’’علاقائی اتحاد‘‘ کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں اور مہاجرین کی تعداد میں روزبروز بڑھتا اضافہ عالمی سطح پر سعودی عرب کی مذمت میں بھی اضافہ کرے گا۔ یادرہے یہ فوجی کارروائی اور فضائی حملے مارچ 2015ء سے شروع ہیں، اگر فرض کر لیا جائے کہ ’’علاقائی اتحاد ‘‘حوثی قبائل کو پے درپے شکست دے کر اپنے علاقے میں واپس دھکیل دیتا ہے ،پھر بھی یمن میں سیاسی استحکام کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ گزشتہ پانچ سال کی خانہ جنگی نے ملک میں سیاسی نظام کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دئیے ہیں اور امکان نظر نہیں آتا کہ کوئی فوجی یاسیاسی قوت یمن میں اقتدار اعلیٰ پر پورے مؤثر طورپر قابض ہوکر ملک میں سیاسی اور اقتصادی استحکام پیدا کرپائے گی۔ یمن اب مقامی، علاقائی طاقتوں کی محاذآرائی کی آماجگاہ بنارہے گا اور عالمی ’’جہادی تنظیمیں‘‘ بھی اس میں حصہ ڈالتی رہیں گی۔

*۔۔۔سعودی عرب کا کردار محدود ہوتا چلا جائے گا، اگر فی الوقت عالمی طاقتوں کی مداخلت سے یمن میں امن قائم ہو بھی گیا توحوثی جنوبی سعودی عرب کی سرحد پر پریشانی کا باعث بنے رہیں گے۔ پھر حال ہی میں ستمبر میں حج کے دوران پیش آنے والے ’’حادثات‘‘ نے بھی عالم اسلام میں سعودی عرب کی حکومت کی اہلیت پر سوالیہ نشانات لگادیئے ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین کی حیثیت سے اہمیت چیلنج ہوئی ہے اور مخالفین کے ہاتھ پراپیگنڈہ کا ذریعہ بھی بنے ہیں۔ ایران کی بے چینی سمجھ میں بھی آتی ہے ،کیونکہ سب سے زیادہ شہداء کا تعلق ایران سے تھا۔ ایرانی حکام کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنا آیا کہ اس حادثے کی عالمی سطح پر تحقیقات ہونا چاہئیں، جس سے سعودی عرب اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی میں اور اضافہ ہوا۔

اب ذرا خارجی ’’تھپڑ پر بھی نظر ڈال لیں۔۔۔ یمن سے ہٹ کر ایران کے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ اور ایران پر عائد شدہ پابندیوں کے خاتمے سے ایران اب بہت بہتر اور مؤثر انداز میں اپنے علاقائی ایجنڈے پر عمل کرسکے گا ۔ مشرق وسطیٰ میں ایران کی موجودگی اور اہمیت بڑھ جائے گی، جس کا اثر خلیج کے ممالک پر بھی یقیناً ہوگا اور سعودی عرب کو پراکسی وار پر زیادہ توجہ دینا پڑے گی، اس سے بھی سعودی عرب کی داخلی معاملات پر سے توجہ میں کمی ہوگی اور اخراجات بڑھنے سے عوام کو دی جانے والی مراعات بھی کم ہونا شروع ہوں گی، اس کا بھی اثر ہوگا۔ ایران کے مقابلے میں ایک متحدہ ’’سنی محاذ‘‘ بنانے میں بھی مشکلات پیش آئیں گی، کیونکہ ہر مسلمان ملک کے اپنے حالات ہیں اور وہ اس کے مطابق پالیسیاں ترتیب دیتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی میں عملی طورپر شریک ہوجائیں۔۔۔ (یمن میں فوجی نہ بھیجنے کا فیصلہ ایک مثال ہے )۔۔۔ مصر میں عوامی سطح پر روس کی شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت میں مداخلت کو پذیرائی مل رہی ہے، جبکہ مصر کے فوجی سربراہ سعودی عرب کے ساتھ ہیں، لیکن قطر میں Muslim Brother Hood کے خلاف کارروائیوں کوپہلے جیسی سعودی حمایت حاصل نہیں ہے۔ ایران کی قیادت اسلام کو صرف دین نہیں سمجھتی ،مکمل طرز حیات سمجھتی ہے جس میں ’’گورننس ‘‘ ہی نہیں، بلکہ طرز حیات بھی شامل ہے اور وہ اپنے نئے کارڈ حالات کے مطابق کھیلتی ہے جس میں سیاست ، معیشت ، داخلی اور خارجہ پالیسی بھی شامل ہیں ۔۔۔ لیکن دوسری طرف ، سعودی عرب حکومت اب تک خاندان میں مکمل اتحاد اور تیل کی آمدن کی وجہ سے معاملات سے داخلی طورپر اور خارجی طورپر بطریق احسن نمٹ رہی ہے، لیکن اب معاملات تبدیل ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

مزید : کالم