تم ہی نے درد دیا ہے ،تم ہی دوا دینا!

تم ہی نے درد دیا ہے ،تم ہی دوا دینا!
 تم ہی نے درد دیا ہے ،تم ہی دوا دینا!

  

ایک ٹی وی اینکر اپنے پروگرام میں بتا رہے تھے کہ سابقہ پی پی پی حکومت نے تقریباً آٹھ کھرب کے قرضے لئے اور اتنی ہی اوپر والوں نے کرپشن کی ۔ ’’مک مکا‘‘ انڈر سٹینڈنگ کے تحت اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، لیکن اس کرپشن اور قرضے کے مسلسل ’’آفٹر شاک‘‘ غریب عوام کو سہنے پڑتے ہیں جیسا کہ جناب اسحاق ڈار نے چالیس ارب وصول کرنے کے لئے سینکڑوں اشیاء مہنگی کردی ہیں ۔ موجودہ حکومت جو قرضے لے رہی ہے ان کا کیا کررہی ہے ،یہ آنے والی حکومت بتائے گی اگر کسی اور جماعت کی ہوئی تو؟ ابھی ابھی ایک اور خبر چلنے لگی ہے کہ ’’ سپر میگھا کرپشن‘‘ کے ایک’’ سپر میگھاڈاکٹر ملزم‘‘ جن کے متعلق رینجرز ذرائع کے حولے سے خبریں آئی تھیں کہ ان کے اعترافی بیانات کی وڈیوز کئی گھنٹوں پر محیط ہیں ۔ اب پولیس کے تفتیشی افسر کے بقول کہ ایسا معصوم اور مظلوم انہوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ۔

دلاور فگار یاد آئے جو کہتے تھے:’’ رشوت لیتے پکڑا گیا ہے، رشوت دے کر چھوٹ جا‘‘۔بہرحال جب ایسی خبریں سنی اور دیکھی جائیں تو بندے کا بلڈ پریشر ہائی تو ہوہی جاتا ہے اب اس کا ایک علاج تو یہ ہے کہ ’’ٹنارمن‘‘ کی ایک گولی لے لی جائے اور دوسرا حل وہ ہے جو جناب آصف زرداری نے اپنے ایک ملنے والے کو بتایاتھا کہ سارے اخبارات میری کرپشن کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں اور سارے اینکر میری داستانیں سنا رہے ہوتے ہیں، لیکن نہ میں پڑھتا ہوں اورنہ سنتا دیکھتا ہوں سو ’’ریلیکس‘‘ رہتا ہوں۔ سو جناب آصف علی زرداری سے اتفاق کرتے ہوئے میں نے بھی ریموٹ سے اینکر پرسن اور خبریں سنانے والے کی شکلیں گم کردی ہیں۔ فوری افاقہ محسوس ہوا ۔ شہید حکیم سعیدؒ نے ایک اپنی تحقیق میں ڈیپریشن کا علاج ’’شاعری‘‘ بھی تجویز کیا تھااور اگر اچھی شاعری گیت کی شکل میں ہو تو سونے پہ سہاگا۔ کچھ عرصہ پہلے جب بھی کوئی اچھی غزل یا گیت سننے کو جی چاہتا تھاتو ’’یو ٹیوب‘‘ کھول لیتا تھا، لیکن۔۔۔

ابھی یہاں تک کالم لکھا تھا تو میرا بھانجا ’’جمال‘‘ اور بھتیجا ’’سرمدسلمان‘‘ کمرے میں داخل ہوئے۔ جمال ایم بی اے کررہا ہے اور سرمد میڈیکل کالج میں ہے ۔ ہم بوڑھے لوگوں کے مقابلے میں نوجوان نسل ہر معاملے میں UPDATED رہتی ہے خصوصاً انٹر نیٹ کے معاملے میں ۔ ان دونوں سے پوچھا کہ بیٹو، یو ٹیوب کی کوئی خبر ملی کہ کب کھلے گی ۔ دونوں بیک وقت بولے کہ وہ تو کب کی کھل چکی ۔ جمال بولا کہ ماموں انٹر نیٹ لگائیں اور یہ ایڈریس لکھیں۔ www.ytpak.com ایسا کیا تو مکمل یو ٹیوب سامنے تھی ذرا بدلی ہوئی شکل میں لیکن کام مکمل اور ڈاؤن لوڈنگ کی سہولت کے ساتھ۔ سرمد بولا کہ میں بھی اپنی تعلیم کے سلسلے میں یو ٹیوب استعمال کرتا ہوں لیکن اسکا ایڈریس دوسرا ہے ۔ وہ کیا ہے ذرا وہ بھی لکھ کر دیکھتے ہیں، ہاں جی لکھاؤ۔

www.youtub.pkیعنی یو ٹیوب کا آخری eاڑا دیا اور comکی جگہ pkلکھ دیا۔ لو جناب یہاں بھی یو ٹیوب کھل گئی ۔بلی کو دیکھ کر’’ کبوتری‘‘ کا آنکھیں بند کرنا یاد آیا۔ بلی تو ہوگئی نئی ٹیکنالوجی جس کو آپ روک نہیں سکتے اور کبوتری ہماری حکومت۔ کبوتر کی جگہ کبوتری اس لئے بھی لکھا ہے کہ آئی ٹی کی وزیر ایک خاتون ہیں ، جو فرماتی ہیں کہ ان کے بچے روز پوچھتے ہیں کہ ماما، یو ٹیوب کب کھلے گی تو میں کہتی ہوں کہ بچو، عدالت نے پابندی لگائی ہوئی ہے،میں کیا کرسکتی ہوں۔ پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ میں سے کسی کی عزیز داری ان محترم خاتون سے ہے تو ان کے بچوں سے کہہ دیں کہ اب ماما کو تنگ نہ کریں بلکہ مندرجہ بالا دونوں سائٹس میں سے کوئی بھی سائٹ استعمال کریں۔ دوسری گزارش پڑھنے والوں سے ہے کہ ان سائٹس کاتعلیمی یا مثبت تفریحی استعمال کریں،جس وجہ سے یو ٹیوب بند ہوئی ان سائٹس پر لعنت بھیجیں۔

یہ تو آپ کو بتایا نہیں کہ سیاسی کرپشن کی کہانیاں دیکھ اور سن کر جو ڈیپریشن ہوئی اس کو دور کرنے کے لئے میں نے پہلا کون سا گیت سنا۔ وہ گیت تھا محمد رفیع کی آواز میں ’’تم ہی نے درد دیا ہے ، تم ہی دوا دینا‘‘ دراصل یہ گیت سن کرہم نے جناب آصف علی زرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ انہوں نے جس خوش اسلوبی سے پانچ سال حکومت کی ، اس کے ’’آفٹر شاک‘‘ درد کی صورت میں اکثر تنگ کرتے ہیں، لیکن اس درد کا علاج بھی تو انہوں نے ہی کیا ہے ۔ یہ نہیں کہ انہوں نے مجھ غریب کو اپنی دولت کے سمندرمیں سے ایک چمچ عنایت کیا ہے، بلکہ شافی علاج یہ کہ نہ اخبار پڑھو ،نہ ٹی وی دیکھو۔ یقین مانئے ڈیپریشن اور بلڈپریشر کا موجودہ حالات میں یہ بہترین، بلکہ واحد علاج ہے۔

چلتے چلتے اس گانے کے متعلق بھی کچھ عرض کردوں۔ یہ انڈین فلم ’’چھومنتر‘‘ کا گانا ہے جس کے پورے بول ہیں ۔’’غریب جان کے ہم کو نہ تم مٹا دینا۔۔۔ تم ہی نے درد دیا ہے تم ہی دوا دینا۔ یہ فلم پاکستانی فلم ’’چھومنتر‘‘ کا ہوہبو چربہ ہے،جس میں ملکہ ترنم نورجہاں اور ظریف مرحوم نمایاں اداکار تھے اور اس گانے کی طرز بھی اسی فلم کے گانے سے چرائی گئی تھی، جس کے بول تھے ’’برے نصیب میرے ویری ہویا پیار میرا‘‘ یہ معلومات ان لوگوں کو چڑانے کے لئے لکھی جارہی ہیں جو ہر وقت انڈیا کی برتری کے گیت گاتے رہتے ہیں،حالانکہ انڈین فلم انڈسٹری نے ہمارے کئی گیتوں اور فلموں پر چربہ فلمیں بنائی ہوئی ہیں ۔

اس گانے کے بعد جو دوسرا گیت میں نے سنا، اس سے بھی جڑی ایک داستان آپ کے لئے اگلے کالم میں پیش کی جائے گی۔

مزید :

کالم -