’ان جگہوں پر رہنے والی خواتین کا حمل ضائع ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے‘ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں کا ایسا انکشاف کہ پاکستانی خواتین شدید پریشان ہوجائیں گی

’ان جگہوں پر رہنے والی خواتین کا حمل ضائع ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے‘ ...
’ان جگہوں پر رہنے والی خواتین کا حمل ضائع ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے‘ تازہ تحقیق میں سائنسدانوں کا ایسا انکشاف کہ پاکستانی خواتین شدید پریشان ہوجائیں گی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) خواتین میں اسقاط حمل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں اس کی ایک ایسی وجہ بتا دی ہے کہ سن کر پاکستانی خواتین شدید پریشان ہو جائیں گی۔ ویب سائٹ saludmovil.com کی رپورٹ کے مطابق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے سائنسدانوں نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ جو خواتین آلودہ آب و ہوا میں رہتی ہیں ان میں اسقاط حمل ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

بچے کی پیدائش کے موقع پر حاملہ خاتون نے فیس بک پر ایسی حرکت کردی کہ کمپنی سے بھی برداشت نہ ہوا، پوسٹ ہی ہٹادی

سائنسدانوں نے اس تحقیق میں دنیا کے مختلف شہروں سے 2008ءسے 2015ءکے دوران حاملہ ہونے والی 50ہزار خواتین کا ڈیٹا اکٹھا کیا اور ان کو حمل کے حوالے سے درپیش آنے والی پیچیدگیوں اور شہروں میں آلودگی کے لیول کا تجزیہ کرکے نتائج مرتب کیے۔ان کا کہنا تھا کہ ”جن شہروں کی فضاءمیں سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار سب سے زیادہ تھی وہاں کی خواتین میں اسقاط حمل کی شرح بھی سب سے زیادہ تھی اور جن شہروں میں نائیٹرک آکسائیڈ، نائیٹروجن آکسائیڈاور کاربن مونوآکسائیڈکے ذرات زیادہ تھے وہاں کی خواتین میں بھی اسقاط حمل یا قبل از وقت بچے کی پیدائش کے امکانات بہت زیادہ تھے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس