سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ اور محمد شہباز شریف

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ اور محمد شہباز شریف
 سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ اور محمد شہباز شریف

  

سانحہ ماڈل ٹاؤن پر جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر قانون پنجاب کی زیرصدارت اجلاس میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کرنے کا فیصلہ ہوا اور آپریشن کی نگرانی وزیر قانون کر رہے تھے۔

16جون کو ٹی ایم اے گلبرگ کا عملہ تجاوزات کے خاتمے کے لئے ماڈل ٹاؤن پہنچا، جہاں منہاج القرآن کے مشتعل مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، رد عمل میں پولیس نے فائرنگ کی، پورے سانحہ میں پولیس افسر کے کمانڈ کرنے کا علم ہی نہ ہوا۔

درحقیقت تمام پولیس افسران نے ٹریبونل سے معلومات چھپائیں۔ واقعہ کے دن صبح 9سے ساڑھے گیارہ بجے تک صورتِ حال کنٹرول میں تھی، آئی جی خان بیگ نے بتایا کہ انہوں نے ساڑھے گیارہ بجے چارج سنبھالا اور بارہ بجے ان کے پاس اس واقعے کی پہلی خبر آئی۔ سی سی پی او لاہور شفیق گجر نے بتایا کہ ادارہ منہاج القرآن کے چیف سیکیورٹی افسر نے مشین گن کے ذریعے پولیس والوں پر فائرنگ کی۔

300 کے قریب عوامی تحریک کے کارکنوں نے نسبتاً زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کیا ۔ خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ طاہر القادری کی رہائش گاہ پر آپریشن کے دوران فائرنگ سے پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بیان دیا کہ انہیں واقعہ کا علم 17جون کی صبح 9بجے ہوا تو انہوں نے فوری طور پر آپریشن روکنے کے احکامات جاری کئے ۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کی ذمہ داری محمد شہباز شریف پر عائد نہیں کی گئی، سانحہ کی رپورٹ جاری ہونے کے بعدآصف علی زرداری اور طاہر القادری نے بھی لاہور میں پریس کانفرنس کی اور کہاکہ وزیراعلیٰ پنجاب مستعفی ہوجائیں۔

عمران خان وزیراعلیٰ پنجاب سے مستعفی ہونے اور ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ میں واقعے کی ذمہ دار ی محمد شہباز شریف پر ڈالنے کا کہہ رہے ہیں، لیکن خان صاحب خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیر ہ اسماعیل میں ایک لڑکی کو مکمل طور پر برہنہ کرکے علاقے میں گھمانے کے بارے میں خاموش ہیں، جہاں پر با اثر لوگوں کے ہاتھوں خاتون کی بے عزتی ہوئی، پولیس کارروائی کرنے سے کتراتی رہی اور میڈیا میں واقعے کے اچھالنے کے بعد پولیس حرکت میں آئی۔

تحریک انصاف کے ایم این اے داور کنڈی نے اس واقعے کی ذمہ داری عمران خان کے چہیتے وزیر مال علی امین گنڈا پور پر عائد کی کہ وہ ملزمان کی پشت پناہی کر رہے تھے۔

خان صاحب کو تحریری طور پر آگاہ کیا، لیکن عمران خان نے صوبائی وزیر مال کے خلاف کارروائی یا واقعے سے متعلق جوڈیشنل کمیشن بنانے کی بجائے پولیس انکوائری پر انحصار کیا اور صوبائی وزیر مال کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ایم این اے داور کنڈی کو پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ۔

دوسری جانب آصف علی زرداری کو سندھ کے صحرائی ضلع تھرپارکر میں خوراک کی قلت کی وجہ سے موت کی آغوش میں چلے جانے والے بچوں کے بارے میں ورلڈ فوڈ پروگرام نے رپورٹ مرتب کی ہے اور سندھ حکومت کو پیش بھی کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 2011ء سے لے کر 2017ء تک 1843بچے غذائی قلت اور دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہو ئے ہیں گزشتہ ساڑھے نو سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں دس یا چودہ افراد کی ہلاکت پر 14افراد کے قتل پر وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے سندھ میں 1843معصوم بچوں کے قتل پر آصف علی زرداری نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر صحت اور دیگر ذمہ داروں سے کیا استعفیٰ لیا ہے؟ ضلع تھرپارکر میں ماؤں کی گود میں بچے مر رہے ہیں، غمزدہ ماؤں کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، لیکن گزشتہ ساڑھے نو سال میں آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول بھٹوزرداری کو یہ احساس نہیں ہوا کہ تھرپار کر جاکر اُن ماؤں کے زخموں پر مرہم پٹی رکھ دیں، جن کی گود غذائی قلت اور بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اُجڑ گئی ہے۔ اس کے برعکس سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت یہ ماننے کو تیار نہیں کہ بچوں کی اموات غذائی قلت کی وجہ سے ہو رہی ہیں ۔

کراچی کی فیکٹری میں 259 لوگ زندہ جلا دئیے گئے۔ آصف علی زرداری نے اس واقعے میں ملوث سیاسی جماعت کوسندھ میں پانچ سال تک شریک اقتدار رکھا۔

عمران خان اور آصف علی زرداری وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبا زشریف کی گڈ گورننس سے خائف ہیں، دونوں شہباز شریف کو اپنے لئے سیاسی خطرہ سمجھتے ہیں،کیونکہ پنجاب میں شہباز شریف کی بہترین کاکردگی کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) کو شکست دینا آسان نہیں۔تینوں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور فاٹا کے عوام شہباز شریف کو بہترین ایڈمنسٹریٹر ز سمجھتے ہیں، باقی تینوں صوبوں سے بھی یہی صدائیں بلند ہوتی ہیں کہ ہمیں بھی ایک محمد شہباز شریف چاہئے۔

عمران خان کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے ۔جولیڈر اقتدار کی کُرسی کے لئے صبح اور شام جھوٹ بولے۔ وہ قومی لیڈر نہیں ہو سکتا۔عمران خان لاہور، ملتان ، اسلام آباد اور راولپنڈی میں میٹرو بس کو جنگلا بس کہتے تھکتے نہیں تھے اور اس پر خرچ اربوں روپوں کو ضیاع قرار دیتے تھے، لیکن خان صاحب نے 57ارب کی خطیر رقم سے پشاور میں میٹرو بس پراجیکٹ شروع کیا اور ایشین ترقیاتی بینک سے سود پر قرضہ لیا ہے۔ خان صاحب کا یہ معیار ہے کہ پنجاب میں میٹرو کو جنگلا بس کہتے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا میں میٹرو بس کی وکالت کررہے ہیں ۔

مزید :

کالم -