جمہوری قوتیں انتخابات کے التوا کی راہ ہموار نہ کریں

جمہوری قوتیں انتخابات کے التوا کی راہ ہموار نہ کریں

وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ حلقہ بندی بِل منظور نہ ہوا تو الیکشن التوا کی سازش کامیاب ہو جائے گی، ترقی کے دشمن پاکستان میں عدم استحکام چاہتے ہیں، الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کے کام کے لئے پانچ سے چھ ماہ درکار ہیں۔ سینیٹ سے بِل پاس نہ ہونے کی صورت میں عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہوں گے کہ سیاسی جماعتیں الیکشن کے التوا اور طویل دورانئے کے نگران سیٹ اپ کے لئے آل�ۂ کار بن رہی ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ قومی اسمبلی میں جو پیپلزپارٹی ہے کیا وہ سینیٹ کی پیپلزپارٹی سے مختلف ہے کیا پی ٹی آئی بھی مختلف ہے، اگر قومی اسمبلی میں ان تمام جماعتوں نے حلقہ بندیوں کے ترمیمی بل کو اتفاق رائے سے پاس کیا تو سینیٹ میں کیا ہچکچاہٹ ہے؟

حلقہ بندیوں کے سلسلے میں آئینی ترمیم قومی اسمبلی سے اتفاق رائے سے منظور ہو چکی ہے، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف سمیت اپوزیشن کی جماعتوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا، اِس لحاظ سے احسن اقبال کا سوال تو بنتا ہے کہ کیا اِن دونوں جماعتوں کا کردار قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الگ الگ ہے، ایوانِ زیریں میں تو یہ بِل منظور کرا دیا گیا جبکہ سینیٹ سے منظوری میں اب ایک کے بعد دوسری اڑچن ڈالی جا رہی ہے، کہا جا رہا تھا کہ پیپلزپارٹی اِس ترمیم کی منظوری سے پہلے اپنے بعض مطالبات منوانا چاہتی تھی اس وجہ سے تاخیر کی جا رہی تھی، پیپلزپارٹی کے کئی سینئر رہنما آن دی ریکارڈ کہہ چکے تھے کہ11دسمبر کو جب سینیٹ کا اجلاس شروع ہو گا بِل منظور کرا لیا جائے گا، لیکن اب تک ایسا نہیں ہو سکا، اب اِس کھیل کے پس منظر میں لازماً کوئی گریٹ گیم ہو گی، کوئی بھی بِل جب تک دونوں ایوانوں سے منظور نہ ہو اِس وقت تک اس کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی، آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے ویسے بھی دو تہائی اکثریت درکار ہے جو حکومت کے پاس نہیں ہے، اگر دوسری جماعتیں اِس ضمن میں حکومت سے تعاون نہیں کرتی ہیں تو یہ معاملہ لٹکا رہے گا۔ اب اپوزیشن جماعتیں اِس معاملے میں تاخیر کر کے کیا فائدہ اُٹھانا چاہتی ہیں یہ تو وہی بہتر جانتی ہوں گی تاہم ایسی اطلاعات موجود ہیں کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بِل منظور کرانے کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کے حق میں ہیں، جبکہ آصف علی زرداری مخالفت کر رہے ہیں اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو بھی صاف نظر آتا ہے کہ پیپلزپارٹی اس معاملے پر صاف ذہن نہیں ہے۔

یہ آئینی ترمیم اگر منظور نہیں ہوتی تو مردم شماری کے مکمل نتائج کا انتظار کرنا ہو گا، جس کے بعد لامحالہ کسی ترمیم کے بغیر ہی حلقہ بندیوں کا کام شروع ہو سکے گا،لیکن ایسی صورت میں انتخابات مقررہ تاریخ پر شاید نہ ہو سکیں۔ غالباً بعض حلقے یہی چاہتے ہیں کہ جو نگرن سیٹ اَپ انتخابی مقاصد کے لئے تشکیل پائے اسے مزید کچھ عرصے تک اقتدار کے مزے لینے کا موقع مل جائے، اگر ایسا نہیں ہے تو اپوزیشن جماعتوں کو کھل کر اپنا موقف بیان کرنا چاہئے، بصورتِ دیگر عوام میں اُن کے کردار کے متعلق چہ میگوئیاں ہوتی رہیں گی، یہ بات تو واضح ہے کہ انتخابات کا التوا وہی حلقے چاہتے ہیں، جنہیں یقین ہے کہ اُن کا کسی نہ کسی طرح ایوان اقتدار میں داخلہ ہو جائے تو وہ مقررہ مدت سے زیادہ اس کے مزے لوٹ سکیں، جنرل پرویز مشرف تو بار بار کہہ رہے ہیں کہ الیکشن نہیں، سلیکشن ہونی چاہئے، ویسے تو انہوں نے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی ہوئی ہے اور اس کے پلیٹ فارم سے وہ سیاسی یتیموں کو اکٹھا کرنے کی جدوجہد میں بھی لگے رہتے ہیں، اور اسے ’’تیسری قوت‘‘کا نام دیتے ہیں لیکن انہیں خوب معلوم ہے کہ الیکشن میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملنے والی،اِس لئے اگر الیکشن تاخیر کا شکار ہوتے ہیں تو اُن کے ہاں تو گھی کے چراغ جلیں گے،الیکشن میں اُن کے لئے کوئی کشش بھی نہیں،کیونکہ وہ تاحیات الیکشن لڑنے کے لئے نااہل قرار پا چکے ہیں اُن کی جماعت کا ایک رکن اِس وقت قومی اسمبلی میں موجود ہے اگلی اسمبلی میں شاید وہ بھی نہ ہو، اِس لئے وہ تو چاہیں گے کہ الیکشن نہ ہی ہوں تو اچھا ہے، اِس لئے اتحاد بنانے کی جو سعی وہ کرتے رہتے ہیں اس کا مقصد الیکشن لڑنا نہیں،بلکہ ایک ایسا پریشر گروپ بنانا ہے جوکسی نہ کسی طریقے سے نگران حکومت میں حصہ وصول کر سکے۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

جمہوریت پسند جماعتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت میں اتنی دور نہ جائیں کہ انتخابات ہی موخر ہو جائیں اور پھر معلوم ہی نہ ہو کہ یہ کب انعقاد پذیر ہوں گے،ہم ماضی میں انتخابات کے التوا کے بھیانک تجربات سے گزرتے رہے ہیں جن کے نتائج ملک و قوم کے حق میں اچھے نہیں نکلے،56ء کے پہلے آئین کے تحت انتخابات کا اعلان ہو چکا تھا کہ اکتوبر1958ء میں جمہوریت پر شبخون مار دیا گیا،صدرسکندر مرزا اور کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان نے مل کر یہ اقدام اٹھایا تھا،لیکن بیس دن بعد سکندر مرزا کو جلا وطن کر دیا گیا اور وہ برطانیہ میں بیٹھ کر پنشن کی درخواستیں کرتے رہے، ملک وقوم نے اِن انتخابات کے التوا کا نتیجہ طویل مارشل لا، کنٹرولڈ ڈیمو کریسی اور بالواسطہ انتخابات کی شکل میں بُھگتا، ملکی نظام بھی صدارتی ہو گیا اور صدر ایوب خان اِسی نظام کے تحت گھنٹہ گھر بن کر بیٹھ گئے اور جب رخصت ہوئے تو مُلک پہلے سے زیادہ بُری حالت میں تھا ہمیں بطور قوم اس سے سیکھ کرکوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہئے جس کی وجہ سے الیکشن ملتوی ہو جائیں اور سسٹم ڈی ریل ہو جائے۔ظاہر ہے بعض لوگوں کا مفاد اسی میں ہے اور وہ یہ کوششیں بھی کر رہے ہیں،لیکن پوری قوم کا اجتماعی مفاد بروقت انتخابات کا انعقاد ہے اِس لئے جمہوری قوتیں کوئی ایسا کام نہ کریں جو انتخابات کے التوا کا باعث ہو، وقتی فائدے کے لئے قوم کی جمہوری منزل کھوٹی کرنے والوں کو تاریخ اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی۔

مزید : اداریہ