گنے کے کاشتکاروں کی شکایات ختم کرنے کی ضرورت

گنے کے کاشتکاروں کی شکایات ختم کرنے کی ضرورت

پنجاب اور سندھ میں گنے کے کاشتکاروں کو شوگر مل مالکان کے رویے کی وجہ سے مالی بحران کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، دونوں صوبوں میں کاشتکاروں کے پاس وافر مقدار میں گنا کئی ہفتوں سے موجود ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شوگر مل مالکان گنے کی خریداری کے معاملے میں حیلوں بہانوں سے کاشتکاروں کو پریشان کررہے ہیں۔ بعض کاشتکار فصل کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے مل مالکان کی مرضی کے مطابق گنا فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ مل مالکان کی حکمت عملی یہ سامنے آئی ہے کہ تاخیر سے کرشنگ شروع کرکے گنے کی پوری فصل کو چینی بنانے کے لئے استعمال نہ کیا جائے۔ وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ اس وقت بیرون ملک چینی کی فی کلو قیمت 39سے 40روپے ہے۔ پنجاب میں چینی 54سے 56روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ شوگر مل مالکان کی طرف سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اس وقت گوداموں میں وافر چینی موجود ہے۔ جس کی مقدار 5سے 6 لاکھ ٹن بنائی جارہی ہے۔ مل مالکان کی کوشش ہے کہ صرف 55لاکھ ٹن چینی موجودہ سیزن میں تیار کی جائے جبکہ گنے کی فصل کے مطابق 80لاکھ ٹن چینی پیدا ہو سکتی ہے ۔ مل مالکان کی کوشش ہوگی کہ اگلے تین چار مہینوں میں چینی زیادہ مقدار میں برآمد کرکے ملک میں چینی کی قلت پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کاشتکاروں سے بروقت گنا خریدا جاتا ہے اور تمام شوگر ملیں چینی تیار کریں تو پھر حکومت کو چینی کی قلت کا مسئلہ پریشان نہیں کرے گا۔

یہ صورت حال افسوسناک ہے کہ مل مالکان گنے کے کاشتکاروں سے بروقت گنا خریدنے سے گریز کر رہے ہیں، کئی ہفتے انتظار کی وجہ سے گنے کا وزن کم ہوجاتا ہے، بعض اوقات گنا کرشنگ کے قابل نہیں رہتا۔ کاشتکار مجبوراً اونے پونے داموں گنا فروخت کردیتے ہیں۔ یہ شکایت عام ہے کہ پچھلے تین چار برسوں سے کاشتکاروں کو مکمل ادائیگیاں نہیں ہورہی ہیں۔ حکومت پنجاب اور سندھ کے ساتھ ساتھ وفاق نے گنے کے کاشتکاروں کو ریلیف دینے کے جو وعدے کئے ان پر عمل نہیں ہوا۔ اُدھر وفاقی حکومت نے برآمدی چینی پر فی کلو 10.70 روپے اور سندھ حکومت نے 9.30 روپے سبسڈی دینے کا اعلان کررکھا ہے کاشتکاروں کو حکومتی وعدوں کے مطابق ریلیف نہیں مل رہا تو مل مالکان بھی سبسڈی ملنے کے منتظر ہیں۔ کاشتکاروں کے نمائندوں کا خیال ہے کہ مختلف حربوں سے مل مالکان من مانی کرکے منافع کی وصولی میں مصروف ہیں۔ اس سلسلے میں کین کمشنر پنجاب کے کردار کو بھی ہدف تنقید بنایا جارہا ہے کہ وہ موثر ثابت نہیں ہورہے ہیں۔ گنے کے کاشتکار پنجاب اور سندھ میں صدائے احتجاج بلند کرتے رہے ہیں۔ پیر کے روز کراچی میں سندھ کے کاشتکاروں نے احتجاج کیا، جس پر انہیں آنسو گیس، لاٹھی چارج اور واٹر کینن استعمال کرکے منتشر کردیا گیا۔ پولیس نے اس دوران 98 مظاہرین کو حراست میں لیکر تھانوں میں پہنچا دیا۔ تاہم وزیر داخلہ سندھ کی ہدایت پر رات کو انہیں رہا کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ جن کاشتکاروں کو مالی بحران کا سامنا ہے، ان کی گنے کی فصل اونے پونے خریدی جارہی ہے، وہ کیا کریں اور کہاں جائیں؟ ایک اطلاع کے مطابق پنجاب میں صرف 15 شوگر ملیں کرشنگ کررہی ہیں جبکہ مجموعی تعداد 44 ہے۔ تین شوگر ملوں کو پنجاب کے بعض اضلاع سے بغیر پیشگی اجازت دوسرے اضلاع میں منتقل کیا گیا تھا، جس پر کاشتکاروں نے باقاعدہ گنے کی کاشت شروع کردی، چند ماہ قبل عدالت نے ان شوگر ملوں کو واپس انہی اضلاع میں کام کرنے کا حکم جاری کیا تھا، جس پر یہ ملیں بند پڑی ہیں، ان اضلاع کے کاشتکاروں سے دوسرے اضلاع کی شوگر ملیں خریداری نہیں کررہی ہیں جبکہ اونے پونے گنا فروخت کیا جائے تو بار برداری کے اخراجات ہی پورے ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے بھی کاشتکار سخت پریشان ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کاشتکاروں کو درپیش مسائل پرخصوصی توجہ دے کر انہیں مالی نقصان سے بچایا جائے خاص طور پر اُن کے بقایا جات دلوانے کے لئے تمام قانونی طریقے اختیارات کئے جائیں۔ اسی طرح گنے کی فصل کا صحیح اندازہ لگا کر اتنی مقدار میں چینی کی تیاری کو یقینی بنایا جائے کہ اگلے تین چار مہینوں کے بعد ماہ رمضان المبارک میں چینی کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے مل مالکان کے لئے دی جانے والی سبسڈی کا سرکلر جلد جاری ہوجائے تو یہ مسئلہ بھی حل ہوسکتا ہے۔

مزید : اداریہ