کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 7

کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 7
کلام اقبال (شرح بال جبریل)غزل نمبر: 7

  

چوتھے شعر میں علامہ اسی شعر کو دوسرے پیرائے میں بیان کرتے ہیں:

حرم کے دل میں سوز آرزو پیدا نہیں ہوتا

کہ پیدائی تری اب تک حجاب آمیز ہے ساقی

حرم سے مراد یہاں پر مقام حرم نہیں نہ مکین حرم مراد ہیں بلکہ اس جگہ حرم سے مراد کل دنیا میں بسنے والے مسلمان ہیں کہ وہ حرم کے وارث ہیں۔ حرم ہی ان کا نگہبان ہے اور وہ خود حرم کے امین ہیں، حرم کے رکھوالے ہیں۔

علامہ فرماتے ہیں کہ اے اللہ! پوری دنیاکے مسلمانوں میں اسلام کی وہ تڑپ، وہ آرزو اور اسلامی شعائر کی وہ پابندی اب موجود نہیں ہے جس کا تقاضا اسلام مسلمانوں سے کرتا ہے حالانکہ اس کائنات کا ذرہ ذرہ تیری کبریائی کی گواہی دے رہا ہے اور تیری ذات ہر ہر چیز میں جلوہ گر ہے۔

چاہیے تو یہ تھا کہ ان شواہد کی روشنی میں ہر مسلمان کے اندر اسلامی شعائر کی پابندی کے جذبات پیدا ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اے اللہ! کائنات کے ذرہ ذرہ میں جلوہ ریز ہونے کے باوجود تو نے خود کو پردے میں رکھا ہوا ہے۔

اسی وجہ سے تیرا وہ خوف، تیرا وہ ڈر مسلمانوں کے دلوں میں موجود نہیں ہے۔اس شعر میں قرآن مجید کی اس آیت کی نشاندہی موجود ہے:

’’ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیَھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلآءِکَۃُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ‘‘(البقرۃ، 210/2)

’’کیا لوگ اب اس بات کے انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود بادلوں کے سائے میں لوگوں کے سامنے ظاہر ہو کر آ جائے جسے یہ لوگ اپنی کھلی آنکھوں دیکھ سکیں۔ ‘‘

فرمایا: کہ یہ تو قیامت کے وقت ہی ممکن ہو گا۔ قیامت سے پہلے ایسا ممکن ہی نہیں۔

پانچویں شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

وہی آب و گل ایراں وہی تبریز ہے ساقی

علامہ فرماتے ہیں کہ اسلام کا مرکز عرب ہے۔ رسول اللہﷺمکہ میں تشریف لائے پھر مدینہ منورہ ہجرت کر گئے۔ اسلام کی روشنی صرف خطہ عرب ہی میں نہیں پھیلی بلکہ اسلام کی روشنی دنیا کے دور دراز کے علاقوں کو بھی روشن کر گئی اور پورے عجم کو بھی منور کر گئی یہی وجہ ہے عرب کے علاوہ عجم کے علاقوں میں بھی بڑے عظیم مصلح پیدا ہوئے۔

یہاں خاص طور پر علامہ اپنے فکری مرشد مولانا رومیؒ کا تذکرہ بطور خاص کرتے ہیں کیونکہ آپ مولانا رومؒ کے افکار اور ان کے فلسفیانہ انداز ابلاغ سے بہت متاثر ہیں۔ فرماتے ہیں اسلامی تعلیمات اور ان تعلیمات کی روشنی اتنی عظیم ہے کہ خطہ عرب کے علاوہ دور دراز کے عجمی علاقوں میں بھی بڑے بڑے عظیم فلاسفر، مفکر، دانش ور پیدا ہوئے جن کے افکار سے دنیا میں اجالا ہوا۔

لیکن چونکہ صدیاں بیت گئی ہیں۔ اب ایسے مفکر اور شریعت کی تڑپ رکھنے والے مولانا روم جیسے لوگ پیدا نہیں ہوتے حالانکہ اے اللہ! تیری ذات بھی وہی ہے، دین اسلام بھی وہی ہے، حرم کعبہ بھی وہی ہے، وہی بیت اللہ بھی ہے۔

مسجد نبوی بھی وہی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سب کچھ وہی ہونے کے باوجود بدلے ہیں تو مسلمان بدل چکے ہیں۔ ان میں اسلام کی وہ پرانی سی طلب اور تڑپ ماند پڑ چکی ہے۔ اب انحطاط کا زمانہ ہے۔ اس شعر میں اشارہ رسول اکرمﷺکے فرمان کی جانب ہے جس میں آپﷺنے فرمایا تھا:

’’خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم‘‘

’’سب سے اچھا دور میرا دور ہے، پھر اس کے بعد پھر اس کے بعد۔‘‘

گویا رسول اکرمﷺکے نورانی وجود کے سبب دنیا میں ہدایت کی روشنی آقامحمدﷺکے دور میں پھیلی۔ پھر اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ روشنی مدھم ہوتی رہی۔ اسی لیے سب سے اچھا زمانہ رسول اللہﷺکا زمانہ ہے پھر صحابہؓ کا، ان کے بعد تابعین کا پھر تبع تابعین کا دور ہے لیکن آج کا دور انحطاط کا دور ہے۔ اب عرب و عجم میں کوئی رومی، کوئی صدیق، فاروق و عمر پیدا نہیں ہونا۔

چھٹے شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

اس مذکورہ تمام دور انحطاط کے باوجود علامہ مایوس نہیں ہیں اور وہ مسلمانوں کو بیدار ہونے اور بیدار رہنے کا پیام دیتے ہیں۔ آپ دراصل قرآنی آیات ہی سے تحریک پکڑتے ہیں:

’’وَھُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْم بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَیَنْشُرُ رَحْمَتَہٗ‘‘(الشوریٰ، 28/42)

’’قَالُوْا بَشَّرْنٰکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُنْ مِّنَ الْقَانِطِیْنَ‘‘(الحجر، 55/15)

اور مسلمانوں کی ڈھارس بندھاتے ہیں۔

اقبال اس انحطاط کے باوجود اس بنجر زمین سے ناامید ہرگز نہیں۔اس مٹی کو ذرا نمی کی ضرورت ہے۔اگر یہ نمی حاصل ہو جائے اور مسلمان قوم کو فکری حوصلہ ملے تو ان شاء اللہ اسی مٹی سے لعل و گہر پیدا ہو سکتے ہیں اور مسلمان قوم اپنی عظمت رفتہ حاصل کر سکتی ہے۔

ساتویں شعر میں علامہ فرماتے ہیں:

فقیر راہ کو بخشے گئے اسرار سلطانی

بہا میری نوا کی دولت پرویز ہے ساقی

یہ ساتویں نظم کا آخری شعر ہے جس میں علامہ اللہ کے حضور بانداز شکرانہ کہتے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے علم عطا فرمایا اور مجھے مخفی علم کے پھولوں سے سرفراز کیا۔ ایسے علوم جن سے میرا سینہ کھل گیا۔

جبکہ میرے دور کے ہزاروں، لاکھوں لوگ ان علوم سے بے بہرہ ہیں۔ میں اپنے اشعار و الفاظ کے ذریعے بہت سے اسرار و رموز سے لوگوں کو آگاہ کر رہا ہوں۔ یہ خیالات کی عظیم دولت جو مجھے عطا ہوئی اور ان کے ابلاغ کی جو توفیق مجھے اللہ کی طرف سے ملی ہے سلطنت پردیز سے کہیں زیادہ ہے بلکہ کل دنیا کی دولت ایک طرف اور خیالات اور فکر سلیم کی یہ نعمت پوری دنیا سے کہیں بہتر ہے۔ میں اس عظیم نعمت پر اللہ کا شکر گزار ہوں۔

مزید : کالم