مولانا شبیر احمد عثمانیؒ دوقومی نظریہ کے بہت بڑے داعی تھے،پروفیسر ناصر احمد

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ دوقومی نظریہ کے بہت بڑے داعی تھے،پروفیسر ناصر احمد

لاہور(جنرل رپورٹر)مولانا شبیر احمد عثمانیؒ دوقومی نظریہ کے بہت بڑے داعی تھے۔ آپ کا شمار تحریک پاکستان کے ممتاز اکابرین میں ہوتا ہے اور آپ نے قائداعظمؒ کا بھرپور ساتھ دیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنی ساری زندگی دین اسلام اور ملک و قوم کی خدمت کیلئے وقف کیے رکھی۔ ان خیالات کااظہار پروفیسرناصر احمدنے ایوان کارکنان تحریک پاکستان،لاہور میں تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما مولانا شبیر احمد عثمانی کی 68ویں برسی کے موقع پر نئی نسل کو ان کی حیات و خدمات سے آگاہ کرنے کیلئے منعقدہ خصوصی لیکچر کے دوران طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پروفیسرناصر احمد نے کہا کہ جید عالم اور ماہر علمِ تفسیر و حدیث مولانا شبیر احمد عثمانی 1885ء میں بجنور میں پیدا ہوئے۔آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی‘ پھر حضرت مولانا محمود الحسن (اسیر مالٹا) کی شاگردی اختیار کی۔ 1928ء میں دارالعلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہوئے۔ انہوں نے فقہ‘ حدیث‘ فلسفہ‘ منطق‘ ادب اور علم الکلام کی تعلیم حاصل کی۔حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن کی ہمراہی میں 1920ء میں ہندوستان بھر کا دورہ کیا۔ جمعیۃ العلما ہند نے کانگریس نوازی کا مظاہرہ کیا تواس کے مقابلے میں جمعیت العلماء اسلام قائم کی۔ مولانا شبیر احمدعثمانی کی یہ جمعیت مسلم لیگ کی خیر خواہ تھی اور کانگریسی مسلمانوں کی موشگافیوں اور تاویلات کا توڑ کرتی رہتی تھی۔ تحریکِ پاکستان کے دنوں میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی اور قائداعظمؒ کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے تحریک کے دوران ہندوستان بھر کا دورہ کیا اور پاکستان کے حصول کے لیے راہ ہموار کی۔ 2 دسمبر 1945ء کو مسلم کانفرنس کے ایک اجلاس کی صدارت کی۔ علامہ شبیر احمد عثمانی پاکستان کے دستور کو اسلامی خطوط پر استوار کرنے میں بے حد دلچسپی رکھتے تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1