ایف بی آر کی کارروائی کا ڈر، فنکاروں کے بینک اکاؤنٹ خالی

ایف بی آر کی کارروائی کا ڈر، فنکاروں کے بینک اکاؤنٹ خالی

لاہور(فلم رپورٹر)قومی شناختی کارڈ نمبر کی مدد سے تمام بینک اکاؤنٹس فیڈرل بورڈ آف ریوینو (ایف بی آر) کی دسترس میں فنکاروں کو پریشانی لاحق ہوگئی۔ نوٹس کا جواب معینہ مدت تک نا دینے کی صورت میں بیک اکاؤنٹ سے وصولی کی جانے لگی۔ تفصیلات کے مطابق چار لاکھ سے زائد سالانہ آمدنی کمانے والے اشخاص کو ٹیکس گوشوارہ جمع کروانا لازمی قرار دے دیا گیا جبکہ گوشوارے کے ساتھ ویلتھ گوشوارہ بھی جمع کروانا لازم ہے جس کے بغیر ٹیکس گوشوارہ جمع ہی نہیں کیا جائے گا۔ انکم ٹیکس گوشوارے میں سالانہ آمدنی جبکہ ویلتھ گوشوارے میں تمام اثاثہ جات بشمول بینک بیلنس، جائیداد کی تفصیلات،موٹر گاڑیاں وغیر ہ کا اندارج کروانا ہے۔ اس حوالے سے زرائع کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے متعدد اداکاروں اور گلوکاروں کو ٹیکس کی ادائیگی کے لئے نوٹس جاری کئے ہیں اور ان کو سالانہ گوشوارے داخل کروانے کا بھی کہا گیا ہے لیکن متعدد فنکاروں نے سالانہ گوشوارے داخل نہیں کروائے جس کے بعد ایف بی آر نے کارروائی کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ ایف بی آر کی کارروائیوں کے ڈر سے متعدد فنکاروں نے اپنے بینک اکاؤنٹ خالی رکھنے شروع کر دیئے ہیں۔ جبکہ اپنی آمدنی بھی کیش کی صور ت میں وصول کرنے پر ضرور دے رہے ہیں تاکہ آمدنی بینکنگ چینل کے توسط سے ظاہر نا ہوسکے۔

واضح رہے کہ اس وقت ایک عام سے فنکار کی سالانہ آمدنی دس لاکھ روپے ہوگی جبکہ ہمارے ملک میں بیشتر بڑے فنکار ایک پروجیکٹ کے لاکھوں روپے وصول کرتے ہیں۔ کچھ ایسے فنکار اور گلوکار بھی بھی ہیں جو کہ ایک فلم یا ڈرامے یا پروگرام کے لئے 50 لاکھ روپے سے بھی زائد معاوضہ وصول کرتے ہیں جس میں اداکارہ ماہرہ خان، صبا قمر، استاد راحت فتح علی خان، مہوش حیات، ہمایوں سعید، عاطف اسلم و دیگر شامل ہیں ایسے فنکاروں کے

مزید : کلچر