طبقاتی نظامِ تعلیم قومی یکجہتی کے لئے زہر قاتل۔۔۔۔۔۔؟

طبقاتی نظامِ تعلیم قومی یکجہتی کے لئے زہر قاتل۔۔۔۔۔۔؟

یکساں نصاب کے بغیر تعمیر و ترقی ممکن نہیں

خرم منصور قاضی

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، بڑھوتری اور ازہان کو جلا بخشنے کے لئے کلیدی کردار کی حامل ہے۔اگر اساتذہ اور تعلیمی ادارے تعلیم کو صحیح معنوں میں جہادی جذبہ کے تحت عام کرنے کے لئے مخلصانہ کاوشیں کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ مُلک و قوم اور تہذیب وتمدن ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں۔تعلیم سب کے لئے کا نعرہ مستانہ تو ہر دور میں لگایا گیا،مگر تعلیم کی فراہمی اور امیر و غریب کو یکساں تعلیم کی فراہمی کے دعوے زبانی کلامی نعروں تک ہی محدود رہے۔

جس طرح پاکستان میں مختلف طبقاتی نظام بروئے کار ہیں اسی طرح یہاں کم از کم پانچ مختلف نظامِ تعلیم رائج ہیں جو طبقات کے درمیان فاصلہ کو مزید بڑھانے کا موجب ہیں۔ہر آنے والی حکومت اعلان کرتی ہے کہ جلد ہی ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کر دیا جائے گا مگر یہ اعلان دعوؤں تک ہی محدود رہتا ہے۔حالانکہ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ وہی ملک ترقی کر سکتا ہے جس کے طول و عرض میں ایک ہی نظام تعلیم رائج ہو۔

دنیا کا مایہ ناز پاپ سنگر کیٹ سٹیون (اب یوسف اسلام) جب مسلمان ہوا تو اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمان بچوں کو تعلیم دینے کیلئے اس نے برطانیہ کی وزارت تعلیم کو ایک سکول کی منظوری کے لیے درخواست دی مگر وہ رد کر دی گئی۔ جب برطانیہ کی اس وقت کی وزیراعظم مارگریٹ تھیچر سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ملک ایک رہے تو پھر یکساں نظام تعلیم ہونا چاہیے۔گو بعد میں یوسف اسلام کو اسکول کھولنے کی اجازت مل گئی مگر مارگیٹ تھیچر کے مندرجہ بالا بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک یکساں نظام تعلیم پر کتنا زور دیتے ہیں کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ اسی کے ذریعے حقیقی قومی و ملی شعور بیدار ہوتا ہے اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں کسی قسم کے طبقے نہیں ہوتے، نیز اس سے قومی اتحاد اور قومی یکجہتی کو فروغ ملتا ہے۔

مغربی تہذیب کی دیکھا دیکھی مسلمان ملکوں میں بھی تعلیم تجارت کا روپ دھار چکی ہے، نتیجتاً نوجوانوں‘ طلبہ میں نہ کردار کی بلندی باقی ہے اور نہ مادی ترقی کا ولولہ دکھائی دیتا ہے۔ ان کی عملی زندگی میں اسلام کی خوبو تک نہیں رہی۔ تعلیمی ادارے بے جان جسم کے مانند ہیں جہاں نہ علم ہے نہ کردار، نہ ذہن ہے اور نہ جذبہ۔ ان اداروں سے فارغ شدہ تعلیم یافتہ نوجوان جوش وولولہ اور عمل و کردار سے خالی ہیں۔ قومی یکجہتی کے متوالے تب ہی پیدا کیے جا سکتے ہیں جب یکساں نظام تعلیم ہو گا۔پاکستان جیسی نظریاتی ریاست کا تقاضا ہے کہ تعلیمی ادارے بنیادی طور پر ایک نظام کے تحت ایک لڑی میں پرو دیئے جائیں۔ پاکستان میں ڈھیر سارے طبقے اس نظام تعلیم کا نتیجہ ہیں جو انگریز ہم پر تھوپ گئے تھے۔ ان طبقوں کو ختم کرنے کے لیے یکساں نظام تعلیم ایک موثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

انگریزوں کے برصغیر پر قبضہ سے قبل ایک ہی قسم کا نظام تعلیم رائج تھا۔۔۔ یکساں نصاب‘ ایک جیسے تعلیمی ادارے‘ ایک ہی طرح کے اساتذہ‘ ایک ہی طرح کے طلبہ اور ایک سا تعلیمی ماحول۔ انگریزوں نے مسلمانوں میں کسی حد تک پائی جانے والی اس ہم آہنگی کو ختم کرنے کے لیے نئی طرح کے تعلیمی اداروں کو متعارف کرایا جن میں نظریہ حیات کی پہلی کڑی کلمہ کے بجائے ملازمت کا حصول تھا۔ یوں آنے والی نسلوں کے نزدیک مسلمانوں کی مادی ترقی اور ہندوستانی معاشرے میں ان کی بقا اہم ٹھہرے۔بعد ازاں مسلمان علماء نے مذہب کی بقا اور تحفظ کے لیے مذہبی اداروں کی بنیاد ڈالی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہندوستان میں اسلام کے بنیادی ارکان اور زندگی کے کئی دوسرے شرعی تقاضے انہی علماء کی خدمات کے باعث باقی رہے البتہ الگ الگ مذہبی اور دنیوی تعلیم کا جو سلسلہ اس وقت شروع ہوا اب وہ پورے جوبن پر ہے۔ حالت یہ ہے کہ جدید تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلباء دین سے بے بہرہ ہیں اور مذہبی اداروں کے فارغ التحصیل جدید طرز کی دنیوی زندگی میں اجنبی ہیں۔

قیام پاکستان کے وقت صورت حال کچھ اس طرح تھی کہ سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اور بعض نجی تعلیمی ادارے جدید طرز کی تعلیم دیتے تھے جن کی ہیت لادینی تھی۔ ساتھ ساتھ قدیم طرز کے دینی مدارس بھی موجود تھے۔ نجی تعلیمی اداروں میں عیسائی مشنریوں کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں کی تعداد میں، جو اپنی روح کے اعتبار سے کاروباری تھے‘ کھمبیوں کی طرح تیزی سے اضافہ ہوا۔ان اداروں نے مشنری جذبے کے تحت تعلیم بھی دی اور خاص کر ان سکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کو دیگر سکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کی طرح انگریزی کو سمجھنے اور بولنے میں دقت نہ رہی،مگر ان سکولوں کا نصاب تعلیم اُردو سکولوں کی نسبت فرق تھا۔ اس سے مجموعی طور پر ملک و قوم میں انتشار کی فضا پیدا ہو گئی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان بننے کے بعد یکساں تعلیمی نظام رائج کیا جاتا اور افراد کی دنیوی ضرورتوں کے ساتھ ان کی قومی اور نظریاتی تربیت ہوتی تاکہ اب تک ہم دنیا کے سامنے ایک مضبوط قوم بن کر ابھرتے لیکن حکومت نے تعلیم پر کم توجہ دی اور عوام کا مادی ضرورتوں میں الجھ کر رہ جانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت دو متوازی نظام تعلیم‘ دینی اور لادینی چل رہے ہیں جن کی مزید کئی شاخیں ہیں۔

مذہبی نظام میں دیوبند‘ بریلوی‘ اہلحدیث‘ شیعہ وغیرہ مکاتب فکر شامل ہیں‘ لادینی نظام میں تو بے شمار ذیلی نظام ہیں جن کی کئی طرح سے درجہ بندی ہو سکتی ہے مثلاً امراء اور غرباء کے حوالے سے‘ انگریزی اور اردو میڈیم‘ عیسائی مشنریوں کے ادارے‘ کاروباری ادارے وغیرہ۔ اس صورتِ حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمنان اسلام اور دشمنان پاکستان نے ،جنہیں پاکستان کا قیام پسند نہ تھا، تعلیم کے شعبے پر اثر انداز ہو کر اس پر کاری ضرب لگائی جو کسی بھی ملک کی تعمیر وترقی کا بے حد اہم ذریعہ ہے۔ عیسائی مشنری اداروں اور غیر ملکی ایجنسیوں نے تعلیم کے اہم شعبوں یعنی نصاب‘ کتاب‘ تربیت اساتذہ اور انتظامی ڈھانچوں کی تشکیل نو اپنی مرضی کے مطابق کی۔

پاکستان میں ارباب اختیار یا تو اس چال کو سمجھ نہ سکے یا وہ بھی فی الحقیقت انہی کے کارندے تھے کہ انہوں نے نہ صرف اس صورتِ حال سے چشم پوشی اختیار کئے رکھی،بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی۔ نتیجتاً غیر ملکی اور بین الاقوامی اداروں نے قرضوں کی شکل میں دی جانے والی امداد کے نام پر ہمارے قومی تعلیمی نظام کو کافی حد تک اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ تعلیم ٹکڑیوں میں بٹ گئی،کہیں امریکی نصاب نافذ کیا گیا تو کہیں برطانوی طرز کے ادارے قائم ہوئے۔ برصغیر پاک وہند پر قبضے کے وقت یہی کام برطانوی سامراج نے کیا تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے نظام تعلیم کو ہدف بنایا۔ حکومت پاکستان نے دانستہ یا نادانستہ انداز میں غیر ملکی ایجنسیوں کی بلاوجہ اور بلاجواز حوصلہ افزائی کی اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ وطن عزیز میں مختلف نظام ہائے تعلیم رائج ہیں۔اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے نظام تعلیم میں کسی سطح پر یکسانیت نہیں اور ہم بطور قوم فکری انتشار کا شکار ہیں۔ مزید برآں ایسی نسل تیار ہو رہی ہے جو منفی طرز فکر رکھتی ہیں۔ پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ ایک دوسرے پر تنقید کر رہا ہے۔ جدید طرز کے تعلیم یافتہ افراد مذہبی تعلیم کے حامل لوگوں کو نفرت کی نظر سے دیکھتے اور مذہبی تعلیم کے حامل جدید تعلیم یافتہ افراد کو مذہب دشمن خیال کرتے ہیں۔

بطور قوم ہمارا ملک ایک ہے ،دین ایک ہے تونظام تعلیم ایک کیوں نہیں ہو سکتا؟اس سلسلے میں حکومت سب کو یکساں تعلیم دینے کی ذمہ داری قبول کرے۔ تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کر کے حکومت کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں کا معیار اتنا بلند کر دیا جائے کہ وہ مشنری اور غیر ملکی ایجنسیوں کے تحت چلنے والے اداروں کے معیار کا مقابلہ کر سکیں۔ پورے ملک میں یکساں نصاب رائج کیا جائے اور نصاب ساز اداروں کو پابند کیا جائے کہ ایسا نصاب تیار کریں جو اسلامی تہذیب و تمدن کے ساتھ ساتھ قومی اور علاقائی ضروریات کا بھی خیال رکھے اور اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرے۔اساتذہ کی تربیت میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ وہ یکساں نظام تعلیم کے مشن کو آگے بڑھانے والے بنیں۔ مرکزی سطح پر تعلیمی منصوبہ بندی کی جائے اور اس کے عملی نفاذ کو یقینی بنایاجائے۔ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ علوم پر کسی خاص گروہ‘ طبقے یا ایجنسی کی اجارہ داری نہ ہواور پورے ملک کے عوام خواہ امراء ہوں یا غرباء ،کو تحصیل علم کے برابر مواقع حاصل ہوں۔ علم کے حصول کا معیار مال و دولت‘ عہدے،منصب اور دیگرامتیازات کی بجائے صرف صلاحیت اور قابلیت مقرر کیا جائے۔ قدیم و جدید (دینی و دنیوی) علوم کو باہم اس طرح ملایا جائے کہ توازن کے ساتھ دینی اور دنیوی معاملات ساتھ ساتھ چل سکیں اور مختلف فقہ کو ہم آہنگ کرنے کے لیے شعوری کوششیں کی جائیں۔

آخر میں عرض ہے کہ ہمارے ہاں یکساں نظام تعلیم نہ ہونے کے باعث قومی یکجہتی پارہ پارہ ہے۔ طبقاتی اور سیکولر نظام تعلیم کی بدولت ایسے روح فرسا مناظر دیکھنے ملتے ہیں کہ نوجوان طبقے بالخصوص طالبان علم کا ایمان متزلزل ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں عوام کو ہم خیال بنانے کے لیے ہر سطح پر ذرائع ابلاغ کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے اور ان کو باور کرانا چاہئے کی اگر یہ طبقاتی نظامِ تعلیم ترک کر کے یکساں نظامِ تعلیم رائج نہ کیا گیا تو آئندہ جو نسل تیار ہو گی وہ شاید ایک دوسرے کے ساتھ ابلاغ کرنے کے قابل بھی نہ ہو اور اگر معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان ابلاغ ہی ناپید ہو جائے تو ذرا سوچیں کے معاشرتی انتشار کا کیا عالم ہو گا اور ایک ہی قوم کے مختلف طبقات میں کس قدر دوری پیدا ہو جائے گی اور پھر جو خلا پیدا ہو گا اسے پاٹنا ناممکن حد تک مشکل ہو جائے گا۔

مزید : ایڈیشن 1