سابق صوبائی وزیر قانون کو ان کی اہلیہ کی جانب سے ہتک عزت پر 10کروڑ روپے ہر جانے کا نوٹس

سابق صوبائی وزیر قانون کو ان کی اہلیہ کی جانب سے ہتک عزت پر 10کروڑ روپے ہر ...

 لاہور(نامہ نگار)مسلم لیگ (ق )کے چیف آرگنائزر و سابق صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ کو ان کی اہلیہ و سابق رکن پنجاب اسمبلی سیمل راجہ کی جانب سے ڈیفرمیشن آرڈیننس 2012 ء کے تحت ہتک عزت پر 10 کروڑ ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا گیاہے۔ محمد بشارت راجہ کوان کی اہلیہ سیمل راجہ نے اپنے وکیل مدثر چودھری کی وساطت سے ہتک عزت کا لیگل نوٹس بھجوا دیا ،نوٹس میں کہا گیا ہے کہ بشارت راجہ 15 یوم کے اندر تحریری معافی مانگیں بصورت دیگر ان کے خلاف عدالت میں کریمنل کیس دائرکیا جائے گا۔ہتک عزت نوٹس میں کہاگیا ہے کہ بشارت راجہ کی جانب سے بیہودہ زبان اور بے جا الزام تراشی کی وجہ سے سیمل راجہ کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ راجہ بشارت کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ سیمل راجہ کی صوبائی اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی گئی تھی جبکہ سیمل راجہ نے بطور ایم پی اے اسمبلی کی مدت مکمل کی تھی اور کبھی کسی بھی ملک میں سیاسی پناہ کے لئے درخواست نہیں دی ہے، مخصوص نشتوں پر ایم پی اے منتخب ہوئی اور اپنی مدت مکمل کی تھی مسلم لیگ (ق )کی جانب سے الیکشن کمیشن پاکستان میں الیکشن 2013 ء کے لئے بھجوائی گئی خواتین کی مخصوص نشتوں کی لسٹ میں دوبارہ میرا نام ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا،آج بھی مسلم لیگ (ق )کی ورکر ہوں اور وہی میری پہچان ہے،پنجاب میں مسلم لیگ (ق) کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشتوں کی فہرست میں الیکشن 2008 ء میں 17 ویں اور 2013 ء میں ٹاپ 5 میں نام دئیے جانے پر آج بھی قیادت کی شکر گزار اور احسان مند ہوں۔بشارت راجہ اپنے آبائی حلقے کے عوام ، جماعت، قائدین اور الیکشن کمیشن کو گذشتہ کئی سال سے جھوٹ بول کر دھوکہ دہی و جعلسازی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ان کی مستقل نا اہلی کے لئے رابطہ کر کے ثبوت بھجوا دئے گئے ہیں۔

مزید : علاقائی