نشہ آور گولیاں ’’اوپیوآئڈ ٹرامیڈول ‘‘ خودکش بمباروں میں مقبول ہیں ، اقوام متحدہ اہلکار کا انکشاف

نشہ آور گولیاں ’’اوپیوآئڈ ٹرامیڈول ‘‘ خودکش بمباروں میں مقبول ہیں ، اقوام ...

 نیویارک(آئی این پی)اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ اوپیوآئڈ ٹرامیڈول نامی دوا اکثر خودکش بمباروں کی جیبوں سے مل رہی ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار کی جانب سے اس انکشاف کے بعد کہ اوپیوآئڈ ٹرامیڈول نامی دوا اکثر خودکش بمباروں کی جیبوں سے مل رہی ہیں ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مغربی افریقہ میں اس کی سمگلنگ میں اضافہ ہو رہا ہے،یو این او ڈی سی کے مغربی اور وسطی افریقہ کے نمائندے پیئر لاپیک نے خبردار کیا کہ اس بات کا انتظار نہیں کیا جا سکتا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو جائے ' اس سے عالمی سطح پر سکیورٹی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کے منشیات اور جرائم کے ادارے(یو این او ڈی سی)نے کہا ہے کہ 2013سے پکڑی جانے والی اوپیوآئڈ کی مقدار پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ 2013سے پہلے یہ مقدار تقریبا 300 کلو تھی جوبڑھ کر سالانہ تین ٹن ہو گئی ہے۔اس سال ستمبر میں نائجر میں ایسے ڈبوں سے30لاکھ گولیاں پکڑی گئیں جن پر اقوامِ متحدہ کے نشان لگے ہوئے تھے۔یہ گولیاں بوکو حرام جیسی شدت پسند تنظیموں میں کافی مقبول سمجھی جاتی ہیں۔ان گولیوں کو قانونی طور پر درد سے نجات والی ادوایات کے طور پر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں ممکنہ حملہ آوروں کو پر سکون رکھنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔برطانوی اخبار گارڈین نے پہلے یہ خبر دی تھی کہ بوکو حرام کے لوگ خودکش مشن پر بھیجنے سے پہلے ان گولیوں کو کھجوروں میں رکھ کر بچوں کو کھلاتے ہیں۔پیئر لاپیک کے مطابق ان مشتبہ افراد کی جیبوں سے مسلسل اوپیوآئڈ ٹرامیڈول مل رہی ہے جنھیں دہشتگردی کے شبہ میں گرفتار کیا جاتا ہے۔ لاپیک نے کہا کہ ان حملہ آوروں کے پاس سے بھی یہ گولیاں ملی ہیں جنھوں نے خودکش حملے کیے ہیں۔

مزید : علاقائی