جیسے ممی قومی موومنٹ ویسے مِیم لیگ

جیسے ممی قومی موومنٹ ویسے مِیم لیگ
جیسے ممی قومی موومنٹ ویسے مِیم لیگ

  

2014 ء میں عمران خان سابق وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کو چلتا کرنے میں سنجیدہ تھے تو آصف زرداری غیر سنجیدہ تھے ، 2017ء میں آصف علی زرداری سیریس ہوئے ہیں تو عمرا ن خان نان سیریس ہو گئے ہیں۔

ان کاکہنا ہے کہ وہ کسی صورت آصف علی زرداری کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے ، البتہ بلاول بھٹو کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے جواب میں بلاول بھٹو بھی کہیں کہ وہ کسی صورت چاچا عمران کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ البتہ چاچا شاہ محمود قریشی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں !

سچ پوچھئے تو موجودہ اپوزیشن کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آرہی ہے۔ علامہ طاہرالقادری جو حشر بپا کرسکتے ہیں وہ آصف علی زرداری اور عمران خان کے بس کا کام نہیں ۔آصف زرداری جو چمتکار دکھا سکتے ہیں وہ علامہ طاہرالقادری اور عمران خان نہیں دکھا سکتے اور عمران خان جو انہونی کرسکتے ہیں، وہ آصف زرداری اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے بس کی بات نہیں ہے، یعنی علامہ طاہرالقادری الیکشن جیتیں نہ جیتیں، حکومت بنا ئیں نہ بنائیں ، ایک بات طے ہے کہ وہ حکومت گراضرور سکتے ہیں،جبکہ عمران خان حکومت بنائیں نہ بنائیں الیکشن ضرور جیت سکتے ہیں اور آصف علی زرداری الیکشن جیتیں نہ جیتیں حکومت ضرور بنا سکتے ہیں ۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سپرمین، آئرن مین اور بیٹ مین کی طرح یہ تینوں ہیرو باہمی کوشش سے حکومتی برائی کا خاتمہ کر دیتے، مگر ان کی تو آپس میں نہیں بن رہی ،یہ عوام کی قسمت خاک بنائیں گے، حالانکہ مردم شماری میں مبینہ نقائص ،ختم نبوت کے حلف نامے میں تبدیلی اور جسٹس نجفی کمیشن کی رپورٹ کے اجراء اپوزیشن کی جانب سے ایک بھرپور تحریک چلانے کے لئے کافی تھے، لیکن ان کی باہمی ناچاقی دیکھ کر لگتا ہے کہ تب تک اپوزیشن سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف کچھ نہیں کر پائے گی جب تک اسٹیبلشمنٹ ان کے آگے نہیں لگے گی یا ان کو آگے نہیں لگائے گی!

میرے بیٹے نے گزشتہ شام ایف سی کالج میں منعقدہ پارلیمانی مباحثے میں حصہ لیا ، واپسی پر مجھے اس کو کالج سے پک کرنا تھا ، راستے میں پوچھا کہ مباحثے کے موضوعات کیا تھے تو کہنے لگا کہ ایک سنجیدہ موضوع تھا اور ایک مزاحیہ ، پوچھا کہ سنجیدہ موضوع کیا تھا تو اس نے بتایاکہ ’یہ ہاؤس اس موقف کی حمائت کرتا ہے کہ پاکستان میں فوج کی سیاسی جماعت ہونی چاہئے ۔۔۔ اورمزاحیہ موضوع کیا تھا تو کہنے لگاکہ ’یہ ہاؤس اس موقف کی حمائت کرتا ہے کہ شادی کی بھی Expiry Dateہونی چاہئے‘ ۔۔۔مَیں نے کہا بیٹا تمہارے کالج والے بھی غبی معلوم ہوتے ہیں کہ جس موضوع کو مزاحیہ ہونا چاہئے تھا اسے سنجیدہ اور جسے سنجیدہ ہوناچاہئے تھا اسے مزاحیہ قرار دے کر بحث کرواتے رہے !

یہی ہمارے مُلک کا حال ہے کہ نواز شریف کو عدالتِ عظمیٰ سے نااہل پہلے کروالیا اور انہیں حکومت سے نکالنے کے جتن اب ہو رہے ہیں ، خدا معلوم ان میں سے سنجیدہ کام کون سا تھا اور مزاحیہ کون سا ہے ،خاص طور پرجب اس کنفیوژن میں مزید اضافہ شیخ رشید یہ کہہ کر کرتے نظر آرہے ہیں کہ وہ 2018ء میں نواز شریف کو سیاست سے آؤٹ ہوتا دیکھ رہے ہیں ، ایسا ہے تو علامہ طاہرالقادری ،عمران خان اور آصف علی زرداری ایک کنٹینر پر چڑھ کر مسلم لیگ(ن) کی حکومت کیوں ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ نواز شریف کی سیاست تو شیخ رشید کے بقول 2018ء میں ویسے ہی ختم ہو رہی ہے !۔۔۔یہ اہم نکتہ آخروہ ان تینوں حضرات کو سمجھانے میں کیونکر کامیاب نہیں ہو پار ہے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی جمہوری سیٹ اپ غیر سنجیدہ حکومت کے ساتھ تو چل سکتا ہے، لیکن غیر سنجیدہ اپوزیشن کے ساتھ ہر گز نہیں چل سکتا ، 1977ء میں بھی ایسا ہی ہوا تھا،جب آدھی اپوزیشن انتخابات میں دھاندلی کا رونا رو رہی تھی تو آدھی اپوزیشن نظام مصطفےٰ کی تحریک چلا رہی تھی اور نتیجتاً جنرل ضیاء الحق آ گئے تھے، جو مُلک میں نوے روز میں شفاف انتخابات اور گیارہ برس تک نظام مصطفےٰ نہ رائج کرسکے اوراپوزیشن کبھی ایم آر ڈی تو کبھی غیر جماعتی انتخابات کی اوٹ لے کر چلتی رہی تاآنکہ بے نظیر بھٹو کی شکل میں ایک سنجیدہ اپوزیشن سامنے آئی اور جنرل ضیاء پر زمین اس قدر تنگ پڑگئی کہ انہیں فضا میں ہی دارفانی سے کوچ کرنا پڑا۔

2014ء میں جب عمران خان اور طاہرالقادری اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا لگائے بیٹھے تھے تو عید سے دس روز پیشتر سابق وزیراعظم نواز شریف مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور دن رات عباد ت کا ثواب سمیٹتے نظر آئے ۔

اس دوران جدہ میں مقیم چودھری اعتزازالرحمن سے ٹیلی فون پر بات ہوئی تو کہنے لگے کہ نواز شریف کو کچھ نہیں ہو گا، کیونکہ اس کی ماں زندہ ہے ۔ آج 2017ء کے آخری مہینے میں جب اپوزیشن علی الاعلان کہتی ہے کہ ’اب شہباز شریف کی باری ‘تو دل سے بے اختیار ماں صدقے ، ماں واری نکلتا ہے، کیونکہ نواز شریف کی ماں تو ہار گئی ، اب شہباز شریف کی ماں لڑے گی ، اب ایک ماں کی اسٹیلشمنٹ سے لڑائی ہوگی ، سارے سسٹم سے لڑائی ہوگی ، ممی قومی موومنٹ کی طرح اب مسلم لیگ(ن) بھی میم لیگ کہلائے گی !....وہاں بھی ماں جیتی تھی ، یہاں بھی ماں جیتے گی!!!

مزید : کالم