ٹرمپ کا فیصلہ مسترد ، القدس فلسطین کا دارلحکومت ،57اسلامی ممالک کا اعلان ، عالمی برادری سے تسلیم کرنے کا مطالبہ

ٹرمپ کا فیصلہ مسترد ، القدس فلسطین کا دارلحکومت ،57اسلامی ممالک کا اعلان ، ...

 ستنبول (مانیٹرنگ ڈیسک+ایجنسیاں )اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے اعلامیے میں عالمی برادری سے مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔استنبول میں ہونے والے 57 ممالک کے او آئی سی کے ہنگامی سربراہ اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔او آئی سی سربراہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اقدام انتہا پسندی اور دہشت گردی بڑھائے گا۔اعلامیے کے مطابق امریکا کا مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق اعلان امن عمل سے دستبرداری ہے لہذا امریکا مشرق وسطیٰ امن عمل سے اپنا کردار ختم کرے۔او آئی سی اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرے۔ اس سے قبل ترکی میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس میں 57 اسلامی ممالک سربراہوں وزرا خارجہ اور نمائندوں نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے ۔اسلامی ممالک نے اپنے دوٹوک اعلان میں القدس کے فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا اور اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا اس سلسلے میں ا وسلو معاہدے پر عمل درآمد کرائے ۔اسلامی ممالک نے اسرائیل کو دہشت گرد ملک بھی قرار دیدیا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے خلاف ترکی میں اسلامی تعاون تنظیم ( او آئی سی ) کے ہنگامی اجلاس ہوا۔او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اخلاقیات کی اقدار کے منافی ہے جب کہ امریکی فیصلہ انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے جب کہ امریکی فیصلہ اسرائیل کے دہشت گردی اقدامات پر انہیں تحفہ دینے کے مترادف ہے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ ہم آزاد فلسطینی ریاست کے مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد امت مسلمہ اپنے حکمرانوں سے سوال پوچھتی ہے کہ ہم نے نہتے فلسطینی مسلمانوں کے لئے کیا کیا؟ کیا ہم اپنے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر امت کے لئے نہیں سوچیں گے؟ہمیں فوری طور پر اپنے سیاسی اختلافات بھلانا ہوں گے ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اگر امریکی صدر کے اعلان پر کوئی اقدامات نہیں اٹھاتی تو مسلم ممالک کو یہ معاملہ جنرل اسمبلی کے سامنے پیش کرنا چاہیے ، مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے مسلم ممالک کواقتصادی دباؤ بڑھانا ہوگا۔ ا۔ا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کی جانب سے امریکی اقدام کی بھرپورمذمت کرتاہوں اورپاکستان اس موقع پر فلسطین اور فلسطینی عوام کے پیچھے کھڑا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اقدام انتہاپسندی،دہشتگردی بڑھائے گا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ نے امریکی اقدام کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی ہے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ امریکہ اپنا فیصلہ فی الفور واپس لے۔ہم فلسطینیوں کی منصفانہ جدوجہد کیساتھ کھڑے ہیں، پاکستان آزادفلسطینی ریاست کاقیام چاہتا ہے۔ وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ہم تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑے ہیں ، فلسطینیوں پر مظالم ڈھانا اسرائیل کی نئی حرکت نہیں ہے بلکہ 70سالوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ہمارے ذاتی اختلافات اور کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر عالمی طاقتوں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ معاملہ صرف فلسطین کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ 70سال سے بھارت بھی مقبوضہ کشمیر پرغیر قانونی قبضہ کیے ہوئے ہے اور وہاں نہتے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکا امن عمل میں ایماندار ثالث نہیں جب کہ فلسطینی عوام اپنے حقوق کے حصول پر زور دے رہے ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حل میں امریکہ کا کوئی کردار قابل قبول نہیں ہوگا، امریکہ نے اسرائیل کی طرف اپنی مکمل جانبداری کا ثبوت دے دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں اس کا کوئی کردار قبول نہیں کیاجائے گا۔بدھ کو وہ استنبول میں او آئی سی کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں۔ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرکے عالمی صہیونی تحریک کو گراں قدر تحفہ دے دیا ہے۔ٹرمپ کا فیصلہ عالمی قرار دادوں کی صریح خلاف ورزی ہونے کے باعث بے بنیاد اور ناقابل قبول ہے۔فلسطین ریاست کا قیام مشرقی بیت المقدس کے بغیر ممکن نہیں۔امریکہ جب تک اپنے فیصلے سے رجوع نہیں کرے گا اس وقت تک فلسطین سابقہ تمام معاہدوں کا اب پابند ی نہیں کرے گا۔فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم فلسطین کے امن عمل میں امریکا کے کسی کردار کو تسلیم نہیں کرتے، عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر دنیا خاموش نہیں رہ سکتی۔فلسطینی صدر نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے مسلمانوں اور مسیحیوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف نکلیں، ہم سب کو مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلے کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔محمود عباس نے کہا کہ ہم مزاحمتی تنظیم (پی ایل او) کو دہشتگرد تنظیم کہنے کے اعلان کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ترک صدر کی اپیل پر بلائے جانے والے او آئی سی کے اجلاس میں فلسطینی صدر محمود عباسی، اردن کے بادشاہ عبداللہ دوئم، پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، آذربائیجان کے صدر الہام الیو، ایرانی صدر حسن روحانی اور بنگلہ دیش کے صدر عبدالحامد سمیت 22 اسلامی ممالک کے سربراہان اور 25 ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شریک ہیں۔اس سے قبل اسلامی کے وزرا خارجہ کا اجلاس ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئیترکی کے وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے مشرقی یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ سب سے پہلے تمام ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے اور اس کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق بدھ کو ترکی نے عالمی برادری سے مشرقی یروشلم کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرنے کی درخواست کی۔ ترک وزیر خارجہ مولود چاوش اولو کے مطابق سب سے پہلے تمام ممالک کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے اور اس کے لیے سب کو مل کر کوشش کرنا ہو گی۔ترک وزیر خارجہ مولود چاوش کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اعلان کے بعد بعض عرب ممالک کی جانب سے واشنگٹن کو مناسب جواب نہیں دیا گیا اور وہ خوف زدہ ہیں اور لگتا ہے کہ عرب ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کو جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں،اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ وہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔اجلاس میں فلسطین سے اظہار یکجہتی اور امریکا کے متنازعہ اعلان کی مذمت کی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ اجلاس کے دوران پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی، عالمی روایات اور ریاستی طرز عمل کے خلاف ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے جب کہ ہماری پارلیمنٹ نے متفقہ قراردادوں کے ذریعے امریکی اعلان کی مذمت کی ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا بھر کے لوگ امریکی فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں جب کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کے جذبات بھی عالمی برادری کے جذبات میں شامل ہیں۔

مزید : صفحہ اول