شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم نہیں مانتا ، عمران خان

شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم نہیں مانتا ، عمران خان

 کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے میں شاہد خاقان عباسی کو وزیر اعظم نہیں مانتا، فاٹا میں دہشت گردی کی وجہ سے خلاء پیدا ہوا جسے پر کرنے کیلئے اسے فوری طور پر خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے، ملک میں کرپشن کیخلا ف جہاد کی ذمہ داری میں نے لی ہے، جب تک زندہ ہوں کرپشن کیخلاف جہاد کرتا رہوں گا، سب سے زیادہ سیاسی شعور رکھنے والے لوگ کراچی میں ہیں، آئندہ الیکشن میں چاروں صوبوں میں جیت کرملک سے کرپشن کا خاتمہ کر کے دکھائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں پریس کانفرنس، تاجروں سے ملاقات اور قائد آباد میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان (نیپ) کی شق 12 میں کہا گیا تھا کہ فاٹا کو سیٹل کرنا ہے، دہشت گردی روکنی ہے تو وہاں موجود خلاء کو پر کیا جائے۔مولانا فضل الرحمن کے دباؤ میں حکومت اس معاملے کو 2022 تک لے کرجانا چاہتی ہے۔ماڈل ٹاؤن واقعہ کی جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا ہے۔ختم نبوت کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا، سب پوچھ رہے ہیں کہ کیا ضرورت تھی خفیہ تبدیلی کی اور اس کے باوجود حکمران پکڑے گئے تاہم ظفر الحق کی رپورٹ کا پوری قوم انتظار کررہی ہے۔ مسائل کا حل فوری انتخابات ہیں کیونکہ ہر روز ملک میں مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ ملک ٹھیک کرنے کیلئے 200 بہترین لوگوں کی تلاش شروع کردی۔ قبل ازیں کراچی کے تاجروں سے ملاقات کے دوران تاجروں نے گلے شکوے کئے اورکہا عارف علوی ہمارے رکن قومی اسمبلی ہیں مگراب نظر آئے، پی ٹی آئی کو ووٹ دئیے لیکن مسائل حل نہیں ہوئے، جبکہ کراچی میں دھرنوں کیلئے کوئی ایک جگہ مقرر کریں۔عمران خان نے بھی اعتراف کیا کہ وہ کراچی کا مناسب وقت دینے سے قاصر رہے کیونکہ وہ ’مافیا‘ سے لڑنے میں مصروف تھے، کراچی کے مسائل صرف براہ راست میئر کے انتخاب سے حل ہوسکتے ہیں۔ ساری سیاسی جماعتوں کو معلوم تھا 2013کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی، میں نے صرف یہ کہا تھا صرف 4حلقے تحقیقات کیلئے کھول دیں، میں نے کہا تھا آج تحقیقات نہ کی تو 2018میں بھی دھاندلی ہو گی، الیکشن کمیشن نے (ن) لیگ سے مل کردھاندلی کی تھی۔ نواز شریف سے پاناما پر پوچھا تو جھوٹ پر جھوٹ بولے، میں احتجاج نہ کرتا تو پاناما کو دفن کر کے اس پر پھول اُگے ہوتے۔خیبرپختونخوا میں پولیس ادارہ بن گیا ہے، شوگر مافیا جیسی صنعتوں کیخلاف ایکشن لیں گے کیونکہ شوگر مافیا کسان کو اس کا پیسہ نہیں دیتی۔کراچی کے حکمران کوئی لندن کوئی دبئی میں بیٹھا ہے، نیب کے مطابق چار ہزار ارب کی کرپشن ہوئی ہے حکمرانوں نے سا رے اداروں کو تباہ کر دیا گیا۔انہوں نے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرے اور اگرفاٹا اسی طرح رہ گیا تو پھر وہاں دہشت گردی ہونے لگے گی لہٰذافاٹا کا معاملہ الیکشن قبل حل ہونا چاہیے۔ اسحق ڈار بستر پر پڑے ہوئے ہیں، ملک میں بلدیاتی نظام پر کوئی احتساب نہیں۔بعدازاں عمران خان نے قائد آباد میں کارکنوں سے خطاب میں کراچی کو پی ٹی آئی کا شہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ موقع ملا تو صحیح معنوں میں بلدیاتی نظام لاکر دکھاؤں گے۔ پاکستان میں کبھی صحیح معنوں میں بلدیاتی نظام نہیں آیا، کے پی کے جیسی تبدیلی پورے پاکستان میں لائیں گے۔ صحیح بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں مسائل ہیں، جو پیسے عوام پر لگنے چاہئیں وہ نہیں لگائے جا رہے، عوام کا پیسہ چوری ہو رہا ہے۔دریں اثناء عمران خان اور جماعت اسلامی کے سربراہ سینیٹر سراج الحق کے درمیان اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پرملاقات ہوئی،جس میں ملکی سیاسی صورتحال ، فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے اور کے پی کے حکومت کے حوالے سے بھی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مزید : صفحہ اول