بحریہ ٹاؤن کراچی ،مزار عبداللہ شاہ غازیؒ کی دکا نیں حوالے کرنے کی تقریب

بحریہ ٹاؤن کراچی ،مزار عبداللہ شاہ غازیؒ کی دکا نیں حوالے کرنے کی تقریب

کراچی( خصوصی رپورٹ )بحریہ ٹاؤن کراچی میں مزار عبداللہ شاہ غازی کی دکانوں کے قبضہ حوالگی کی شاندار تقریب میں چابیاں حاصل کرنے والے دکان مالکان نے خوشی کا زبردست اظہار کیا ۔ پاکستان کی بقاء اور بحریہ ٹاؤن کی کامیابی کے لیے دعائیں کیں ۔ اوقاف اور دکان داروں کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی کا شکریہ ادا کیا گیا اور انکی کاوشوں کو سراہا گیا۔یہ دکانیں مزار کی تعمیری منصوبہ کا اہم حصہ ہیں جہاںآنے والے تمام زائرین کی ضرورت کی اشیا دستیاب ہوں گی۔ اس مارکیٹ میں تریسٹھ دکانیں ہیں جنکواس طریقے سے منصوبے کا حصہ بنایا گیا ہے کہ زائرین کیلیے سہولت مہیا ہو، رکاوٹ کا باعث نہ بنیں اور ساتھ ہی باقائدہ مارکیٹ بننے سے روزگار کے وصائل میں بھی اضافہ ہو۔مہمانِ خصوصی ایڈمنسٹریٹر مزار کا کہنا تھا کہ"بحریہ ٹاؤن کراچی نے پوری کوشش کی کہ دکانوں کو جلد تیار کر کے قبضہ د یا جائے تاکہ دکانداروں کے روزگار کا سلسلہ شروع ہوسکے آج ہم بہت شکرگزار ہیں انھوں نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا اور ریکارڈ مدت میں مارکیٹ کو مکمل کرکے قبضہ فورادیا" ۔ ایک دوکاندارکا کہنا تھا کہ" بحریہ ٹاؤن کی جانب سے اتنی صاف ستھری اور خوبصورت عمارت میں جگہ ملنا اور بہتر طریقے سے زائرین کی خدمت کرنے کا موقع دیا جاناایسا کبھی نہیں سوچا تھا اسکے لئے میں بحریہ ٹاؤن کا بہت شکر گزار ہوں"۔آٹھویں صدی عیسویں سے تعلق رکھنے والی بزرگ ہستی عبداللہ شاہ غازی کا مزار کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں واقع ہے۔ 720عیسوی میں مدینہ منورہ میں پیدا ہونے والے عبداللہ شاہ غازی 760عیسوی میں سندھ کی سرزمین پر تشریف لائے اور یہیں سکونت پذیر ہوئے ۔بعدازاں یہیں مدفون ہوئے۔ 1950 کی دہائی میں انکا مزار ایک جھونپڑی کی شکل میں ریتیلی پہاڑی پر بنایا گیا۔ 1960 میں اس مزارکی وسعت اور خوبصورتی پر کام کیا گیاجس سے زائرین کی تعداد میں بہت اضافہ ہوا۔ 1970 میں جہاں اسوقت کے وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے مزار کی وسعت اور تزین و آرائش پر بہت توجہ دی وہیں جنرل ضیاالحق کے دور میں اس کام کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ 2005سے 2007 تک کراچی میونسپل کارپوریشن نے مزار کی عمارت کی بڑے پیمانے پر مرمت اور صفائی کا کام کیا۔ 2012میں ملک ریاض حسین نے مزار کی گرتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مزار کی بحالی کا کام اپنے ذمہ لے لیا اور باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ اس وقت عمارت صرف چھ حصوں پر مشتمل تھی جو مزار، چلہ گاہ، چشمہ، مسجد، ۹ قبور اور پارکنگ کے حصے تھے ۔ مزار کی اہمیت، زائرین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کراچی نے وسیع پلان تشکیل دیا ۔ اس پلان کے مطابق مزار کا رقبہ جو کہ صرف 2000 اسکوئر فٹ تھا اور صرف 160افراد کی جگہ رکھتا تھا سے بڑھا کر 10,000اسکوئر فٹ پر پھیلا دیا گیا جو کہ مکمل ہونے پر 1000 سے زائدافراد کی گنجائش رکھے گا۔زائرین کی آمد و رفت کو متاثر کئے بغیر مزار کی توسیع کرنا بالکل آسان نہ تھا مگر بحریہ ٹاؤن کراچی نے یہ کام بہت کامیاب منصوبہ بندی کے ساتھ جاری رکھا ہوا ہے اور بہت تیزی کیساتھ اپنی تکمیل کی جانب بڑھ رہا ہے۔نئے منصوبے کے مطابق مزار کی مرکزی عمارت کے ساتھ ساتھ داخلی اور خارجی راستہ، چشمہ، چلہ گاہ، پارکنگ ، بیت الخلا، حمام، جوتے کے سٹال، واٹر فلٹریشن پلانٹ، سماع خانہ، لنگر خانہ، اوقاف کے دفاتر، لائبریری اورسیکورٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول روم بھی پلان کا حصہ ہیں۔ قبضہ حوالگی کی تقریب میں بحریہ ٹاؤن کراچی کی منیجمنٹ،اوقاف ممبران، دکاندار اور دیگر نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔اس تقریب میں دکانوں کی چابیاں حاصل کرنے والے افراد کے چہروں پر خوشی نمایاں تھی۔دیانتداری، پراجیکٹس کی بروقت تکمیل اور مالکان کو منتقلی بحریہ ٹاؤن کو ہر پاکستانی کا سب سے زیادہ پسندیدہ اور قابلِ بھروسہ ریئل اسٹیٹ برانڈ بناتے ہیں ۔

مزید : صفحہ آخر