فاٹا میں 7ہزار سے زائد آسامیاں خالی ،عوام کو مشکلات کا سامنا

فاٹا میں 7ہزار سے زائد آسامیاں خالی ،عوام کو مشکلات کا سامنا

باڑہ(نامہ نگار) فاٹا میں 7 ہزار سے زیادہ اسامیاں خالی پڑی ہیں وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈزنہ ہونے کا بہانہ کرکے فاٹا سیکرٹریٹ کی مشکلات میں اضافہ کردیا گیا۔محکمہ تعلیم فاٹا میں 4163 آسامیاں خالی ہے جبکہ محکمہ صحت میں 1335 ،زراعت میں 692 ، جنگلات میں 322 اور معدنیات میں376 جبکہ 312 اسامیاں دیگر محکموں میں خالی ہے زرائع کا چشم کشاا نکشاف۔ فاٹا اراکین پارلیمنٹ نے صرف 2 ہزار اسامیاں پرکرنے کی سفارش کی ہے جو ان کے من پسند افراد کو بھرتی کرکے انے والے الیکشن میں ووٹ حاصل کیا جائے ۔ زرائع نے مزید بتایا کہ وزارت سیفران اور وزارت خزانہ میں فاٹاکی 655تعلیمی اداروں کے لئے اساتذہ کی 4163 اسامیاں گزشتہ 6 سال سے خالی پڑی ہے محکمہ تعلیم کی333 سکولوں کے لیے 2073آسامیاں وزارت سیفران میں جبکہ322 سکولوں کے لیے2090آسامیاں فنانس ڈیپارٹمنٹ کی دفاتر میں لٹک رہی ہیں ہے لیکن تاحال ان اسامیوں کو پر کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے بجٹ میں کوئی رقم نہیں رکھی۔ زرائع نے بتایا کہ محکمہ تعلیم میں خواتین کی 386 تعلیمی اداروں کے لیے 2128 خواتین اساتذہ کی ضرورت ہے اور 269 تعلیمی اداروں 1435 مرد اساتذہ کی کمی ہے جبکہ 600 اسامیاں دیگر سٹاف کی خالی پڑی ہے۔یاد رہے کہ فاٹا کے تعلیمیافتہ نوجوان بے روز گار ہے ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے اور منفی سرگرمیوں سے باز رکھنے لے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کو زیور تعلیم سے اراستہ کرکے باعزت روزگار دیا جائے۔

مزید : کراچی صفحہ اول