ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں ،عدالت ماں کا درجہ رکھتی ہے ،ماحول خراب کرنیوالے عناصر کیخلاف کارروائی کرینگے :چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں ،عدالت ماں کا درجہ رکھتی ہے ،ماحول خراب کرنیوالے ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نظام انصاف میں ترقی کی جانب گامزن ہیں لیکن کچھ وکلاء ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں، غیر سنجیدہ عناصر اس عدالت کو نقصان پہنچا رہے ہیں جہاں سے رزق کماتے ہیں ، عدالت ہمارے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ چیف جسٹس نے ملتان کے جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کی توڑ پھوڑ کی مذمت کی اوردکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز کے حوالے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تمام اضلاع میں مستحق شہریوں کو مفت قانونی معاونت کمیٹیوں کو مزید فعال اور پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس فری لیگل ایڈ کمیٹیاں بہت عرصہ پہلے بن چکی تھیں لیکن ان کے نتائج سامنے نہیں آئے، اب اس کو یورپین یونین کے تعاون سے جدید خطوط پر استوار کیا ہے اور عوامی سہولت کیلئے اس پیغام کو عام کر رہے ہیں۔ یورپین یونین نے ہمارے ساتھ فری لیگل ایڈ کے مختلف پہلوؤں پر ہمارے ساتھ کام کیا، جسٹس علی باقر نجفی نے کو اس سارے پراجیکٹ کا انچارج مقرر کیا گیا اور انہوں نے مختلف ممالک کے دورے کئے اور وہاں موجود فری لیگل ایڈ پراجیکٹس کو دیکھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب ہم نے ایک تفصیلی کتابچہ بھی مرتب کیا ہے جس میں اس پراجیکٹ کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ ہمارا آئین اس ملک کی عوام کو انصاف تک آسان رسائی کی اجازت دیتا ہے جس کیلئے کام کرنا ہمارا فرض ہے، لاہور میں پائلٹ پراجیکٹ کے بعد اب پنجاب کے36اضلاع میں بھی یہ کمیٹیاں قائم ہونے جا رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے حکومت سے کہا کہ دو لاکھ روپے اس پراجیکٹ کیلئے ناکافی ہیں، اس لئے فری لیگل ایڈ کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند سائلین کو قانونی امداد فراہم کی جا سکے۔ میڈیا سے درخواست ہے کہ اس پیغام کو عام عوام تک پہنچائیں اور جیلوں میں موجود قیدیوں کو بھی اس پراجیکٹ سے متعلق آگاہی دی جائے تاکہ قانونی امداد نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں قید ضرورت مند لوگوں کو رہائی مل سکے۔ انہوں نے سیشن ججز کو ہدایت کی کہ فری لیگل ایڈ کے معاملات ایک مخصوص فاسٹ ٹریک عدالت میں چلائے جائیں، اس حوالے سے ایک کورٹ مختص کی جائے۔ ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہر ماہ کی رپورٹ جسٹس علی باقر نجفی کو پیش کی جائے جو لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر آویزاں کی جائے گی، اس سے سامنے آئے گا کہ صوبہ بھر میں کتنے لوگ فری لیگل ایڈ پراجیکٹ سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یورپین یونین کی جانب سے اب تک کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ملتان جوڈیشل کمپلیکس میں پیش آنے والے سانحہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پروفیشنل وکلاء کی سپورٹ ہمارا اثاثہ ہے، ہم لوگوں کو انصاف دینے کے لئے پر عزم ہیں، ہم نظام انصاف میں ترقی کی جانب گامزن ہی، لیکن کچھ وکلاء ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں، غیر سنجیدہ عناصر اس عدالت کو نقصان پہنچا رہے ہیں جہاں سے رزق کماتے ہیں جو عدالت ہمارے لئے ماں کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں ہے، پاکستان بار کونسل کے ساتھ بیٹھ کر معاملے کے ہر پہلو کا جائزہ لیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔سیمینار کا انعقاد یورپین یونین کے پنجاب میں جاری پراجیکٹ انصاف تک آسان رسائی کے تعاون سے صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کیلئے کیا گیا تھا۔چیئرمین پاکستان بار کونسل احسن بھون نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملتان میں وکلاء کی جانب سے ملتان جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ پر گہرے دکھ کا اظہارکیا اورپرزور الفاظ میں مذمت کی، انہوں نے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ سے درخواست کی کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر معاملے کی مکمل انکوائری کروائی جائے اور جو کوئی بھی اس معاملے میں ملوث پایا جائے اسکے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، وکلاء برادری عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کے ہمراہ سکائپ کے ذریعے ملتان بار کے صدر اور سیکرٹری سے بات کی اور ان کے مسائل سنے، انہیں آئندہ ہفتے چیف جسٹس کے ساتھ ملاقات کے لئے بھی بلایا گیا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ بار کے تمام مسائل حل کئے جا رہے ہیں، سیمینار کے اختتام پر انتظامیہ کی جانب سے چیف جسٹس اور دیگر معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز اور گلدستے بھی پیش کئے گئے۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ فری لیگل ایڈ سروس کیلئے ہم نے ضابطہ کار وضح کر لیا ہے، سائلین کی معاشی حالت کیساتھ ساتھ مقدمے کا میرٹ بھی دیکھا جائے گا اسی طرح وکلاء کی استعدادکار کا بھی جائزہ لے کر کمیٹی میں شامل کیا جائے گا، فاضل جج نے اس پراجیکٹ پر یورپین یونین کا بھی شکریہ ادا کیا۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ

مزید : کراچی صفحہ اول