پولیس اور عوام کے باہمی رابطوں سے جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی ممکن ہوئی ہے :وزیر قانون

پولیس اور عوام کے باہمی رابطوں سے جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی ممکن ہوئی ہے ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر قانون ، پارلیمانی امور اور انسانی حقوق امتیاز شاہد قریشی نے تحصیل شکر درہ میں اقدام قتل اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کیلئے قائم کردہ کمیٹی کے اقدامات، ڈاکٹر مظہر شاہ سمیت پولیس حکام اور تمام کمیٹی ممبران کو علاقے میں جرائم اور پرانی دشمنیوں کے خاتمے کیلئے کارکردگی کو سراہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تحصیل لاچی میں یونین کونسل سوڈل کیلئے فوری طور پر ایک پولیس چوکی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں ماضی قریب میں ایس ایچ او خان ا للہ سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو شہید کیا گیا تھا جبکہ دیگر بہت سے جرائم اور اقدام قتل کے واقعات رونما ہو چکے تھے جس سے وہاں کے عوام کا جینا مشکل ہو گیا تھا جس پر فوری ایکشن لینا ناگزیر ہو گیا تھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا سے ان کے دفتر پشاور میں ملاقات کے دوران کیا۔اس موقع پر انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین محسود نے شکر درہ میں جرائم پیشہ عناصر کے خاتمے کیلئے علاقائی عمائدین پر مشتمل ڈاکٹر مظہر شاہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ تحصیل لاچی یونین کونسل سوڈل میں پولیس چوکی پر فوری کام شروع کیا جائے گا جن کیلئے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے موقع پر ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ، ڈی پی او کوہاٹ اور دیگر متعلقہ حکام کو احکامات جاری کئے گئے جبکہ تحصیل لاچی میں خستہ حال پولیس سٹیشن کی جگہ کروڑوں روپے کی لاگت سے ایک ماڈل پولیس سٹیشن کے قیام کی منظوری بھی دی جا چکی ہے جس پر بہت جلد کام شروع کیا جائے گا تاکہ پولیس کی کارکردگی اور اثر و رسوخ مزید بڑھایا جا سکے۔آخر میں امتیاز شاہد قریشی نے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین محسود سمیت ڈی آئی جی اور ڈی پی او کوہاٹ کا بھی ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور کہا کہ پولیس اور عوام کے باہمی رابطوں سے جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی ممکن ہوتی ہے اور معاشرے میں امن و امان کی بحالی قائم ہوتی ہے۔ وزیر قانون اور آئی جی پی نے تحصیل شکر درہ میں جرائم پیشہ افراد کی بیخ کنی اور مکمل امن کے قیام تک کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا تاکہ وہاں کے عوام بلا خوف و خطر معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر سکیں اور حکومت اپنی ذمہ داریوں سے نبرد آزما ہو سکیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول