پولیو کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں ،ذاکر حسین آفریدی

پولیو کے خاتمہ کیلئے مشترکہ کاوشیں ناگزیر ہیں ،ذاکر حسین آفریدی

مردان (بیورورپورٹ)کمشنرمردان ڈویژن ذاکر حسین آفریدی نے کہا ہے کہ پولیو ایک قومی مسئلہ ہے اور اسکے خاتمے کیلئے ہم سب کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے انہوں نے تمام حکام پر زور دیا کہ 18دسمبر سے شروع ہونے والے اس مہم میں وہ اپنا کردار صحیح طریقے سے ادا کریں اور اس ضمن میں کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی تاکہ اس موذی مرض کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاسکے ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈویژنل ٹاسک فورس کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کے موقع پر کی۔ جسمیں ڈپٹی کمشنر مردان ڈاکٹر عمران حامد شیخ ، ڈپٹی کمشنر صوابی معتصم با اللہ ، ڈی ایچ او مردان ڈاکٹر فضل مالک ، ڈی ڈی ایچ او صوابی ڈاکٹر محمد طارق ، اسرار الحق ڈبلیو ایچ او مردان ، ڈاکٹر محمد ہمایون ڈبلیو ایچ او مردان ، احتراز خان ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر مردان، افتخار علی ڈی ایس پی صوابی اور دیگر موجود تھے۔ کمشنر مردان ڈویژن نے حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی مانیٹرنگ کے نظام میں مزید بہتری لائے تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطروں سے رہ نہ جائے اور وہ علاقے جہاں پر رسد میں مشکلا ت ہو ان کیلئے خصوصی پالیسی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ جہاں پر Noٹیم کے کیسز آئے ان کے خلاف فوراًایکشن لیا جائے۔ اور سپروائز ر مہم شروع ہونے سے پہلے اپنی تیاری مکمل کرلیں۔ جبکہ DPCR کو بھی مکمل طور پر فنکشنل ہونا چاہیے۔ کمشنر مردان ڈویژن ذاکر حسین آفریدی کو بتایا گیا کہ یہ مہم 18 دسمبر سے شروع ہوگا اور 20دسمبر تک چلتا رہیگا۔ جبکہ چوتھے روز 21 تاریخ کو ان علاقوں میں ٹیمیں جائیں گے جو کہ رہ چکی ہو۔ جبکہ اس مہم کے دوران مردان میں 5سال سے کم عمر کے 3لاکھ ، 86ہزار 109 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ جس کے لئے 1087موبائل ٹیمیں بسوں ، اڈوں اور ٹرانزٹ مقامات پر 40 ٹیمیں ، ہسپتالوں کے اندر 8ٹیمیں اور ہسپتالوں کے اندر فکسڈ 93ٹیمیں بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں گے۔ جبکہ 294 سپروائز ر اس مہم کی نگرانی کرتے رہیں گے۔ مردان میں یہ مہم 79یونین کونسلوں میں ہوگا، جسمیں 3افغان کیمپس بھی شامل ہیں جن میں کاگان ، باغیچہ ڈھیری اور حلالہ کیمپ شامل ہیں۔ اسی طرح صوابی میں 2لاکھ 68ہزار 794 بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ یہ مہم 56یونین کونسلوں میں جاری رہیگا۔ جن میں 2افغان کیمپس باراکئی اور گندف بھی شامل ہیں ۔ اس مہم کیلئے 764 موبائل ٹیمیں جو کہ گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گے۔ 71فکسڈ اور بس اڈوں اور ٹرانزٹ مقامات کیلئے 31ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ جبکہ 192 سپروائز رز اس مہم کی نگرانی کریں گے۔ کمشنر مردان نے تمام حکام کو واضح ہدایات جاری کی کہ عام لوگوں کے ساتھ ساتھ وہ لوگ جو کہ سفر کرتے رہتے ہیں اور ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک جاتے ہیں ان پر خصوصی فوکس رکھا جائے تاکہ کوئی بچہ پولیو کے قطروں سے رہ نہ جائے۔ دریں اثناء کمشنر مردان ڈویژن نے ڈویژنل ہیلتھ منیجمنٹ کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت نے صحت اور تعلیم کے میدان میں انقلابی اقدامات کئے ہیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ آسانیاں مل سکیں ۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جہاں پر مسائل ہیں ان کو فوراًحل کیا جائے۔ کمشنر نے ہدایات جاری کی کہ تمام متعلقہ اہلکاران اپنی کارکردگی میں بہتری لائے اور اس ضمن میں کوئی بھی غفلت ہر گز برداشت نہیں کی جائیگی۔BHUs, ، RHCs اور صحت کے دوسرے اہم مراکز میں اہلکاران اپنی سو فیصد حاضری کو یقینی بنائے اورجہاں پر وسائل کی کمی ہے وہ فوری طور پر فراہم کی جائے تاکہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات ملتی رہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر