اسموگ کے دور رس اثرات ’’موسمیاتی تغیر یا انسانی کوتاہی ‘‘ کے زیر عنوان اجلاس کا انعقاد

اسموگ کے دور رس اثرات ’’موسمیاتی تغیر یا انسانی کوتاہی ‘‘ کے زیر عنوان ...

پشاور(کرائمز رپورٹر) شوریٰ ہمدرد پشاور کا ماہانہ اجلاس گزشتہ روز پشاور کے سروسز کلب میں منعقد ہوا۔اجلاس کا عنوان’’اسموگ کے دور رس اثرات۔ موسمیاتی تغیر یا انسانی کوتاہی‘ ‘ تھا۔ اجلاس کی صدارت چےئرمین شوریٰ ہمدرد ڈاکٹر صلاح الدین نے کی ۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک دور جدید کا تعلق ہے اس میں ہونے والی ترقی جہاں انسان کو سہولیات فراہم کر رہی ہے وہیں اس کی وجہ سے صفائی اور آبی آلودگی زیادہ ہو رہی ہے ۔ پیرس میں ہونے والی موسمیاتی تغیرات پر مبنی کانفرنس میں عالمی برادری نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ تمام دنیا میں موسمی تغیرات کی وجہ سے انسانی زندگی پر مضر اثرات پڑ سکتے ہیں جس سے انسانی زندگی انتہائی منفی طور پر متاثر ہو گی لہذا اس حوالے سے امریکہ اور چین جہاں اس کے زیادہ ذمہ دار ہیں ان پر اس بات کی بھی ذمہ داری دیگر اقوام کی نسبت زیادہ ہے کہ وہ اپنی صنعتی ترقی کے حوالے سے کچھ قیود کو مد نظر رکھیں۔یہ معلوم ہونا چاہئیے کہ امریکہ اس معاہدے سے انحراف سے بعد بھی اس بات کا ذمہ دار ہو گا کہ عالمی کثافتوں کو زیادہ کرنے میں وہ اپنا کردار ادا کرنے سے غافل ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ہمیں اپنی نئی نسلوں کو یہ باور کرانا ہو گا کہ ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ایک صحت مند پاکستان کے لئے بہت ضروری ہے اس حوالے سے ہمارے ہاں سکولوں اور کالجوں میں نصاب کے اندر موسمیاتی تغیرات کے اثرات پر مبنی اسباق کو شامل کیا جانا چاہئیے ۔اس اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین اعظم خان، سردار فاروق احمد جان بابر عبدالقدیر نجفی، روشن خٹک، سفیر اﷲ خلیل، حامد محمود اورڈپٹی اٹارنی جنرل اصغر کنڈی ایڈووکیٹ نے بھی بات کی۔ اس موقع پر اصغر کنڈی نے 18 ویں ترمیم میں کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے کے بعد صوبائی حکومت پر پڑنے والی ذمہ داری کا بھی تذکرہ کیا کیونکہ اب یہ صوبائی سبجیکٹ ہے مگر ماحولیاتی اثرات کی منفی صورتحال سے بچنے کیلئے قوانین کے باوجود صوبائی حکومت یا اداروں کی غفلت ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ ایک اور سوال جو سامنے آیا وہ یہ تھا کہ فصلوں کی کٹائی کے بعد ہندوستان میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کا جو عمل ہوااور جس کی وجہ سے ہی پاکستان میں اسموگ کی شدت میں اضافہ ہوا اس پر پاکستان نے ہندوستان سے کیا احتجاج کیا؟ بحیثیت صوبائی ادارہ ہمارے ہاں جو ادارے تحفظ ماحول کے لئے کام کر رہے ہیں ان کی کارکردگی بلین سونامی تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ماحول کے حوالے سے عوام میں آگاہی کی بہت ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے ایفیکٹیو کمپےئن چلنی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔یہ مسئلہ قوانین سے حل نہیں ہو گا ۔ سکولوں، مساجد اور سرکاری دفاتر میں کمپےئن چلائی جانی چاہئیے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر