تعلیمات محمدی ؐ سے دوری مسلمانوں کی رسوائی کا موجب بن رہی ہے :راجہ فاروق حیدر

تعلیمات محمدی ؐ سے دوری مسلمانوں کی رسوائی کا موجب بن رہی ہے :راجہ فاروق حیدر

مظفرآباد( وقائع نگار)وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ معاشرے کو اسلامی بنانے کیلئے ہماری حکومت علماء کرام کی قابل عمل تجاویز کی منتظر ہے ۔ ہماری بقا سیرت النبی ؐ پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں ہے۔ تعلیمات محمدیؐ سے دوری مسلمانوں کی رسوائی کا موجب بن رہی ہے۔ علماء کرام دینی اور دنیاوی معاملات میں عوام الناس کی رہنمائی کریں۔ اس وقت دنیا میں مسلمان سب سے بڑی قوم ہیں۔ 60اسلامی ملک ہیں لیکن ہم اپنی حفاظت بھی نہیں کر سکتے۔ قبلہ اول کے تحفظ کیلئے پوری امت کو کردارادا کرنا ہوگا۔ یہ ملت اسلامیہ کی بدقسمتی ہے کہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اعلان پر غیر مسلم ممالک میں مسلم ممالک سے بڑے مظاہرے ہورہے ہیں۔ آزادکشمیر کے علماء نے مذہبی یکجہتی کیلئے ہمیشہ جاندار کردار ادا کیا۔ علماء کرام حکومت کی رہنمائی کریں تاکہ اذان کا ایک ہی وقت مقرر ہوسکے۔ علماء کرام فروعی اختلافات کے خاتمہ میں بھی کردار ادا کریں ۔ رب تعالیٰ نے ہمیں مسلمان پیدا کیا ،پاکستان کی صورت میں ایک ملک دیا ، پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے تمام مکاتب فکر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ختم نبوت ؐ ایمان کا حصہ ہے ،آزادکشمیر میں ختم نبوت ؐ سے متعلق جلد قانون سازی ہوگی۔ علماء کرام کا فرض ہے کہ وہ سیاسی مفادات کا حصہ نہ بنیں بلکہ حق بات کریں۔ مذہب سیاست کیلئے نہیں عمل کیلئے ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام قومی سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیرت النبیؐ کانفرنس سے سیکرٹری اوقاف سید نظیر الحسن گیلانی، مذہبی سکالر پروفیسر ڈاکٹر ظفراللہ بیگ نے بھی خطاب کیا۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ نبی رحمت ؐ پوری دنیا کیلئے رحمت ہیں اور آپ کی تعلیمات ساری انسانیت کیلئے ہیں ۔ حکومت آزاد کشمیر فہم قرآن کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ میری بڑی خواہش ہے کہ سرکاری سطح پر فہم قرآن کے حوالے سے کام ہو۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے اندر مذہبی قوانین کا کریڈٹ سردار محمد عبدالقیوم خان اور سردار سکندر حیات کو جاتا ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہم پر فرض ہے کہ ہم اسلام کے مطابق اپنی زندگیاں ڈھالیں۔ حکومت آزادکشمیر خطہ میں سماجی انصاف کیلئے کوشاں ہے تاکہ لوگوں کو انصاف مل سکے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ملت اسلامیہ انتشار کا شکار ہے ۔افغانستان، عراق، ایران،سعودی عرب ، یمن ، مصر سمیت مختلف ملکوں میں افراتفری ہے ۔ ٹرمپ نے ٹھیک اس دن بیت المقدس کے اندر اپنا سفارتخانہ قائم کرنے کا اعلان کیا جس دن غیر مسلموں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ کٹھ جوڑ کے خلاف غیر مسلموں نے بڑے احتجاجی مظاہرے کیے ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر کا کہنا تھا کہ سیاسی مفادات کیلئے مذہب کے استعمال نہیں ہونا چاہیے ،سیاست میں مذہب کا استعمال زہر قاتل ہے۔مذہب استعمال کیلئے نہیں عمل کیلئے ہوتا ہے ۔ علماء کرام حق بات کریں سیاسی مفادات کا حصہ نہ بنیں ۔ریاست اور مذہب کو الگ کرنے کی باتیں کرنے والے دوسرے ہی دن جا کر ایک مذہبی شخصیت کے گھر بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے علما کا شکرگزار ہوں جنہوں نے آزادخطہ کے اندر ہمیشہ مذہبی یکجہتی کی فضا برقرار رکھی۔ پاکستان کے معاملات پر آزادکشمیر کے علماء نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کے مسئلے پر پوری ملت اسلامیہ کو جاندار کردار اد ا کرنا ہوگا۔ اقتصادی اور سیاسی معاملات پر امریکہ سے تعلقات کو اہمیت نہ دی جائے۔ ملت اسلامیہ خاص طور پر اسلامی ممالک کو اب امریکہ سے تعلقات کی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ راجہ فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ اسلام دین فطرت ہے زبردستی نافذ نہیں کیا گیا۔ صادق اور امین صرف نبی اکرم ﷺ کی ذا ت ہے ،کوئی عام مسلمان صادق اور امین کی تعریف پر پورا نہیں اترسکتا۔ ہماری بقاء تعلیمات نبیؐ پر عمل پیرا ہونے میں ہے ،رب تک پہچنے کا ایک ہی راستہ ہے جو کہ حضور ﷺ کی تعلیمات اور سیر ت پر عمل پیرا ہو نے کا ہے ۔ علماء کرام دینی اور دنیاوی معاملات میں عوام الناس کی رہنمائی کریں ۔ وزیرا عظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہاکہ مجھے فخر ہے کہ 1973کی اسمبلی میں میری والدہ اور چچا محترم نے بحیثیت ممبر اسمبلی قرارداد تحفظ ختم نبوتﷺ کے حق میں ووٹ دیا۔دریں اثناء وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ خصوصی افراد بالخصوص بچے معاشرے کی اجتماعی توجہ کے مستحق ہیں ہم انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنا ئیں گے ،معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ماحول فراہم کرے جہاں کسی کو اپنی معذوری ،نابینا ہونے کا احساس نہ ہو،سپیشل ایجوکیشن سنٹر نے اپنے قیام سے لیکر اب تک شاندار کارکردگی کامظاہرہ کیا ہے اس کو آئیندہ مالی سال میں ڈگری کالج بناتے ہوے اس میں سٹاف اور مکانیت کی ضروریات پوری کرینگے ،مرحلہ وار آزادکشمیر کے دیگر اضلاع میں بھی اس طرح کے ادارے قائم کرینگے ۔اللہ رب العزت نے فرمایا ہے کہ جو نابینا ہے اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ان افراد بالخصوص بچوں کو معاشرے کا مفید شہری بنائیں گے ان کے والدین کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ پریشان نہ ہوں وہ میرے اپنے بچوں کی طرح ہیں ،بدقسمتی سے ہمارا معاشرے برائیوں کا مرکز بنتا جارہا ہے ہم ایک دوسرے کا خیال نہیں رکھتے اجتماعی تعاون کے کلچر کو پھر سے لانے کے لیے تمام مکاتب فکر اپنا کردار ادا کریں وہ دارلحکومت میں محکمہ سماجی بہبود کے زیر اہتمام سپیشل ایجوکیشن سنٹر کی تقریب سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر وزیر سماجی بہبود نورین عارف،وزیر مال فاروق سکندر ،سیکرٹری سماجی بہبود غلام بشیر مغل و دیگر نے بھی خطاب کیا اس موقع پر معذور بچوں نے رنگا رنگ پروگرام پیش کر کہ ماحول کو چارچاند لگا دیے ۔وزیراعظم آذادکشمیر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا نظام تعلیم جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں نہ ہی اس میں و ہ صلاحیت ہے کہ ایک صحت مند معاشرہ اس سے فروغ پا سکے اس کے لیے ہم نے بنیاد رکھی ہے کہ کردار سازی پر توجہ دی جاے ،نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جاے وزیراعظم نے کہا کہ جو لوگ خصوصی بچوں کی پروررش یا تربیت کرتے ہیں وہ معاشرے کے خاص لوگ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اہل دل کے تعاون سے اس طرح کے مزید ادارے بھی بنائیں گے معذوری کو بیماری قطعی نہیں بننے دینگے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر