واہ کینٹ،حکومت پنجاب کا سرکاری ملازم دوہری تنخواہ وصول کرنے لگا

واہ کینٹ،حکومت پنجاب کا سرکاری ملازم دوہری تنخواہ وصول کرنے لگا

واہ کینٹ(نمائندہ پاکستان)حکومت پنجاب کے سرکاری ملازم دوہری تنخواہ وصول کرنے لگا ٹیکسلا میوزیم صوبائی حکومت کی بجائے پنجاب حکومت میں شامل ہونے کے بعد ایک اعلی آفیسر تنخواہ و دیگر سہولیات لینے کے باؤجود ایک سرکاری یونیورسٹی سے بھی تنخواہ وصول کر رہے ہیں باوثوق زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکسلامیوزیم میں تعینات کیوریٹرعبدالناصر خان بغیر کسی اجازت اور این او سی کے قائد اعظم یونیوسٹی میں گذشتہ کئی سالوں سے پڑھا رہا ہے اور حکومت سے دوہری تنخواہ وصول کر رہا ہے کسی بھی سرکاری ملازم کا ایک ہی وقت میں دو سرکاری نوکریاں کرنا نا صرف ایک جرم ہے بلکہ غیر قانونی بھی ہے یہی وجہ ہے کہ ٹیکسلا میوزیم جو کہ ایک بین الاقوامی سطح کا میوزیم تھا آجکل زاتی مفادات کی وجہ سے غیر معیاری سہولتیں دے رہا ہے افسران اور سٹاف کی عدم دلچسبی کی وجہ سے حال ہی میں 2000سال پرانے اور قدیمی اور قیمتی نوادارات سرکپ شہر سے چوری ہو گئے اور میوزیم کے اعلی افسران نے تمام ملبہ چھوٹے ملازمین پر ڈالنے کے لیئے جھوٹی انکوائری شروع کروائی تاکہ افسران کی غفلت کو چھپایا جا سکے سرجان مارشل 1913سے جو کہ آرکیالوجی سروے آف انڈیا کو ڈائریکٹر جنرل تھا اس وقت بھی اعلی افسران کو کھنڈرات کی مرمت اور کھدائی کے وقت وہاں موقع پر تعینات رکھتے تھے مگر میوزیم کے افسران زاتی مفاد کی وجہ سے وہ بجائے میوزیم میں ڈیوٹی کریں وہ اس وقت بھی قائد اعظم یونیوسٹی میں غیر قانونی ملازمت کر کے اضافی تنخواہ کے لیئے اپنے فرائض منصبی سے منہ موڑ چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ میوزیم کا دفتری نظام درہم برہم ہو چکا ہے میوزیم کے اندر تمام شوکیسزجن میں قدیمی نوادرات موجود ہیں وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں اس کے اندر تمام لائٹس خراب پڑی ہیں اور دوسری طرف غیر ملکی سیاحوں سے بھاری فیس وصول کرنے کے باؤجود تمام باتھ رومز خستہ حالت میں ہیں کوئی غیر ملکی اور پا کستانی سیاحوں کی فریاد سننے کو تیار نہیں ہے میوزیم کا نظم و ضبط تباہ ہو چکا ہے ٹیکسلا میوزیم پوری دنیا میں ایک مقام رکھتا ہے افسران کی عدم دلچسبی کی وجہ سے میوزیم کا اندرونی حصہ گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے آنے والے سیاحوں کے لیئے سکیورٹی اور تحفظ کا کوئی انتظام نہیں ہے میوزیم کے اندر صفائی کے ناقص انتظام کی وجہ سے سیاحوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہاہے متعلقہ احکام نوٹس لیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر