کراچی ،شاعری اور انسان دوستی میں نوجوان نسل کے کردارپر مذاکراہ

کراچی ،شاعری اور انسان دوستی میں نوجوان نسل کے کردارپر مذاکراہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر)اکادمی ادبیات پاکستان کراچی کے زیراہتمام شاعری اور انسان دوستی میں نوجوان نسل کا کردار پر مذاکرہ اور مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر شیر مھدانی نے کی جب کہ مہمان خاص ڈاکٹر عبد المختار تھے اور مہمان اعزازی اقبال سیہوانی ، ہما صمدانی ،شہناز رضوی تھے، اس موقع پر رضیہ سبحان نے صدارتی خطاب میں کہا کہ شاعری اور انسان دوستی ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔دونوں میں انسان دوستی انسانیت کی بھلائی بھائی چارہ اور محبت کا پیغام واضع نظر آتا ہے۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ نوجوان نسل صوفیانہ شاعری ہو یا جدید شاعری کہ فروغ کے لیئے اپنا اپنا کردار ادا کریں ،شاعری کا پہلا پیغام ہی انسانیت کی بھلائی بھائی چارا اور محبت کا پیغام ہے ۔ جو کہ شاعری میں واضع طور پر نظر آتا ہے۔ اس موقع پر قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ شاعری اور انسان دوستی میں نوجوان نسل زندگی اہم سکون ہے انسانیت تہذیب کے اقدار کو آگے بڑھانے میں شروعاتی عنصر تربیت گاہ ہے جس میں والدین کا بھی اہم کردار ہے۔ جس کے لیئے رویوں کا درست ہونا بھی ضروری ہے۔رویے درست ہونگے تو انسانیت کے لیئے جو شاعری کا پیغام ہے اس کوعام کر نے میں نوجوان نسل اہم کردار ادا کرسکتے ہیں تا کہ معاشرے میں نفرت اور جہالت کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔اس موقع پر مشاعرے کا بھی انعقاد کیا گیا جن شعرا نے کلام سنایا ان میں حنا عمبر ، عرفان علی عابدی، ارشاد احمد دہلوی،اقبال افسر غوری، صدیق راز، قمر جہاں قمر، روبینہ ممتاز روبی، زیب انساء زیبی، شہناز رضوی، جاوید حسین صدیقی،شاہدہ عروج، عشرت حبیب، زیبہ علوی، سید منظر علی زہرہ صنم، سید صغیر احمد جعفری، رفیق مغل،سید مشرف علی رضوی،ضیاشہزاد ،محمد علی زیدی، عارف شیخ عارف،ریحانہ احسن ، جمیل ادیب سید، الطاف احمد ، قادربخش سومرو ریزیڈنٹ ڈائریکٹر نے آخر میں اکادمی ادبیات پاکستان کے جانب سے شکریہ ادا کیا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر