ملتان: سہولتیں نہ ملنے پر وکلا کا عدالتوں پر دھاوا، توڑ پھوز، ماحول خراب کرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہو گی:چیف جسٹس ہائیکورٹ، ریاست اب کارروئی نہیں مذاکرات اور معاہدہ کرے گی: رانا ثناء اللہ

ملتان: سہولتیں نہ ملنے پر وکلا کا عدالتوں پر دھاوا، توڑ پھوز، ماحول خراب ...

ملتان (خبر نگار خصوصی) وکلاء نے نیوجوڈیشل کمپلیکس میں سہولیات فراہم نہیں کرنے اورمطالبات تسلیم نہیں کرنے کے خلاف احتجاج میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت ،چیمبر اوردفاترپردھاوابول کرشیشے توڑدئیے جبکہ اہلکاروں نے دروازے بندکردئیے اورعدالتی کام بھی بند ہوگیاجبکہ پولیس اہلکار خاموش تماشائی بنے رہے بعدازاں احتجاج 3 روزتک ملتوی کرکے روانہ ہوگئے۔تفصیل کے مطابق ڈسٹرکٹ بارمیں وکلاء کی جانب سے ایک روزقبل احتجاجی اجلاس میں وکلاء کی جانب سے نیوجوڈیشل کمپلیکس میں پرامن احتجاج کرنے کافیصلہ کیاگیاجس کے لئے گزشتہ روزصبح 10 بجے وکلاء بسیں اورگاڑیاں بھرکرنیوجوڈیشل کمپلیکس کی طرف روانہ ہوگئے اس دوران کئی وکلاء بسوں کی چھتوں پر بھی سواررہے اوربسوں وگاڑیوں پر بینرزآویزاں کرنے کے ساتھ نعرے لگاتے رہے اور وکلاء نے سیاہ پرچم اٹھانے کے ساتھ بازؤوں اورسروں پرسیاہ پٹیاں بھی باندھ رکھی تھیں جبکہ احتجاجی قافلے میں عہدیداروں کے علاوہ سینئراورجونئیروکلاء کی بڑی تعدادشامل تھی۔وکلاء کاقافلہ جونہی نیو جوڈیشل کمپلیکس پہنچا تواحتجاجی قافلے میں شامل کئی وکلاء اچانک مشتعل ہوگئے اور ڈنڈے اٹھاکرڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت ودفاترکی طرف روانہ ہوگئے اس دوران کئی سینئروکلاء نے انھیں روکنے کی کوشش بھی کی نیز پولیس کی بھاری نفری بھی دیواربن گئی جس پروکلاء کی پولیس افسروں واہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی شروع ہوگئی اوروکلاء کی بڑی تعدادنے پولیس اہلکاروں کودکھیلنا شروع کردیاجبکہ کچھ دیر بعد پولیس اہلکاروں کی جانب سے مزاحمت ختم ہونے پر وکلاء کی بڑی تعداد اندرداخل ہوگئی اورڈنڈوں کے ساتھ ساتھ وہاں موجودکرسیاں اٹھاکر شیشے کے دروازوں اورکھڑکیوں میں مارنی شروع کردیں جس سے چاروں طرف شیشے ٹوٹ کربکھرگئے جبکہ الماریاں گرانے کے ساتھ گملے بھی توڑدئیے گئے اس موقع پرموجودعدالتی اہلکاربھی خوفزدہ ہوگئے اوردفاتروعدالت کے دروازے اندرسے بندکردئیے جن کو وکلاء ٹھڈے مار کر کھولنے کی کوشش کرتے رہے نیز عدالتی پولیس اہلکارعدالت کے اندرداخل ہونے سے روکنے کے لئے منتیں کرتے رہے جبکہ سیکیورٹی کے لئے طلب کی گئی پولیس نفری خاموش تماشائی بنی رہی۔بعدازاں وکلاء نے باہرنکل کردھرنادیا۔اس موقع پرنیو جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ منعقدکیاگیاجس سے صدرہائیکورٹ بارشیر زمان قریشی، ممبرپنجاب بار کونسل داؤد وینس، نفیس انصاری،خالد اشرف خان، ممتاز نور ٹانگرہ، نشید عارف گوندل،مرزا فرخ بیگ، محبوب سندیلہ،عبدالرزاق ڈوگر،ستار ملک، شاہد چاون،ریاض گیلانی، میمونہ نقوی،ارشد صابر مئیو، بابر سوئیکارنو،اقبال مہدی، واجد رضوی،قاری اکرام الحق،رانا عمیق، فرخ مصطفے،شاہ زیب اور مشتاق ٹیپو نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وکلاء عرصہ درازسے مطالبات پیش کرنے کے ساتھ معاملہ کوپرامن طریقے سے حل کرنے کے لئے کئی متبادل تجاویزبھی پیش کیں لیکن وکلاء کوخاطرمیں نہیں لایاگیااورمعاملہ کوبگاڑنے کے لئے ہی راتوں رات ضلع کچہری سے عدالتوں کوجوڈیشل کمپلیکس منتقل کردیاگیا جبکہ وکلاء کو دھوکے میں رکھاگیاکہ عدالتیں منتقل نہیں کی جارہی ہیں اورمنتقلی کے بعدبھی مکمل سہولیات فراہم نہیں کی جارہی ہیں جووکلاء کاجائزحق ہے اس لئے وکلاء اپناحق کسی کوغصب نہیں کرنے دیں گے اوراپنے حقوق لے کررہیں گے۔وکلاء نے مطالبہ کیاکہ فوری طورپر کمپلیکس میں وکلاء کو چیمبر،بارروم،مسجد،کنٹین اوردیگر تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں دیگر صورت میں وکلاء کااحتجاج جاری رہے گااوراحتجاج کادائرہ وسیع کرکے لاہورکی طرف بھی مارچ کریں گے۔اجلاس کے دوران وکلاء کی نعرے بازی بھی جاری رہی اوراجلاس ختم ہونے پروکلاء نے جوڈیشل کمپلیکس میں احتجاج 3 روز کے لئے ملتوی کرتے ہوئے دوبارہ16 دسمبر کواحتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نظام انصاف میں ترقی کی جانب گامزن ہیں لیکن کچھ وکلاء ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں، غیر سنجیدہ عناصر اس عدالت کو نقصان پہنچا رہے ہیں جہاں سے رزق کماتے ہیں ، عدالت ہمارے لئے ماں کا درجہ رکھتی ہے۔ چیف جسٹس نے ملتان کے جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کی توڑ پھوڑ کی مذمت کی اوردکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز کے حوالے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تمام اضلاع میں مستحق شہریوں کو مفت قانونی معاونت کمیٹیوں کو مزید فعال اور پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس فری لیگل ایڈ کمیٹیاں بہت عرصہ پہلے بن چکی تھیں لیکن ان کے نتائج سامنے نہیں آئے، اب اس کو یورپین یونین کے تعاون سے جدید خطوط پر استوار کیا ہے اور عوامی سہولت کیلئے اس پیغام کو عام کر رہے ہیں۔ یورپین یونین نے ہمارے ساتھ فری لیگل ایڈ کے مختلف پہلوؤں پر ہمارے ساتھ کام کیا، جسٹس علی باقر نجفی نے کو اس سارے پراجیکٹ کا انچارج مقرر کیا گیا اور انہوں نے مختلف ممالک کے دورے کئے اور وہاں موجود فری لیگل ایڈ پراجیکٹس کو دیکھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب ہم نے ایک تفصیلی کتابچہ بھی مرتب کیا ہے جس میں اس پراجیکٹ کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔ ہمارا آئین اس ملک کی عوام کو انصاف تک آسان رسائی کی اجازت دیتا ہے جس کیلئے کام کرنا ہمارا فرض ہے، لاہور میں پائلٹ پراجیکٹ کے بعد اب پنجاب کے36اضلاع میں بھی یہ کمیٹیاں قائم ہونے جا رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے حکومت سے کہا کہ دو لاکھ روپے اس پراجیکٹ کیلئے ناکافی ہیں، اس لئے فری لیگل ایڈ کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ ضرورت مند سائلین کو قانونی امداد فراہم کی جا سکے۔ میڈیا سے درخواست ہے کہ اس پیغام کو عام عوام تک پہنچائیں اور جیلوں میں موجود قیدیوں کو بھی اس پراجیکٹ سے متعلق آگاہی دی جائے تاکہ قانونی امداد نہ ہونے کی وجہ سے جیلوں میں قید ضرورت مند لوگوں کو رہائی مل سکے۔ انہوں نے سیشن ججز کو ہدایت کی کہ فری لیگل ایڈ کے معاملات ایک مخصوص فاسٹ ٹریک عدالت میں چلائے جائیں، اس حوالے سے ایک کورٹ مختص کی جائے۔ ڈی جی ڈسٹرکٹ جوڈیشری ہر ماہ کی رپورٹ جسٹس علی باقر نجفی کو پیش کی جائے جو لاہور ہائی کورٹ کی ویب سائٹ پر آویزاں کی جائے گی، اس سے سامنے آئے گا کہ صوبہ بھر میں کتنے لوگ فری لیگل ایڈ پراجیکٹ سے مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے یورپین یونین کی جانب سے اب تک کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے ملتان جوڈیشل کمپلیکس میں پیش آنے والے سانحہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پروفیشنل وکلاء کی سپورٹ ہمارا اثاثہ ہے، ہم لوگوں کو انصاف دینے کے لئے پر عزم ہیں، ہم نظام انصاف میں ترقی کی جانب گامزن ہی، لیکن کچھ وکلاء ماحول خراب کرنا چاہتے ہیں، غیر سنجیدہ عناصر اس عدالت کو نقصان پہنچا رہے ہیں جہاں سے رزق کماتے ہیں جو عدالت ہمارے لئے ماں کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمیں کسی چیز کا ڈر نہیں ہے، پاکستان بار کونسل کے ساتھ بیٹھ کر معاملے کے ہر پہلو کا جائزہ لیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔سیمینار کا انعقاد یورپین یونین کے پنجاب میں جاری پراجیکٹ انصاف تک آسان رسائی کے تعاون سے صوبہ بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کیلئے کیا گیا تھا۔چیئرمین پاکستان بار کونسل احسن بھون نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملتان میں وکلاء کی جانب سے ملتان جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ پر گہرے دکھ کا اظہارکیا اورپرزور الفاظ میں مذمت کی، انہوں نے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ سے درخواست کی کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر معاملے کی مکمل انکوائری کروائی جائے اور جو کوئی بھی اس معاملے میں ملوث پایا جائے اسکے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، وکلاء برادری عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کے ہمراہ سکائپ کے ذریعے ملتان بار کے صدر اور سیکرٹری سے بات کی اور ان کے مسائل سنے، انہیں آئندہ ہفتے چیف جسٹس کے ساتھ ملاقات کے لئے بھی بلایا گیا ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ بار کے تمام مسائل حل کئے جا رہے ہیں، سیمینار کے اختتام پر انتظامیہ کی جانب سے چیف جسٹس اور دیگر معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز اور گلدستے بھی پیش کئے گئے۔بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹس علی باقر نجفی کا کہنا تھا کہ فری لیگل ایڈ سروس کیلئے ہم نے ضابطہ کار وضح کر لیا ہے، سائلین کی معاشی حالت کیساتھ ساتھ مقدمے کا میرٹ بھی دیکھا جائے گا اسی طرح وکلاء کی استعدادکار کا بھی جائزہ لے کر کمیٹی میں شامل کیا جائے گا، فاضل جج نے اس پراجیکٹ پر یورپین یونین کا بھی شکریہ ادا کیا۔

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وکلا کے احتجاج کے نتیجے میں جو نقصان ہوا ہے، پہلے اسے درست کیا جائے گا اور پھر مزید سہولیات کی فراہمی ہوگی، جس میں کافی وقت لگے گا۔وزیر قانون نے کہا کہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وکلاء کی منت سماجت کرے اور مظاہرہ کرنے والے معزز وکلاء کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم وکلاسے مذاکرات کے ذریعے معاہدہ کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر اس حوالے سے مشکلات پیش آئیں تو کسی اور کو شامل کرکے معاہدہ کریں گے۔رانا ثناء نے بظاہر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا قومی بیانیہ یہی ہے کہ جو بھی احتجاج کر رہا ہو، ان کے ساتھ معاہدہ کرلیا جائے اور مظاہرین کے خلاف درج کیے گئے مقدمات واپس لے لیے جائیں۔ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ حق کے لیے احتجاج کرنے پر کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کریں گے تو ہی بات سنی جائیگی اس بات کا سب کو علم ہو چکا ہے۔ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اب کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور معاہدہ ہو گا۔ وکلا کے بھی کچھ مذاکرات تھے جو پورے نہیں ہوئے ، وکلا غصے میں ہیں اسی لیے توڑ پھوڑ کر رہے ہیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے وکلا کی نگامہ آرائی کی حمایت کر دی اور کہاکہ اب وکلا کی بات سنی جائے گی۔جس نے بھی مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کرنا ہے کرے۔

مزید : ملتان صفحہ اول