اسحاق ڈارکیخلاف ریفرنس کی سماعت 18 دسمبر تک ملتوی، استغاثہ کے 5 گواہان طلب

اسحاق ڈارکیخلاف ریفرنس کی سماعت 18 دسمبر تک ملتوی، استغاثہ کے 5 گواہان طلب
اسحاق ڈارکیخلاف ریفرنس کی سماعت 18 دسمبر تک ملتوی، استغاثہ کے 5 گواہان طلب

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) احتساب عدالت میں اسحاق ڈارکیخلاف ریفرنس کی سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے اگلی سماعت پر استغاثہ کے 5 گواہان کو طلب کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے نیب ریفرنس کی سماعت اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ہوئی ۔ جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنس کی سماعت کی۔ اسحاق ڈار بیرون ملک ہونے کے باعث آج (بدھ کو) بھی احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے ۔ استغاثہ کے گواہان مسعود غنی اور عبدالرحمان گوندل بھی عدالت میںپیش ہوئے اور عدالت کا طلب کردہ ریکارڈ جمع کرایا۔ عبدالرحمان گوندل نے اسحاق ڈار کی 2005 سے 2017 تک کی آمدن کی تفصیلات عدالت کے روبرو پیش کیں۔ چونکہ دونوں گواہان کے بیانات گزشتہ سماعت پر ریکارڈ ہوچکے تھے اس لیے عدالت نے انہیں حاضری لگانے کے بعد جانے کی اجازت دے دی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : جدت کو انحطاط خیال کرنے والے انتہا پسند کے لیے مملکت میں کوئی جگہ نہیں: شاہ سلمان

آج کی سماعت میں احتساب عدالت میں استغاثہ کے گواہ نجی بینک کے ملازم عظیم خان کابیان ریکارڈ کیا گیا۔ استغاثہ نے اگلی سماعت پر عدالت سے 9 گواہان کو پیش کرنے کی اجازت طلب کی جس پر عدالت نے 5 گواہوں کی طلبی کے سمن جاری کردیے۔عدالت کی جانب سے ڈپٹی سیکرٹری کابینہ ڈویژن آصف حسین ، ڈپٹی ڈائریکٹرکامرس قمرزمان ، قابوس عزیز، ڈائریکٹر قومی اسمبلی شیر دل خان اور نجی بینک کے فیصل شہزاد کو اگلی سماعت پر طلب کیا گیا ہے ۔ احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی مزید سماعت 18 دسمبر تک ملتوی کردی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کو دل کی بیماری نہیں وہ جان بوجھ کر سماعت سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں ، احتساب عدالت کا تفصیلی فیصلہ جاری

واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر اسحاق ڈار کو احتساب عدالت کی جانب سے اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ اسحاق ڈارسماعت کے دوران 30 اکتوبر، 2نومبر، 8نومبر، 14 نومبر، 21نومبر، 4دسمبر اور 11 دسمبر کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے، وہ طلبی اور وارنٹ گرفتاری کے اجرا سمیت بذریعہ اشتہار طلبی کے احکامات کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے اس لیے انہیں اشتہاری قرار دیا جاتا ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں